کوئٹہ، سی ٹی ایس پی اساتذہ کے احتجاج کو 29روز مکمل
کوئٹہ،پریس کلب کوئٹہ کے سامنے محکمہ تعلیم کے ٹیچنگ اسٹاف کے آسامیوں کے لئے شارٹلسٹڈ اساتذہ کرام کا بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 29 دن مکمل ہوگئے مئی 2019 میں مشتہر آسامیوں پر سی ٹی ایس پی کے تحت ٹیسٹ منعقد ہوئے تھے جس پر نتائج مکمل ہونے کے بعد منتخب اساتذہ کرام کو تاحال آرڈرز جاری نہ ہوسکے تعنیاتی کے منتظر اساتذہ کرام کے جانب سے کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا بھی دیا گیا تھا جہاں صوبائی وزراء کے موجودگی میں ان سے دو ہفتوں کے اندرز تعنیاتی کا وعدہ کیا گیا لیکن سی ٹی ایس پی کے تحت منتخب اساتذہ کرام اب بھی تعنیاتی کے منتظر یے کوئٹہ میں شدید سردی کے باوجود بھوک ہڑتالی کیمپ میں دور دراز علاقوں سے اساتذہ کرام کیمپ میں آکر شرکت کرتے یے کیمپ میں بیٹھے اساتذہ کرام نے کہا یے کہ ہم گذشتہ کئی ڈیڈھ سال سے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے کے بعد احتجاج پر بیٹھنے پر مجبور ہوچکے ہے دفاتر میں تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں مل سکی اسی لئے اب احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہے بلوچستان جہاں تعلیمی پسماندگی اور اسکولوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں 27 سو اسکول اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہے جہاں ایمرجنسی بنیادوں پر اساتذہ کرام کے تعنیاتی کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو اسکول میسر ہوسکے لیکن محکمہ تعلیم کے پیچیدہ طریقہ کار آسامیوں پر اسٹے آرڈرز و دیگر وجوہات کی وجہ سے ہر 5 سال بعد آسامیوں پر بھرتیاں ہوتی ہے گذشتہ دفعہ 2015 میں اساتذہ کی بھرتیاں ہوئی تھی جبکہ اسکے بعد اس سے دگنا تعداد میں اساتذہ کرام ریٹائرڈ ہوئے فوتگی و نئے اسکولوں کے قیام کے سرکاری دعوے بھی سامنے آئے جبکہ پہلے ہی منتشر آبادی اسکولوں کی کمی کی وجہ سے 60 فیصد سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہے ان صورتحال میں تعلیمی ایمرجنسی کے بنیاد پر ہفتوں میں بھرتیوں کے سلسلے کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے لیکن اسکے باوجود تعلیمی حوالے سے اقدامات نہ ہونا آفسوس ناک ہے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی اساتذہ کرام نے بلوچستان حکومت سے تعنیاتی آرڈرز جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے


