بی این پی سینیٹ کے ٹکٹ ملک ولی کاکڑ اور ساجد ترین کو دے کر بلوچستان کی اجتماعی پارٹی کا مقام حاصل کرے، وحید بلوچ

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین و سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی وحید بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بی این پی کو اس بار سینیٹ کی ٹکٹ ملک عبدالولی کاکڑ اور ساجد ترین ایڈووکیٹ جو پختہ سیاسی کارکن ہیں دونوں کو دے کر بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچستان کی مکمل اور اجتماعی پارٹی کے درجہ اور مقام حاصل کرے بلکہ عملی طور پر پارٹی کے نام اور اغراض و مقاصد کی پیروی کرنی چاہیے۔ بلوچستان کے موجودہ حالات اس عمل کے متقاضی ہیں اس فیصلے سے بلوچستان کی سیاسی فضا پہ انتہائی مثبت اثرات ہوں گے۔ اور پارٹی کی سیاسی تاریخ میں یہ فیصلہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ میری اس سیاسی رائے کا مقصد نہ کسی کی دل آزاری ہے اور نہ کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت دینے یا پسند اور نا پسند کی بنیاد پر ہے۔ اور نہ کسی سیاسی کارکن کی محنت اور پارٹی سے لگا کو تولنے اور ناپنے کی بنیاد پر ہے۔ میری نظر میں پارٹی کا ہر کارکن یکساں محترم ہے اور پارٹی کا نمائندہ ہے اور جماعت اور قائدین کو کارکنوں میں کوئی تفریق نہیں کرنی چاہیے۔ میری رائے خالصتا بلوچستان کی ماضی، موجودہ اور مستقبل کے سیاسی حالات کے تناظر میں ہے اس وقت بلوچستان میں بی این پی واحد پارٹی ہے جس میں پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ اور ملک عبدالعلی کاکڑ کے فرزند اور پشتوں سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق مرکزی عہدیدار ملک عبدالولی کاکڑ اور دیگر پشتون سیاسی کارکن شامل ہیں۔اگر بلوچستان کی دوسری سیاسی پارٹیوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ یہ نمائندگی کرنے سے قاصر ہیں ہیں۔ مثلا نیشنل پارٹی میں کچھ پشتوں سیاسی کارکن ہوں گے لیکن وہ سیاسی پختگی اور سیاسی قیادت کے اس عمل سے نہیں گزرے ہیں جن سے بی این پی کے ان قائدین کا ماضی یا موجودہ کردار ہے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی خالصتا پشتون پارٹی ہے اور بلوچستان کی موجودہ انتظامی اور سیاسی ڈھانچے اور جغرافیہ پر یقین نہیں رکھتی جمعیت علما ء اسلام میں گو کہ بہت سارے بلوچ اور پشتوں سیاسی کارکن اور قائدین ہیں لیکن پارٹی کی بنیادیں اور نظریہ مذہبی فلسفے پر رکھی گئی ہیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور دیگر پاٹیوں میں بلوچستان کے ابن الوقت بلوچ، پشتوں اور دیگر لسانی گروہوں کے لوگ اپنی ضرورتوں اور حالات کے تحت شامل اور خارج ہوتے رہتے ہیں اس لیے اب یہ تاریخی ذمہ داری بلوچستان نیشنل پارٹی آپڑی ہے کہ وہ بلوچستان میں آباد بلوچ پشتون سمیت دیگر لسانی گروہوں کی نمائندہ جماعت بن کر ابھرے اور ایک بلوچستان کے نعرے کو عملی طور پر آگے بڑھائے تاریخ میں نہ تو باربار یہ مقام آتے ہیں اور نہ باربار تاریخ یہ موقع دیتی ہے اس لئے بعض اوقات سخت اور دشوار فیصلے کرکے مستقبل کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش اور جستجو کی جاتی ہے بی این پی واحد جماعت ہے جو بلوچستان میں بلوچوں اور دیگر لسانی گروہوں کو یہ یقین دلاسکتی ہے کہ اس کی سیاست لسانی بالادستی اور تعصب کی بنیاد پر نہیں ہے اور یہ فیصلہ اس جانب پہلا قدم ہوگا اگر ساجد ترین ایڈووکیٹ اور ملک عبدالولی کاکڑ کو سینیٹر بنایا جائے مجھے یقین ہے کہ بلوچستان کی سیاست ایک نئی اور مثبت راہ پر نکلے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں