نیب:نواب زہری کیخلاف تحقیقات، سادات قمبرانی و ظہیر ہزارہ کیخلاف ریفرنس کی منظوری

اسلام آباد: چیئرمین نیب نے متعدد ریفرنس اورانکوائریز کی منظوری دیدی ہے بدھ کے روز قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، ایڈوائزر لیگل ٹو چئیرمین،ڈی جی آپریشنز نیب اور دیگر سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی سرکاری زمین الاٹ کرنے کے کے الزام میں سابق چیئرمین کے پی ٹی احمد حیات اور سابق جنرل منیجر کے پی ٹی سید جمشید زیدی،، سی ای او کراچی انٹرنیشنل ٹرمینل خرم ایس عباس و دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان نے قومی خزانہ کو 21.45ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔اجلاس میں قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں محمد فاروق سابق چئیرمین بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی،سادات انور قمبرانی،سابق چئیرمین بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی،علی ظہیر ہزارہ،سابق چئیرمین بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی،جاویدخان, ڈائریکٹربلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبہ میں غیر قانونی ٹھیکے دینے کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانہ کو 984.86ملین روپے کا نقصان پہنچا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں (8)انکوائریز کی منظوری دی گئی۔جن میں سردار جعفر خان لغاری رکن قومی اسمبلی ڈیرہ غازی خان اور دیگر،شوکت علی یوسف زئی وزیراطلاعات خیبر پختونخواہ اور دیگر،احمدنواز چئیرمین،حمید اکبر خان سابق ضلعی ناظم بھکر،خالد سعید جنرل منیجر ٹیکنیکل لیسکو لاہور اور دیگر،محمد انور ورک سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس اور دیگر،امریکن انٹرنیشنل سکول سسٹم کو غیرقانونی زمین الاٹ کرنے والے افسران /اہلکاران اور اسکول سسٹم لاہور کی انتظامیہ،راجہ خان مہررکن صوبائی اسمبلی سندھ،منشی حیات،سچل مہر،سپروائزرامان اللہ،فیصل میمن سابق سی ایم او،نادر شاہ امروتی ٹی ایم اور،سٹی سپروائزر،لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ ضلع گھوٹکی کے افسرا ن و اہلکاران اور دیگر، امانت اللہ خان سابق وزیر آبپاشی اور دیگر،رانا عبد الرؤف رکن صوبائی اسمبلی،رانا عاطف (سابق چئیرمین ایم سی بہاولپور)،ایم سی بہاولپور کے اہلکاران،پی ایچ ای اور کنٹریکٹرزکے خلاف انکوائریز کی منظوری شامل ہے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں (08) انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی۔ جن میں نواب ثناء اللہ زہری،سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور دیگر،کے پی ٹی افسران و اہلکاران اور دیگر،آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ کے افسران واہلکاران اور دیگر،محکمہ اوقاف خیبر پختونخواہ کے افسران و اہلکاران اور دیگر،بلوچستان ڈوپلپمنٹ اتھارٹی کی انتظامیہ،پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر،منظور ا حمد ملک سابق آفیشل،ایس ایس پی آفس جیکب آباد اور دیگر،عبدالحمید کاٹومختیارکار(ریونیو)،ریونیو کشمور کے افسران و اہلکاران اور دیگر،ڈاکٹر فضل کریم سابق ای ڈی او ہیلتھ خانیوال اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشنز کی منظوری شامل ہے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں منظور احمد وٹوسابق وزیر انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن اور دیگر،الیاس خان سابق سینئر جوائنٹ سیکرٹری،وزیر برائے بین المذاہب ہم آہنگی اور دیگر،نظیر احمد سومروڈپٹی منیجر ایس ایس ٹی ڈویژن سیپکو سکھر اور دیگر کے خلاف انکوائریز اب تک کے عدم ثبوت کی بنیاد پر قانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں چوہدری مسعود احمد سابق رکن صوبائی اسمبلی،چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران و اہلکاران،ریونیو ڈیپارٹمنٹ لیاقت پور اور دیگرکے خلاف تحقیقات کا معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے بورڈ آف ریونیو محکمہ بلدیات کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں کینال گارڈن ہاؤسنگ اتھارٹی کے مالکان/ڈویلپرزبہاولپور اور دیگرکے خلاف تحقیقات کا معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے ڈپٹی کمشنربہاولپور کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں درائیس سی مینوالا اور دیگرکے خلاف تحقیقات کا معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں واٹر اینڈ سنیٹیشن سروسز پشاور خیبر پختونخواہ کے افسران و اہلکاران کے خلاف تحقیقات کا معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو بھیجنے کا فیصلہ کیاگیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اورکرپشن فری پاکستا ن نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر قانون کے مطابق عمل پیرا ہے۔ نیب انسداد بدعنوانی کا قومی ادادرہ ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔نیب نے اپنے قیام سے اب تک 714 ارب روپیجبکہ موجودہ قیادت کے دور میں 487ارب روپے بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔نیب کی احتساب عدالتوں میں ملزمان کو سزا دلوانے کی شرح 68.8فیصدہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزازکی بات ہے،چئیرمین نیب نے ہدایت کی کہ جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیزاور کووآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ بد عنوان عناصر سے متاثرین کو لوٹی گئی رقوم بر آمد کر کے بر وقت حقداران کو قانون کے مطابق واپس کی جا سکیں۔#/s#

اپنا تبصرہ بھیجیں