کورونا وائرس کے 99 فیصد مریض صحت یاب

ہارورڈ یونیورسٹی کے محقق رابرٹ ایچ شمر لنگ کا کہنا ہے کہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کورونا سے متأثر ہونے والے99فیصد مریض تندرست ہو چکے ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر علامات ظاہر ہی نہیں ہوئیں دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 1فیصد سے بھی کم ہے۔جبکہ اس سے پہلے سب سے زیدہ تباہی پھیلانے والا”ایبولا وائر س“تھا جس کی شرح اموات90فیصد تھی۔شرح اموات کے لحاظ سے دوسرے نمبرپر ”مڈل ایسٹرن ریسپائریٹری سنڈروم“ ہے اس کی شرح اموات 34 فیصد تھی تیسرے نمبر سارس کی وبا ہے جس کی شرح اموات11فیصد ریکارڈ ہوئی۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق چین میں مقامی سطح پر کورونا وائرس پر قابو پا لیا گیا ہے نئے مریض بہت تھوڑے سے ہیں اور وہ بھی بیرونِ ملک سے آ رہے ہیں۔امریکی محقق سمجھتے ہیں کہ چین کی صورتِ حال دیکھ کر امید پیدا ہوتی ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کوکنٹرول کرنے کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں۔رابرٹ ایچ شمرلنگ کہتے ہیں سرکاری اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے وائرس سے بہت کم متأثر ہوئے ہیں اگر تھوڑی بہت تعداد متأثر ہوئی ہے تب بھی ان کی بیماری کی نوعیت معمولی تھی۔والدین اور بچوں کے لئے یہ اچھی خبر ہے۔البتہ کورونا وائرس نے عالمی نظامِ صحت کی قلعی کھول دی ہے اس سے سبق ملا ہے کہ صحت کے نظام کو درست کیا جائے۔ٹیسٹنگ کٹس کی ترسیل بروقت اور بہتر ہونی چاہیے اور لوگوں کو جلد آگاہ کرنے کا نظام وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں اتنے بڑے پیمانے پر دنیا کو جانی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔انسانی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کسی بھی بیماری کا پہلا حملہ انسان کے لئے اجنبی اور بے خبری کے عالم میں ہوتا رہا ہے،اس کا علاج دریافت ہونے میں ہمیشہ وقت لگا۔ایسی ہی صورتِ حال کورونا وائرس کے نمودار ہونے پر دیکھی گئی۔آنے والے برسوں میں اس کا علاج دریافت ہو جائے گا اور ابتدائی مراحل میں ہی اس کی شدت پر قابو پانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔پاکستان میں ابھی تک وینٹی لیٹر تیار کرنے کی سہولت نہیں تھی اب تک درآمد کئے جاتے تھے۔ چین نے 120 وینٹی لیٹر عطیہ کئے ہیں جو جمعہ تک پاکستان پہنچ جائیں گے۔چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے میڈیا کو بتایا ہے بیرون ملک سے آنے والے سامان سے مسافروں کی بہتر اسکریننگ کی جا سکے گی۔5اپریل تک تمام ہیلتھ ورکرز کو حفاظتی سامان فراہم کردیا جائے گا۔ملک میں بھی تیاری تیز کردی ہے۔وزیر اعظم کے معاون برائے صحت ظفر مرزانے کہا ہے کہ پاکستان میں بھی کٹس بنانا بہت جلد شروع کر دیں گے۔ چلیں پاکستان کی وزارت صحت اس شعبے میں کچھ تو آگے بڑھی ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے ایک آل پارٹی کانفرنس بلانے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس بھی لاک ڈاؤن کے بعد منعقد ہو سکے گا۔ملکی اور قومی مسائل پربحث کی اشد ضرورت ہے۔اپوزیشن کی جانب سے مل کر کام کرنے کی پیشکش ایک سے زائد مرتبہ کی جا چکی ہے مگر حکومت تاحال اس پیشکش کا جواب دینے میں تساہل کا شکار ہے۔وجوہات سے سب واقف ہیں رنجشیں دور ہونے میں وقت لگے گا۔کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی مشترکہ حکمت عملی بنانے کا وقت گزر چکا ہے۔اب جو کچھ کیا جائے گا الگ لگ ہو سکتا ہے مگر حکومت اور اپوزیشن کا ایک جگہ بیٹھنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔کورونا اتنا بڑا مسئلہ نہیں جو پاکستانی سیاست میں پڑنے والی دراڑوں کو ملا سکے۔پی ٹی آئی نے 22سال تک اپوزیشن میں بیٹھی جماعتوں کو جی بھر کے برا بھلا کہا ہے 126روزہ دھرنا ماضی قریب کا واقعہ ہے۔جو کچھ کہا تھا کہنے اور سننے والے بھولے نہیں۔ایسے ماحول کو قربتوں میں تبدیل کرنے کے بہت زیادہ بائنڈنگ فورس درکار ہے،کورونا نے دو تین ہفتوں میں رخصت ہو جانا ہے، یہ بات دونوں کو معلوم ہے،دونوں چاہیں گے یہ ہفتے خیریت سے گزر جائیں حکومت وزیر اعظم محمد نواز شریف کو لندن بھیج کر ابھی تک اپوزیشن کی جلی کٹی تنقید سن رہی ہے،اپوزیشن کے قریب آتے ہی اس پر ان جانا خوف طاری ہو جاتا ہے۔عجیب معاملہ ہے اس کے کانوں میں ”ڈیل یا ڈھیل“ کی سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں۔میڈیا بھی ان کے تعاقب میں ہے، کوئی گوشہئ تنہائی دستیاب نہیں، صحافی مسکراہٹ سے سر کھجانے تک کی تمام جسمانی حرکات و سکنات کے معنوں کی ڈکشنری اٹھائے چپے چپے پر گھوم رہے ہیں۔حکومت خوفزدہ ہے۔نہ جانے کب کس سوال پر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر جائے جسے میڈیا اپنی پسند کے معنے پہنا کر بات کا بتنگڑ بنا دے۔ان حالات میں اپوزیشن خاموش تو نہیں بیٹھے گی۔ اور کچھ نہ کر سکی تو اے پی سی بلاکر مولانا سے دھرنے کے راز اگلوانے کی کوشش ضرور کرے گی۔ممکن ہے مولانا فضل الرحمٰن پر ہجوم پریس کانفرنس کو دیکھ کر وہ سب اپنی زبان پر لے آئیں جس سے پرہیز کرنے کا مشورہ دینے چوہدری شجاعت حسین چند ہفتے پہلے مولانا کے گھر تشریف لا چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔بروٹس کازندہ جاوید کردارہردور میں لوگوں کو یاد آتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply