بھاگ، درختوں کی کٹائی جاری، محکمہ جنگلات کے اہلکار غائب

بھاگ:بھاگ کے گردونواح میں درختوں کی کٹائی جاری ہے اس حوالے سے محکمہ جنگلا ت کے ذمہ دار اور اہلکار کہیں پر بھی ظاہرنہیں ہیں بھاگ شہر میں آج تک کسی کو بھی معلوم نہیں آیا بھاگ شہر میں محکمہ جنگلات کا کوئی دفتر ہے بھی یا نہیں؟ روزانہ کی بنیاد پر بھاگ کے گردونواح میں درختو ں کی کٹائی کا کام زور شور کیساتھ جاری ہے ایک طرف ہمارے حکمران شجر کاری مہم کا افتتاح کرتے ہیں اور دعوہ کیاجاتاہے کہ ہزاروں، لاکھوں درخت لگائے جائینگے یا لگائے گئے ہیں لیکن یہ امر باعث افسوس ہے کہ دوسری جانب سے بھاگ کے گردونواح میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کی تعداد میں درختوں کی کٹائی جاری ہے باخبر ذرائع کے مطابق درختوں کی کٹائی کو محکمہ جنگلات کے اہلکار دیکھنے کے بادجود بھی کچھ نہیں کررہے ہیں جو لوگ درختوں کی کٹائی کررہے ہیں یا اس غیرقانونی کام میں ملوث ہیں ان کیخلاف جان بوجھ کرکاروائی نہ کرنا یہ ماحولیاتی آلودگی سمیت علاقے کے خوبصورتی کے حوالے سے بھی سوالیہ نشان ہے محکمہ جنگلات کا بھاگ شہر میں دفتر نہ ہونا ایک اہم سوال ہے اگر دفتر ہے تو صرف کاغذی کاروائی میں ہے لیکن ظاہری طور پر شہر میں کہیں پر بھی نظر نہیں آرہاہے درختوں کی کٹائی کے حوالے سے بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی اپنے طریقے سے درختوں کی کٹائی جاری رکھا ہوا ہے حالانکہ جو فالتو درخت ہیں ان کیلئے بھی کوئی طریقہ کار ہونا چاہیے لیکن یہاں پر کوئی ایسا نہ تو طریقہ کار ہے اور نہ ہی اس حوالے سے محکمہ جنگلات نے یہاں کے لوگوں کو درختوں کی کٹائی کے حوالے سے ان کے نقصانات اور فائدے کے بارے میں کوئی آگاہی فراہم نہ کرنا بھی اس جرم میں محکمہ جنگلات خود برابر کی شریک ہیں بھاگ کے عوامی سماجی حلقوں نے حکام بالا وزیر اعلی بلوچستا،صوبائی وزیر جنگلات،چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیاکہ بھاگ میں درختوں کی بے دریغ کٹائی اور بھاگ شہر میں محکمہ جنگلات کے دفتر کا نہ ہونے کا بھی فوری طور پر نوٹس لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں