اپنا لہو کس کے ہاتھوں پر تلاش کروں؟ولید صالح بلوچ کی شہادت کو ایک سال مکمل ،انصاف نہ مل سکاتحریر! رحمت صالح بلوچ

18اکتوبر میری زندگی کا ہمیشہ ایک سیاہ دن رہے گا۔ اس دن سفاک ظالموں نے میرے بھاءی ولید صالح بلوچ کو مجھ سے چھین لیا۔ یہ وہ دن ہے جس نے میری زندگی کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا، میرے گھر کے خوابوں کو ادھورا چھوڑ دیا اور ہمارے خاندان کو ایسے درد سے دوچار کیا جسے وقت گزرنے کے باوجود بھلانا ممکن نہیں۔ ایک سال گزر چکا ہے، لیکن میرے دل میں وہ زخم آج بھی تازہ ہے۔ آج بھی جب 18 اکتوبر کا خیال آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت رک گیا ہو، جیسے وہی قیامت خیز لمحہ دوبارہ میرے سامنے آ کھڑا ہوا ہو اور جیسے میرا بھاءی ابھی ابھی مجھ سے بچھڑا ہو۔بعض اعداد صرف اعداد نہیں رہتے۔ وہ انسان کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں، یاد بن جاتے ہیں، درد بن جاتے ہیں، اور کبھی کبھی پوری عمر کا سوال بن جاتے ہیں۔میرے لیے ایسا ہی ایک عدد دس ہے۔صرف دس۔ولید صالح بلوچ کی شادی میں صرف دس دن باقی تھے۔گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ وہ دن جن کا ایک خاندان مدت سے انتظار کرتا ہے ہمارے گھر کے دروازے پر کھڑے تھے۔ ایک نوجوان کی زندگی کا نیا باب شروع ہونے والا تھا۔ ایک گھر میں نءی خوشی آنے والی تھی۔ رشتے داروں کی آمدورفت ہونی تھی۔ گھر میں رونق ہونی تھی۔ وہی معمولی سی مصروفیات ہونی تھیں جنہیں ہم عام دنوں میں شاید زیادہ اہمیت نہیں دیتے مگر جب کسی گھر میں شادی ہوتی ہے تو یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں زندگی کی سب سے بڑی خوشیاں بن جاتی ہیں۔مگر زندگی نے ہمارے لیے کچھ اور لکھ رکھا تھا۔شادی سے صرف دس دن پہلے پنجگور میں ولید صالح بلوچ کو شہید کر دیااور پھر ایک ایسا گھر جو شادی کی تیاری کر رہا تھا، اچانک جنازے کی تیاری کرنے لگا۔جس گھر میں دولہا آنے والا تھا وہاں شہید کا جسدِ خاکی آیا۔جس گھر میں مبارک بادیں آنی تھیں، وہاں تعزیتیں آنے لگیں۔جن ہاتھوں نے شادی کی تیاری کرنی تھی، انہیں اپنے بھاءی کے آخری سفر کی تیاری کرنا پڑی۔اور جن آنکھوں میں چند دن بعد خوشی کے آنسو آنے تھے ان میں ایسا غم اتر گیا جو آج ایک سال بعد بھی ختم نہیں ہوا۔ایک سال گزر گیا ہے۔لیکن میرے لیے وہ دس دن آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔میں آج بھی سوچتا ہوں کہ آخر وہ دس دن اتنے اہم کیوں ہو گءے؟اس لیے کہ وہ دس دن ہماری زندگی اور ہماری خوشی کے درمیان آخری فاصلہ تھے۔ان دس دنوں کے بعد ہماری زندگی وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔ولید واپس نہیں آیا۔شادی نہیں ہوءی خوشی نہیں آءی۔اور ایک سوال آج تک ہمارے ساتھ ہے:ولید کے قاتل کہاں ہیں؟یہ سوال میں غصے میں نہیں پوچھ رہا۔یہ سوال میں انتقام کے لیے نہیں پوچھ رہا۔یہ سوال ایک بھاءی کی حیثیت سے پوچھ رہا ہوں۔ایک ایسے بھاءی کی حیثیت سے جس نے اپنے بھاءی کو دولہا بنتا دیکھنا تھا مگر اسے شہید کی صورت میں رخصت کیا۔ایک ایسے خاندان کی طرف سے پوچھ رہا ہوں جس نے ایک سال اپنے پیارے کی یاد اور انصاف کے انتظار میں گزارا ہے۔ایک ایسے گھر کی طرف سے پوچھ رہا ہوں جس کی خوشی کو دس دن پہلے ہی کسی نے چھین لیا۔اور سب سے بڑھ کر ایک ایسے شہری کی حیثیت سے پوچھ رہا ہوں جو یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ کیا اس ملک میں ایک عام شہری کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بااثر انسان کی؟دس دن پہلے تک سب کچھ مختلف تھازندگی میں بعض اوقات ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ہم کسی واقعے سے کتنے قریب کھڑے ہیں۔ہم مستقبل کو اپنے حق میں سمجھتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ جو پروگرام بنایا ہے وہ پورا ہوگا۔جو سفر سوچا ہے وہ ہوگا۔جو ملاقات طے کی ہے وہ ہوگی۔جو شادی آنے والی ہے وہ ہوگی۔جو خوشی دروازے پر کھڑی ہے وہ گھر میں داخل ہوگی۔ولید کی شادی بھی ہمارے لیے ایسی ہی ایک یقینی خوشی تھی۔صرف دس دن باقی تھے۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ہماری اس خوشی سے صرف دس دن کے فاصلے پر کھڑا ہے۔انسان اگر پہلے سے جان لے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے تو شاید وہ ہر لمحہ مختلف انداز میں گزارے۔مگر انسان کو مستقبل معلوم نہیں ہوتایہی زندگی کا حسن بھی ہے اور المیہ بھی۔ہمیں نہیں معلوم تھا کہ جن دنوں میں ہم شادی کی تیاریوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں، انہی دنوں میں موت ہمارے گھر کا راستہ تلاش کر رہی ہے۔ہمیں نہیں معلوم تھا کہ جس شخص کو چند دن بعد دولہا دیکھنا ہےاسے چند دن بعد قبر کی طرف رخصت کرنا ہوگا۔ہمیں نہیں معلوم تھا کہ شادی کی خوشی کا انتظار کرتے کرتے ہمارا خاندان ایک ایسے صدمے میں داخل ہونے والا ہے جس سے نکلنے میں شاید پوری زندگی لگ جاءے۔ایک شادی جو کبھی نہ ہو سکی شادی کسی ایک شخص کی خوشی نہیں ہوتی۔یہ پورے خاندان کا خواب ہوتی ہے۔والدین کے لیے بیٹے کی شادی صرف ایک تقریب نہیں ہوتی۔ وہ اپنے بیٹے کو زندگی کے ایک نءے مرحلے میں داخل ہوتا دیکھتے ہیں۔ بہن بھاءی اس کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ رشتہ دار جمع ہوتے ہیں۔ گھر میں کءی دن پہلے سے رونق شروع ہو جاتی ہے۔اور جب شادی صرف دس دن دور ہو تو ذہن میں آنے والا ہر خیال مستقبل سے جڑا ہوتا ہے۔کون آءے گاکیا تیاری ہونی ہے؟کون سا کام پہلے کرنا ہے؟کیا رہ گیا ہے؟کس رشتہ دار سے رابطہ کرنا ہے؟یہ سب معمولی سوالات لگتے ہیں۔مگر جب وہ شادی کبھی نہ ہو سکے تو یہی سوال یادوں کے کانٹے بن جاتے ہیں۔آج ایک سال بعد جب میں پیچھے دیکھتا ہوں تو مجھے صرف یہ یاد نہیں آتا کہ ولید شہید ہو گیا۔مجھے یہ بھی یاد آتا ہے کہ وہ شادی کرنے والا تھا۔وہ دولہا بننے والا تھا۔اس کی زندگی میں ایک نیا باب کھلنے والا تھا۔مگر وہ باب شروع ہونے سے پہلے ہی کتاب بند ہو گءی۔موت صرف ایک شخص کو نہیں لے جاتیولید کی شہادت نے ہمیں یہ حقیقت سکھاءی کہ موت صرف ایک انسان کو نہیں لے جاتی۔وہ اپنے ساتھ کءی خواب لے جاتی ہے۔ایک بیٹے کی موت کے ساتھ والدین کے کءی خواب مر جاتے ہیں۔ایک بھاءی کی موت کے ساتھ بہن بھاءیوں کے کءی منصوبے ختم ہو جاتے ہیں۔ایک ہونے والے شوہر کی موت کے ساتھ ایک ایسی زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے جو ابھی شروع نہیں ہوءی تھی۔اور ایک نوجوان کی موت کے ساتھ اس کے مستقبل کے وہ تمام امکانات ختم ہو جاتے ہیں جنہیں ہم کبھی جان ہی نہیں پاتے۔ولید کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ہم اس کے مستقبل کے بارے میں نہیں جان سکتے کہ وہ کیسا ہوتا۔ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ مستقبل اب کبھی نہیں آءے گا۔یہی موت کی سب سے بڑی بے رحمی ہے۔وہ صرف ماضی نہیں چھینتی۔وہ مستقبل بھی چھین لیتی ہے۔ایک سال بعد بھی گھر میں ایک جگہ خالی ہےایک سال میں بہت کچھ بدل جاتا ہے۔لوگ اپنے معمولات میں واپس آ جاتے ہیں۔تعزیت کرنے والے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں ملاقاتیں کم ہو جاتی ہیں۔زندگی بظاہر معمول پر آ جاتی ہے۔مگر جس گھر سے کوءی اپنا چلا جاءے، وہاں معمول کبھی مکمل طور پر واپس نہیں آتا۔گھر میں ایک جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے۔ایک آواز کم ہو جاتی ہے۔ایک شخص کم ہو جاتا ہے۔اور اس شخص کی غیر موجودگی ہر اہم موقع پر محسوس ہوتی ہے۔ہم نے بھی یہی محسوس کیاایک سال گزر گیا مگر ولید کی کمی کم نہیں ہوءی۔بلکہ بعض مواقع پر یہ کمی اور نمایاں ہو جاتی ہے۔کسی گھر میں شادی ہو تو یاد آتا ہے کہ ولید کی شادی ہونے والی تھی۔کسی بھاءی کو دولہا دیکھیں تو خیال آتا ہے کہ ہمارا بھاءی بھی دولہا بننے والا تھا۔کسی خوشی کا موقع آءے تو دل پوچھتا ہے:اگر ولید آج ہوتا تو؟یہ "اگر” شاید غم کا سب سے مشکل لفظ ہے۔کیونکہ اس کا کوءی جواب نہیں۔اگر وہ آج زندہ ہوتااگر ولید آج ہمارے درمیان ہوتا تو؟شاید وہ اپنے گھر میں مصروف ہوتا۔شاید زندگی کے نءے مرحلے میں داخل ہو چکا ہوتا۔شاید ہم اس کے ساتھ بیٹھتے۔شاید وہ ہم سے کسی بات پر اختلاف کرتا۔شاید ہم اسے چھیڑتے۔شاید وہ ہمیں جواب دیتا۔شاید اس کی زندگی میں مزید خوشیاں آتیں۔شاید وہ اپنے بچوں کے بارے میں سوچتا۔شاید وہ اپنے مستقبل کے منصوبے بناتا۔شاید آج ہم اس کی پہلی شادی کی سالگرہ کی بات کر رہے ہوتے۔مگر ہمارے پاس "شاید” کے سوا کچھ نہیں۔یہی تو موت کی سب سے بڑی تکلیف ہے۔وہ انسان سے صرف موجودہ لمحہ نہیں چھینتی، وہ تمام ممکنہ مستقبل بھی چھین لیتی ہے۔ایک سال سننے میں شاید ایک مدت لگتا ہے۔مگر جس گھر میں موت ہوءی ہووہاں ایک سال کبھی کبھی ایک ہی دن جیسا ہوتا ہے۔وقت آگے بڑھتا رہتا ہے مگر دل ایک جگہ رک جاتا ہے۔ہم بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔زندگی کے کام کرتے رہےلوگوں سے ملتے رہے۔مسکراتے رہے۔مگر اندر ایک جگہ ایسی ہے جہاں وقت آج بھی رکا ہوا ہے۔وہی جگہ جہاں ولید کی یاد موجود ہے۔وہی جگہ جہاں اس کی شادی کی تیاریوں کا تصور موجود ہے۔وہی جگہ جہاں وہ دس دن موجود ہیں۔اور وہی جگہ جہاں آج بھی ایک سوال موجود ہے۔ایک سال گزر چکا ہے۔مگر ہمارے علم اور انتظار کے مطابق ولید صالح بلوچ کے قاتل آج تک ہمارے سامنے نہیں آءے۔یہ صرف ایک جملہ نہیں۔یہ ایک خاندان کی بے بسی ہے۔ایک خاندان اپنے مقتول کے لیے انصاف چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ اسے بتایا جاءے کہ اس کے پیارے کو کس نے مارا۔کیوں مارا۔اس کے ذمہ دار کون تھے۔اور ان کے خلاف کیا کاررواءی ہوءی۔اگر ایک سال بعد بھی یہ سوال جواب طلب ہو تو خاندان کے دل میں بے چینی رہتی ہے۔ہم اسی بے چینی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں۔ہم کسی بے گناہ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ہم قانون ہاتھ میں لینے کی بات نہیں کرتے۔ہم صرف قانون کو اپنا کام کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ فرق بہت اہم ہے۔ہم انتقام نہیں مانگ رہے۔ہم انصاف مانگ رہے ہیں۔انصاف اور انتقام میں فرق ہےانتقام انسان کو مزید خون کی طرف لے جاتا ہے۔انصاف انسان کو قانون کی طرف لے جاتا ہےہم قانون کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اگر کسی شخص یا گروہ نے ولید کو شہید کیا ہے تو اس کی شناخت کی جاءے، شواہد سامنے لاءے جاءیں، ذمہ داروں کو گرفتار کیا جاءے، اور عدالت کے سامنے پیش کیا جاءے۔اگر جرم ثابت ہو تو سزا دی جاءے۔یہی انصاف ہے۔اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں چاہتے۔ولید واپس نہیں آءے گا۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا کا کوءی قانون اسے دوبارہ ہمارے درمیان نہیں لا سکتا۔لیکن قانون کم از کم یہ کر سکتا ہے کہ اس کے خون کو بے معنی نہ ہونے دے۔قانون یہ بتا سکتا ہے کہ جرم کرنے والا قانون سے بالاتر نہیں۔قانون یہ یقین دلا سکتا ہے کہ کسی شہری کے قتل کو بھلایا نہیں جاءے گا۔یہ سوال بھی میرے ذہن میں آتا ہے۔کیا ایک سال کم ہے؟ایک خاندان کے لیے نہیں۔ایک سال بہت ہوتا ہے۔بارہ مہینے بہت ہوتے ہیں 365 دن بہت ہوتے ہیں۔ہر دن مقتول کے خاندان کے لیے ایک نیا انتظار ہوتا ہے۔صبح اٹھتے ہیں تو امید ہوتی ہے کہ شاید کوءی پیش رفت ہوءی ہو۔شام آتی ہے تو وہی سوال۔رات ہوتی ہے تو وہی یاد۔اور پھر اگلی صبح یہ سلسلہ ایک سال سے جاری ہے۔ہم نہیں جانتے کہ یہ انتظار کب ختم ہوگا۔مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ انصاف کے بغیر غم مکمل نہیں ہوتا۔گزشتہ ایک سال میں جو ذہنی دباؤ، صدمہ، بے بسی اور مسلسل غم ہم نے برداشت کیا ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔حالیہ دنوں میں مجھے خود دل کی تکلیف ہوءی اور دل کی 3 شریانیں بند ہوءیں، ڈاکٹرز نے تمام ٹیسٹ کرنے کے بعد کہا کہ اسٹریس کیوجہ سے ہوا اس لمحے انسان اپنی زندگی کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔میں نے سوچا کہ زندگی کتنی نازک ہے۔کل جو شخص ہمارے درمیان تھا، آج نہیں۔اور جو آج ہمارے درمیان ہے اسے بھی نہیں معلوم کہ اس کے پاس کتنے دن باقی ہیں۔دل کی تکلیف کے بعد مجھے ولید کے وہ دس دن پھر یاد آءے۔ایک انسان کی زندگی میں دس دن کتنے کم ہوتے ہیں۔مگر ہمارے لیے وہ دس دن پوری زندگی بن گءے۔میں اپنی طبی کیفیت کے بارے میں کوءی حتمی دعویٰ نہیں کر رہا، مگر مسلسل غم اور ذہنی دباؤ انسان کو اندر سے ضرور تھکا دیتے ہیں۔غم صرف آنکھوں سے آنسو نہیں نکالتا۔کبھی وہ خاموشی بن جاتا ہے۔کبھی بے خوابی۔کبھی بے چینی۔کبھی سینے پر بوجھ۔کبھی دل کی دھڑکن میں خوف۔اور کبھی ایک ایسا سوال جو انسان سے چھوٹتا نہیں۔لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں، وقت کے ساتھ غم کم ہوا؟میں سوچتا ہوں، غم کم کیسے ہو؟اگر قاتل سامنے آ جاتے تو شاید ایک باب مکمل ہوتا۔اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ انصاف ہو رہا ہے تو شاید دل میں کچھ سکون آتا مگر ایک سال بعد بھی سوال باقی ہے۔س لیے غم کے ساتھ بے چینی بھی باقی ہے۔ہمیں اپنے بھاءی کی موت کا دکھ تو ہے ہی، مگر یہ بھی دکھ ہے کہ اس موت کے ذمہ دار کون تھے حالانکہ وہ تو سیاست سے بھی دور تھے ، یہ سوال اب تک حل نہیں ہوا۔یہی وجہ ہے کہ پہلی برسی ہمارے لیے صرف یاد کا دن نہیں۔یہ جواب مانگنے کا دن بھی ہے۔ولید کو صرف برسی پر یاد نہ کیا جاءےہماری خواہش ہے کہ ولید کو صرف ایک برسی کے موقع پر یاد نہ کیا جاءے۔اس کا مقدمہ بھی یاد رکھا جاءے۔اس کا حق بھی یاد رکھا جاءے۔اس کا سوال بھی یاد رکھا جاءے۔اگر ایک شخص شہید ہوتا ہے اور پھر اس کا کیس وقت کے ساتھ خاموش ہو جاتا ہے تو خاندان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے عزیز کی زندگی بھی وقت کے ساتھ بھلا دی گءی۔ہم ایسا نہیں چاہتے۔ہم چاہتے ہیں کہ ولید کا نام انصاف کے ساتھ لیا جاءے۔ہم چاہتے ہیں کہ اس کے قتل کی حقیقت سامنے آءے۔ہم چاہتے ہیں کہ اس کے قاتل قانون کے سامنے آءیں۔ایک مقتول کے خاندان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جاءےمقتول کے خاندان اکثر شور نہیں کرتے۔وہ جنازہ اٹھاتے ہیں۔غم برداشت کرتے ہیں۔اپنے گھروں کو سنبھالتے ہیں۔بچوں کو دیکھتے ہیں۔والدین کو سنبھالتے ہیں۔ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔اور پھر زندگی کے معمولات میں واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ درد ختم ہوگیا۔خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ سوال ختم ہوگیا۔خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ مقتول بھلا دیا گیا۔ہماری خاموشی کے اندر بھی ایک آواز ہے ولید کے قاتلوں کو سامنے لاؤ۔انصاف صرف خاندان کے لیے نہیں ہم ولید کے لیے انصاف مانگتے ہیں مگر حقیقت میں یہ مطالبہ پورے معاشرے کے لیے ہے۔اگر ایک قتل کا ذمہ دار قانون کے سامنے آتا ہے تو صرف ایک خاندان کو انصاف نہیں ملتا۔پورے معاشرے کو پیغام ملتا ہے کہ قانون زندہ ہے۔اگر مجرم پکڑا جاتا ہے تو دوسرے مجرموں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ جرم کا انجام قانون کے سامنے جواب دہی ہے۔اور اگر قاتل سامنے نہ آءیں تو خوف پھیلتا ہے۔لوگ سوچتے ہیں کہ اگر میرے ساتھ کچھ ہوا تو کیا ہوگا؟کیا میرے خاندان کو بھی ایک سال انتظار کرنا پڑے گا؟کیا میرے قاتل بھی آزاد رہیں گے؟اس لیے ولید کا معاملہ صرف ہمارا ذاتی معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ قانون کی بالادستی کا معاملہ بھی ہے۔ہم کسی سے نفرت نہیں چاہتےہم نے اپنے بھاءی کو کھویا ہے۔ہم نہیں چاہتے کہ اس کے بعد نفرت کی ایک نءی نسل پیدا ہو۔ہم نہیں چاہتے کہ کسی اور کا بھاءی مرے۔ہم نہیں چاہتے کہ کسی اور گھر کی شادی جنازے میں بدل جاءے۔ہم نہیں چاہتے کہ کسی اور خاندان کے پاس دس دن کی ایسی یاد ہو جسے وہ پوری زندگی بھول نہ سکے۔ہم امن چاہتے ہیں۔ہم انصاف چاہتے ہیں۔ہم ایسا بلوچستان چاہتے ہیں جہاں نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں، اپنے جنازے کے بارے میں نہیں۔جہاں شادی کی تیاری موت کے خوف سے نہ گھری ہو۔جہاں قانون کی موجودگی محسوس ہو۔جہاں شہری اپنی جان کے بارے میں مطمءن ہوں۔ولید کی شہادت نے ہمیں ایک اور ذمہ داری بھی دی ہے۔ہمیں اس کے نام کو نفرت کا عنوان نہیں بنانا۔ہمیں اسے انصاف کا عنوان بنانا ہے۔ہمیں کہنا ہے کہ انسانی جان قیمتی ہے۔چاہے مقتول کسی بھی خاندان سے ہو۔چاہے اس کا تعلق کسی بھی علاقے سے ہو۔چاہے اس کی کوءی سیاسی یا سماجی حیثیت ہو یا نہ ہو۔ہر شہری کو زندگی کا حق ہے۔اور اگر اس حق کو چھینا جاءے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قاتلوں کو قانون کے سامنے لاءے۔برسی صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں۔برسی مستقبل سے سوال کرنا بھی ہے۔ہم آج پیچھے دیکھتے ہیں اور ولید کو یاد کرتے ہیں۔مگر ساتھ ہی آگے دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں اگلے سال کیا ہوگا؟کیا تب بھی ہم یہی سوال پوچھ رہے ہوں گے؟کیا تب بھی قاتل سامنے نہیں آءے ہوں گے؟کیا تب بھی ہمارے پاس صرف تعزیتی الفاظ ہوں گے؟یا اس وقت تک انصاف ہو چکا ہوگا؟میری دعا ہے کہ اگلی برسی سے پہلے ہمارے سوال کا جواب آ چکا ہو۔میں چاہتا ہوں کہ اگلی بار ولید کا نام لیتے ہوءے ہمیں یہ بھی کہنے کا موقع ملے کہ اس کے قاتل قانون کے سامنے لاءے گءے۔ولید، تمہیں بھلایا نہیں گیامیرے بھاءی!ایک سال گزر گیا۔مگر تمہیں بھلایا نہیں گیا۔تمہاری تصویر اب بھی ہمارے پاس ہے۔تمہاری یاد اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔تمہاری شادی کی وہ ادھوری تیاری اب بھی ہمارے ذہن میں ہے۔وہ دس دن اب بھی ہمارے دل میں ہیں۔اور تمہاری قبر ہمارے لیے صرف ایک جگہ نہیں، ایک یاد ہے۔ہم تمہیں ہر اس موقع پر یاد کرتے ہیں جہاں تمہیں ہونا چاہیے تھا۔کسی شادی میں۔کسی خوشی میں۔کسی خاندانی اجتماع میں۔کسی اچھی خبر کے وقت ہم سوچتے ہیں، اگر ولید ہوتا تو؟اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔دس دن اور ایک سال کتنا عجیب حساب ہے۔ولید کی شادی میں دس دن باقی تھے۔اور آج اس کی شہادت کو ایک سال ہو گیا۔دس دن خوشی سے پہلے تھے۔ایک سال غم کے بعد ہے۔دس دن مستقبل کے تھے۔ایک سال ماضی کا ہے۔دس دن ایک شادی کی طرف جا رہے تھے۔اور ایک سال ایک قبر کی طرف لے آیا۔دس دن میں ایک زندگی کا نیا باب کھلنا تھا۔مگر ایک لمحے نے پوری کتاب بدل دی۔یہی زندگی ہے۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے موجودہ لمحے کی قدر کرنی چاہیے۔اپنوں کے ساتھ وقت گزاریں ولید کی یاد مجھے بار بار یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم زندگی میں کتنی چیزیں مؤخر کرتے رہتے ہیں۔فلاں سے کل بات کریں گے۔فلاں سے کل ملیں گے۔فلاں کو کل فون کریں گے۔کل معافی مانگیں گے۔کل محبت کا اظہار کریں گے۔مگر کل کسی کے پاس نہیں۔ولید کے پاس بھی دس دن تھے۔ہمیں لگتا تھا وہ دس دن ضرور آءیں گے۔مگر وہ نہیں آءے۔اس لیے جو محبت ہے، آج کریں۔جو بات کرنی ہے، آج کریں۔جو رشتہ بچانا ہے، آج بچاءیں۔کیونکہ زندگی ضمانت کے ساتھ نہیں آتی۔لیکن انصاف بھی مؤخر نہ ہوجس طرح محبت کو کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے، انصاف کو بھی کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ایک خاندان ایک سال سے انتظار کر رہا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اس انتظار کو ختم کیا جاءے۔ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات میں پیش رفت ہو۔ہم چاہتے ہیں کہ اگر ذمہ داروں کی شناخت ہو چکی ہے تو انہیں گرفتار کیا جاءے۔اگر شناخت نہیں ہوءی تو تحقیقات کو مزید مؤثر بنایا جاءے۔اور اگر کوءی قانونی رکاوٹ ہے تو اسے دور کیا جاءے۔ہمیں بتایا جاءے کہ کیا ہوا۔ہمیں بتایا جاءے کہ کہاں تک پہنچا۔ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنے بھاءی کے قتل کے بارے میں جانیں۔میں پھر پوچھتا ہوںولید صالح بلوچ کے قاتل کہاں ہیں؟کیا وہ دنیا میں آزاد گھوم رہے ہیں؟کیا وہ قانون سے چھپے ہوءے ہیں؟کیا ان تک پہنچنے کی کوشش ہو رہی ہے؟کیا تحقیقات جاری ہیں؟کیا ان کے خلاف کوءی ثبوت موجود ہے؟کیا کوءی کاررواءی ہوءی؟ہم ان سوالوں کے جواب چاہتے ہیں۔ہمیں صرف یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صبر کریں۔ہم ایک سال سے صبر کر رہے ہیں۔ہمیں صرف یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وقت لگتا ہے۔ہم ایک سال سے وقت دے رہے ہیں۔ہمیں اب پیش رفت چاہیے۔ہمیں حقیقت چاہیے۔ہمیں انصاف چاہیے۔ہماری فریاد کو سیاسی رنگ نہ دیا جاءےہماری یہ آواز کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں۔یہ کسی جماعت کے خلاف یا حق میں نہیں۔یہ ایک خاندان کی آواز ہے۔ہم اپنے بھاءی کے لیے انصاف چاہتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ قانون اپنا کام کرے۔اگر ذمہ دار کوءی بھی ہو، جس کا بھی تعلق ہو، اسے قانون کے سامنے آنا چاہیے۔کیونکہ انصاف کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ وہ شخص کو نہیں جرم کو دیکھتا ہے۔ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ہم دنیا سے صرف انصاف مانگ سکتے ہیں۔مگر اللہ سے اس سے بھی زیادہ مانگ سکتے ہیں۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ولید کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔اس کی قبر کو نور سے بھر دے۔اس کے درجات بلند کرے۔اس کی تمام کوتاہیوں کو معاف فرماءے۔اور اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماءے۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ اس کے والدین کو صبر دے۔اس کے بہن بھاءیوں کو حوصلہ دے۔پورے خاندان کو سکون دے۔اور ہمیں اس دن تک زندہ رکھے جب ہمیں یہ خبر ملے کہ اس کے قاتل قانون کے سامنے ہیں۔آخر میں صرف اتناولید!تمہاری شادی میں صرف دس دن باقی تھے۔یہ دس دن ہماری پوری زندگی پر بھاری پڑ گءے۔ایک سال گزر گیا۔مگر تمہاری یاد نہیں گءی۔تمہاری کمی نہیں گءی۔اور تمہارے خون کا سوال بھی ختم نہیں ہوا۔ہم تمہیں واپس نہیں لا سکتے۔ہم وہ دس دن واپس نہیں لا سکتے۔ہم وہ شادی واپس نہیں لا سکتے۔ہم تمہارا مستقبل واپس نہیں لا سکتے۔مگر ہم تمہارے لیے انصاف مانگ سکتے ہیںاور ہم یہی مانگ رہے ہیں۔نہ کسی بے گناہ سے بدلہ۔نہ کسی سے نفرت۔نہ قانون سے باہر کوءی قدم۔صرف قانون۔صرف سچ۔صرف انصاف۔آج تمہاری پہلی برسی پر میں اپنے بھاءی کی حیثیت سے دنیا کے سامنے صرف ایک بات رکھنا چاہتا ہوں:ایک سال بہت ہوتا ہے۔ایک سال میں ایک خاندان اپنے غم کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے، مگر اپنے سوال کے ساتھ نہیں۔ہم نے غم کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔مگر سوال ابھی زندہ ہے۔ولید صالح بلوچ کے قاتل کہاں ہیں؟ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سوال ہمیشہ سوال نہیں رہے گا۔ایک دن جواب آءے گا۔ایک دن حقیقت سامنے آءے گی۔ایک دن قانون اپنا فیصلہ سناءے گا۔اور اس دن شاید ہمارے دل کا وہ بوجھ کچھ ہلکا ہو جاءے جو ایک سال سے ہمارے سینوں پر رکھا ہے۔ولید واپس نہیں آءے گا۔یہ حقیقت ہے۔مگر انصاف آ سکتا ہے۔اور ہمیں اسی امید کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔آج پہلی برسی پر ہماری آنکھوں میں آنسو ہیں، دل میں درد ہے، زبان پر دعا ہے، اور دل کی گہراءی میں ایک مطالبہ شہید ولید صالح بلوچ کے قاتلوں کو تلاش کیا جاءے، انہیں قانون کے سامنے لایا جاءے، اور اس خاندان کو انصاف دیا جاءے۔کیونکہ ایک بھاءی کا خون صرف ایک خاندان کا مسءلہ نہیں ہوتا۔یہ قانون کا امتحان بھی ہوتا ہے۔اور ہم آج بھی امید رکھتے ہیں کہ یہ امتحان انصاف جیتے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے