موجودہ حکومت نے غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی سے صوبے کو انتظامی انتشار اور سیاسی تذبذب کے دلدل میں دھکیل دیا، مولانا واسع
کوئٹہ(این این آئی)امیرِ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ صوبے کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر ایک جامع عمرانی معاہدے کی تشکیل پر متفق ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام مسائل جو برسوں سے پس پشٹ ڈال کر بھلا دیے گئے، اب ان پر کھلے دل اور صاف نیت کے ساتھ غور و فکر کرنا ہوگا۔ماضی کی طرح اپنی انانیت، ضد اور ہٹ دھرمی پر ڈٹی رہیں تو نتیجہ ہمیشہ کی طرح صوبے اور عوام کے نقصان کی صورت میں ہی نکلے گا۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام، باوجود اس کے کہ موجودہ پارلیمانی سیاست میں سنگین تحفظات رکھتی ہے، پھر بھی صوبے کے وسیع تر مفاد میں دو قدم آگے بڑھی ہے۔ سیاست میں اختلاف رائے کوئی گناہ نہیں، مگر جب کشتی بھنور میں پھنس جائے تو سب کو ایک ہی پتوار تھامنی پڑتی ہے۔انہوں نے دوٹوک مو¿قف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے ضد اور ذاتی مفادات کی دلدل سے خود کو نہ نکالا تو یہ خواب کہ صوبہ حقیقی عوامی نمائندوں کے حوالے ہوگا، کبھی شرمند? تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم تجربات کی بھٹی سے نکل کر عملی بصیرت کے چراغ جلائیں اور مسئلے کے اصل وجہ تک پہنچ کر اس کا پائیدار حل تلاش کریں۔جے یو آئی کے صوبائی امیر نے کہا کہ ہماری جماعت نے ہمیشہ صوبے کے امن و امان کے قیام کے لیے کندھا دیا، دروازے کھلے رکھے اور وسیع ظرفی کا مظاہرہ کیا۔ ہم نے کبھی سیاست کو ملک کے استحکام پر قربان کیا ہر موڑ پر یہ ثابت کیا کہ جے یو آئی کی سیاست اصولوں کی سیاست ہے، اقتدار کی نہیں۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت نے اپنی ناکام پالیسیوں اور غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی سے صوبے کو انتظامی انتشار اور سیاسی تذبذب کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ روز بروز رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات اس امر کا ثبوت ہیں کہ حکومت کے پاس نہ وڑن ہے، نہ ویڑنری قیادت۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومت لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حالانکہ لیویز فورس صوبے کے مزاج، جغرافیہ اور قبائلی ساخت کے عین مطابق ایک کامیاب اور مو¿ثر نظام ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ صوبے میں ایک نئے بحران کی راہ ہموار کرے گا۔جے یو آئی اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ لیویز فورس کو اس کی اصل حیثیت میں بحال کیا جائے۔ اگر ماضی کے تجربات کامیاب ہوتے تو آج بلوچستان بدامنی اور غیر یقینی کی آماجگاہ نہ ہوتا۔ ناکام تجربات دہرانا دانشمندی نہیں، حماقت ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی بلوغت، اجتماعی بصیرت اور نیک نیتی پر مبنی عمرانی معاہدے میں پوشیدہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سب نے سیاسی خود غرضیوں کے خول سے باہر نکل کر صوبے کے مفاد میں متحد ہوں، تاکہ آنے والی نسلیں ہمیں تاریخ کے مجرم نہیں بلکہ اصلاح کے معمار کے طور پر یاد رکھیں۔


