موجودہ نظام پر ضرب کاری
انور ساجدی
حکمرانوں کی دیرینہ خواہش تھی کہ1973ءکے آئین اور موجودہ پارلیمانی نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ صدارتی نظام رائج کیا جائے جبکہ موجودہ صوبوں کو توڑ کر ان کی جگہ متعدد نئے یونٹ قائم کئے جائیں۔عمران خان کے دور حکومت سے ہی مختلف ذرائع سے اس خواہش کے شوشے چھوڑے گئے لاہور کے سابق ناظم اور دنیا میڈیا گروپ کے میاں عامر کو باقاعدہ ڈیوٹی دی گئی کہ وہ شہر شہر جا کر نئے صوبوں کی وکالت کریں خود عمران خان کو بھی یہ خواب دکھایا گیا تھا کہ جو نیا نظام آئے گا وہ اس کے تاحیات سربراہ ہوں گے اس لئے وہ بھی نئے صوبوں اور صدارتی نظام کے قائل ہو گئے تھے پھر انہیں ماموں بنا دیا گیا وہ تاحیات حکمرانی کے خواب آج کل اڈیالہ جیل کی کوٹھڑی میں دیکھنے میں محو ہیں۔
محسن نقوی کے واشگاف اعلان کے بعد بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے اور حکمرانوں کی خواہش عام بحث کےلئے پیش کر دی گئی ہے محسن نقوی نے کئی حقیقت پسندانہ باتیں بھی کیں مثال کے طور پر موجودہ نظام فیل ہوچکا ہے گر چکا ہے۔اس کی موجودگی میں یہ ریاست آگے نہیں بڑھ سکتی نقوی نے جو نائب خلیفہ کی حیثیت رکھتے ہیں ساہوکاروں اور سیٹھوں کے ایک اجتماع کو اظہار خیال کےلئے چنا انہوں نے اپنی ہی حکومت اور نظام کے خوب لتے لئے آخر تان اس بات پر ٹوٹی کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ ناگزیر ہیں۔انہوں نے جہاں موجودہ پورے نظام کو فرسودہ اور ناکارہ قرار دے دیا وہاں یہ بات چھپائی کہ اس ناکامی کے ذمہ دار کون لوگ ہیں انہوں نے یہ کہنے سے بھی گریز کیا کہ پورے انتظامی ڈھانچے کی ناکامی ریاست کو فیل اسٹیٹ کی طرف مراجعت کر رہی ہے۔
ان کہی رہ گئی
وہ بات سب باتوں کے بعد
اب جبکہ نئے صوبوں اور نئے نظام پر بحث چھڑ گئی ہے تو یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ 80 سالہ دور میں ہر طرح کا تجربہ کیا گیا لیکن ہر مرتبہ نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلا ۔ قیام پاکستان کے بعد چونکہ کوئی آئین نہیں تھا اس لئے ایک ملا جلا طرز حکمرانی اختیار کیا گیا۔ گورنر جنرل کے ساتھ وزیراعظم اسکے بعد پارلیمانی نظام کو1955ءمیں تمام صوبے ختم کر کے ون یونٹ کا نظام لایا گیا صرف دو صوبے بنائے گئے یعنی مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان۔
وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے علاقائی تعصبات ختم کرنے کےلئے تحلیل کئے گئے ہیں آج کے بعد واحد شناخت پاکستانی ہوگا۔
اگلے سال1956میں آئین لایا گیا لیکن ون یونٹ برقرار کھا گیا اس پر بھی فوج کے کمانڈر ایوب خان خوش نہ تھے۔تاوقتی کہ انہوں نے7اکتوبر1958ءکو سب کچھ ختم کر کے مارشل لاء لگا دیا۔ ان کا روز کہنا تھا کہ سیاست دان فیل لوگ ہیں پرانا نظام گل سڑ چکا ہے جس کی وجہ سے ملک آگے نہیں بڑھ رہا۔مارشل لاءکے نفاذ کے ایک سال بعد انہوں نے بی ڈی سسٹم بنا دیا انہوں نے اپنے دو مشیروں قدرت شہاب اور الطاف گوہر کے ذریعے نظریہ پاکستان تخلیق کرلیا اور ملک کو محب وطن اور غداروں میں تقسیم کر دیا۔10 برس تک سیاہ وسفید کے مالک رہنے کے باوجود ایوب خان اور اس کا نظام اک دم سے زمین بوس ہوگیا۔یحییٰ خان نے ون یونٹ ختم کر دیا ملک میں پانچ صوبے قائم کر دئیے جبکہ پہلی مرتبہ ایک شخص ایک ووٹ کی بنیاد پر عام انتخابات کروائے لیکن نتیجہ الٹا نکلا۔مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے98 فیصد کامیابی حاصل کرلی۔جبکہ مغربی پاکستان میں بھی یحییٰ خان کی پسندیدہ جماعتیں قیوم مسلم لیگ اور جماعت اسلامی عبرتناک شکست سے دو چار ہوئیں الیکشن کے بعد اصولی طورپر اقتدار شیخ مجیب کو منتقل کیا جانا چاہیے تھا لیکن مغربی پاکستان کی مقتدرہ اور بھٹو کی قیادت میں پنجابی ایلیٹ نے فیصلہ کیا کہ اقتدار کسی صورت بھی مشرقی پاکستان کو منتقل نہیں کیا جائے گا اس غلط فیصلہ کی وجہ سے16 دسمبر1971ءکو پاکستان دولخت ہوگیا طے شدہ منصوبہ کے تحت مغربی پاکستان کو پاکستان قرار دے کر اس کی باگ ڈور بھٹو کے حوالے کر دی گئی بھٹو نے سقوط مشرقی پاکستان کا غم بھلانے کےلئے”ہو جمالو“ کلچر کو فروغ دیا جبکہ لوگ بھی کچھ ہی عرصہ بعد بھول گئے کہ پاکستان دولخت ہوگیا ہے۔بھٹو نے1973ءکا آئین بنا کر پارلیمانی نظام نافذ کر دیا لیکن1976ءمیں جب جنرل ضیاءالحق آرمی چیف بنے تو وہ خوش نہیں تھے اسی دوران بھٹو سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے مارچ1977ءمیں قبل ازوقت انتخابات کروائے ان پر دھاندلی کا الزام لگا اور اپوزیشن نے ملک گیر تحریک چلائی اس کی وجہ سے ضیاءالحق کو تختہ الٹنے کا موقع مل گیا۔ضیاءالحق نے اگرچہ صوبے برقرار رکھے لیکن سارا نظام بدل دیا۔11سال تک بادشاہ رہنے کے باوجود وہ فیل ہوگئے اور بالآخر17اگست 1988ءکو راہی ملک عدم ہوگئے۔ضیاءالحق نے غیر جماعتی انتخابات کروائے لیکن خود ہی پارلیمنٹ کے اندر سے جونیجو لیگ بنا کر پارلیمانی نظام رائج کر دیا یہ سب کچھ ایک مذاق تھا ۔ضیاءالحق کے بعد لولی لنگڑی جمہوریت آئی جو کامیاب ٓنہ ہوسکی۔ضیاءالحق کے بعد پرویز مشرف نے12اکتوبر 1999ءکو نوازشریف کا تختہ الٹ دیا انہوں نے8برس تک حکومت کی ایوب خان اور ضیاءالحق کی طرح ق لیگ کے نام سے پارٹی بنائی اور اس کے ذریعے ملک کو چلایا لیکن یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوگیا۔
چار صوبوں کو توڑ کر52ئنے صوبے بنانا موجودہ حکمرانوں کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی خیال جنرل ضیاءالحق کا تھا افغان جنگ کے دوران امریکی مصنف سلیگ پیرسن کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام ڈویژنز کو صوبے کی حیثیت دینا چاہتے ہیں یہ انٹرویوسلیگ پیرسن کی کتاب میں موجود ہے اس انٹرویو پر جب میں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران جنرل ضیاءالحق سے سوال پوچھا تھا تو وہ سخت غصے میں آگئے تھے بلکہ آپے سے باہر ہو گئے تھے۔سلیگ پیرسن کے ساتھ مجھے بھی برا بھلا کہا تھا اور جیل بھی بھیجا تھا۔چنانچہ موجودہ حکمران ردوبدل کے بعد اور عصری تقاضوں کے مطابق ضیاءالحق کے نئے صوبوں کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔
موجودہ نظام محترمہ بے نظیر کی شہادت کے بعد قائم ہوا جو تسلسل سے چل رہا ہے لیکن اب اسے خطرات لاحق ہوگئے ہیں حکمرانوں نے پہلے اپنے پسندیدہ خلیفہ عمران خان کو ہٹا دیا اور اب پارلیمانی نظام کی بساط لپیٹنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔محسن نقوی نے یہ نہیں بتایا کہ موجودہ نظام برقرار رہے گا یا اس کی جگہ کوئی نیا نظام لایا جائے گا۔البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کےلئے ریفرنڈم کا سہارا لیا جا سکتا ہے یعنی انہیں پارلیمنٹ سے یہ امید نہیں کہ وہ نئے صوبوں کا ترمیمی بل منظور کرے جہاں تک حکمرانوں کی خواہشات کا تعلق ہے تو وہ اپنی جگہ لیکن قرائن یہی بتا رہے ہیں کہ موجودہ صوبوں کو توڑ کر نئے صوبے بنانے کی کوشش کی گئی تو حکمرانوں کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا حکمرانوں کا خیال ہے کہ بلوچستان میں محمود خان اچکزئی پہلے سے نئے صوبہ کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم بھی کراچی اور حیدرآباد پر مشتمل مہاجر صوبہ کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے بلوچستان میں خراب حالات کے باوجود تمام معاملات کو چھوڑ کر محمود خان اچکزئی بار بار برٹش بلوچستان کا نام لے رہے ہیں تو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ انہیں یہ ٹاسک ملا ہے اگر سندھ کو تقسیم کیا گیا تو سندھ کے اندر سب سے زیادہ مزاحمت ہوگی اگر بلوچستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا یعنی بلوچ اور پشتون تو ہوسکتا ہے کہ کوئی رکاوٹ نہ آئے اور باقی بلوچستان کو بھی تقسیم کیا گیا تو حالات میں زیادہ شدت آئے گی گمان یہی ہے کہ کے پی کے کو اگر دو حصوں میں بانٹا گیا تو معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا ورنہ وہاں کے لوگ اس فیصلہ کے خلاف مزاحم ہونگے۔جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو وہاں کی جماعت ن لیگ یقین دہانی کروا چکی ہے کہ یہ پنجاب کی تقسیم کے فیصلے کو قبول کرے گی۔یہ تو ایک امکانی جائزہ ہے لیکن موجودہ صوبوں کو توڑنا اور چھوٹے صوبے بنانا ایک نیا تجربہ ہوگا اور ضروری نہیں کہ یہ تجربہ کامیاب ہوجائے یا اس کے ذریعے ریاست میں امن استحکام اورخوشحالی آجائے۔
جو مستقبل کا منصوبہ ہے اس کا خطرناک ترین پہلو کراچی اور گوادر کو وفاقی تحویل میں لینا ہے یہ دو ساحلی علاقے سندھ اور بلوچستان کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے بغیر سندھ اور بلوچستان کا کوئی تصور باقی نہیں رہے گا اس لئے اگر ایسا فیصلہ کیا گیا تو سخت ردعمل دیکھنے کو ملے گا۔بعض دانشور یہ کہتے ہیں کہ حکمران ماضی کی طرح جوبھی تجربات کرلیں ضروری نہیں کہ وہ کامیاب ہو جائیں کیونکہ مسائل کی جڑ اور ہے۔اصل عارضہ اور ہے ریاستی ڈھانچے کے بنیادی عوامل اور ہیں۔جب تک اس کو حل نہیں کیا جائے گا ناکامی ہی ناکامی ہوگی البتہ جو بھی ہونا ہے اس کا دارومدار آصف علی زرداری پر ہے جو آج کل کراچی میں مورچہ زن ہیں اگر ان کا بس چلا تو وہ مزاحمت کریں گے اگر نہیں چلا تو اسی سال کسی وقت علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے جائیںگے ہاں یہ معلوم نہیں کہ بلاول کیا کریں گے؟بہرحال حکمرانوں کے جو غیر معمولی منصوبے ہیں وہ ن لیگ کے ذریعے روبہ عمل نہیں آسکتے اس کےلئے آئین سے ماوریٰ کوئی حکومت لانا پڑے گی جیسے کہ مارشل لاءگویا کچھ ہی عرصہ میں موجودہ رجیم کا چل چلاﺅ شروع ہونے والا ہے۔


