آج بلوچستان کے طول و عرض میں عوام جمعیت میں شمولیت کے لیے بے چین ہیں،سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ (آن لائن) جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے قلعہ سیف اللہ میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات، قبائلی عمائدین اور معززین کی جمعیت علما اسلام میں گرینڈ شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علما اسلام اس وقت بلوچستان کی سب سے بڑی عوامی تائید یافتہ، نظریاتی اور عوامی خدمت کا ریکارڈ رکھنے والی جماعت ہے، صوبے کی در و دیوار اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ جمعیت علما اسلام نے اپنے محدود دورِ حکومت اور محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور دیگر شعبوں میں بے شمار خدمات سرانجام دی ہیں اور یہی عملی خدمت آج بھی عوام کے دلوں میں جمعیت کے لیے اعتماد اور محبت کا باعث ہے، انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کے طول و عرض میں عوام جمعیت علما اسلام میں شمولیت کے لیے بے چین ہیں اور مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ جوق در جوق جمعیت کے قافلے میں شامل ہو رہے ہیں، حالات میں بہتری آنے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ جمعیت علما اسلام کے پاس عوام کا ایک ایسا جمِ غفیر روزانہ شامل ہوتا جائے گا جس سے یہ بات مزید واضح ہوگی کہ عوام نے وقتی نعروں، جذباتی سیاست اور خوشنما دعوں کے بجائے عملی خدمت، نظریاتی وابستگی اور مستقل جدوجہد کو اپنا راستہ منتخب کر لیا ہے، انہوں نے کہا کہ آج قلعہ سیف اللہ میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نئے شامل ہونے والے معززین نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ سیاست اور عوامی خدمت کے فیصلے وقتی جذبات یا خوشنما نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی سفر، کردار، نظریے اور عملی خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں، جمعیت علما اسلام کی اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے جدوجہد ہو، آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد ہو، عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہو یا محدود وسائل میں عوامی خدمت کا سلسلہ ہو، یہ سب ایک طویل اور مسلسل سفر کا حصہ ہے، لہذا اس جدوجہد کا سہرا کسی ایک شخص، کسی ایک رہنما یا کسی ایک منتخب نمائندے کے سر نہیں جاتا بلکہ یہ جمعیت علما اسلام کی طویل نظریاتی رفاقت، کارکنوں کی قربانیوں، عوامی وابستگی اور نسل در نسل جاری جدوجہد کا نتیجہ ہے، انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام نے ہمیشہ اصولوں اور نظریے کی سیاست کو ترجیح دی ہے اور مشکل ترین حالات میں بھی اپنے مقف سے پیچھے نہیں ہٹی، یہی وجہ ہے کہ آج بھی بلوچستان کے عوام جمعیت علما اسلام کو اپنے مسائل کے حل، حقوق کے تحفظ اور اسلامی و جمہوری اقدار کی پاسداری کی ایک مضبوط آواز سمجھتے ہیں، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے مفکرِ اسلام مولانا مفتی محمود کی تاریخی اور نظریاتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 7 ستمبر 1974 ہماری قومی، آئینی اور اسلامی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن ہے، اس تاریخ ساز مرحلے میں مولانا مفتی محمود نے قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے اندر عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے انتہائی مثر، مدلل اور تاریخی کردار ادا کیا اور طویل پارلیمانی بحث، علمی دلائل اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں 7 ستمبر 1974 کو قادیانی اور لاہوری گروپ کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ سامنے آیا، انہوں نے کہا کہ مفتی محمود کا یہ کردار محض ایک پارلیمانی کارروائی نہیں تھا بلکہ یہ ایک طویل نظریاتی، علمی اور سیاسی جدوجہد کا ثمر تھا، انہوں نے جس بصیرت، استقامت، علمی قابلیت اور جمہوری انداز میں قومی اسمبلی کے اندر عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کیا وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے، 7 ستمبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ نظریاتی جدوجہد، آئینی راستے، علمی دلائل اور جمہوری عمل کے ذریعے بڑے قومی و دینی مسائل پر تاریخ ساز فیصلے کیے جا سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آج قلعہ سیف اللہ میں مختلف جماعتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے معززین کی جمعیت علما اسلام میں شمولیت اس بات کا واضح اعلان ہے کہ بلوچستان کے عوام خدمت، اصول، نظریے اور حقیقی عوامی سیاست کے ساتھ کھڑے ہیں، جمعیت علما اسلام میں شامل ہونے والے تمام معززین کو خوش آمدید کہتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ جمعیت علما اسلام کا یہ قافلہ ان کی عزت، رائے اور کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے صوبے کے عوام کے حقوق، اسلامی تشخص، جمہوری اقدار اور خوشحال مستقبل کے لیے اپنی جدوجہد مزید مضبوط اور مثر انداز میں جاری رکھے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں