بلوچستان میں سیلاب متاثرین کمسن بیٹیاں بیچنے پر مجبور

گزشتہ سال بلوچستان کے کئی علاقوں میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی،لوگوں کے گھر جانے کے علاوہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے شدید متاثر ہونے سے غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔گزشتہ سال مون سون بارشوں کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب سے بلوچستان کا نصیر آباد ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا ،سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے یہاں غربت کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔اس صورتحال کی وجہ سے کئی غریب افراد اپنا مال و اسباب بیچنے پر مجبور ہوئے تو کئی نے علاقے کے امیر افراد سے قرض لیا، قرضوں کے ٹریپ میں آنے کے بعد جب غریب لوگوں کیلئے قرضہ کی ادائیگی ممکن نہ رہی تو بعض علاقوں میں قرض کے بدلے میں کمسن لڑکیاں بڑی عمر کے افراد کو شادی کیلئے فروخت کرنے کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔

کمشنر نصیر آباد طارق قمر سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں، نہ ایسا کوئی واقعہ رپورٹ ہوا ہے، البتہ وہ ان واقعات کے حوالے سے معلومات حاصل کر رہے ہیں ۔دوسری جانب علاقے میں آزاد ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بعض افراد اپنے معاشی حالات کی وجہ سے باہمی رضامندی سے اپنی بچیوں کی شادی بڑی عمر کے افراد سے کر دیتے ہیں، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بچیاں بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہوتی ہِیں جس کےبعد ان کی شادی کی جاتی ہے۔

جیکب آباد، 3 لاکھ کے عوض کمسن بچی کی شادی کرانے کی کوشش کرنیوالا باپ گرفتارشکارپور میں چار کمسن بچوں کی شادی کی کوشش ناکاملاہور میں کمسن بچی کی 40 سالہ شخص سے شادی کی کوشش ناکام
رپورٹ کے مطابق ایک مزدور بیوی کے آپریشن اور دواؤں کے خرچے کی وجہ سے سود خور کے قرض کے بوجھ تلے دب گیا ، قرض واپس نہ کرسکا تو 10 سال کی بیٹی کو 40 سال کے شخص کے ہاتھوں بیچ دیا۔

رپورٹ کے مطابق ایک اور شخص نے 11سال کی بچی کو 60 سال کے شخص کو فروخت کردیا ، پی ڈی ایم اے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ سیلاب کے بعد کم عمر بچیوں کو بیچ کر شادیاں کرنے کے واقعات 13 فیصد بڑھ گئے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی حکام ان واقعات کی روک تھام میں کیوں ناکام ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں