کشمیر کے انتخابات

کالم: سرفراز خان
کشمیر کے انتخابات

کشمیر برصغیر کا وہ خطہ ہے جو پاک بھاعت بٹوارے کے بعد بھی سفارتی، سیاسی اور تنازعاتی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو ختم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی، جس کے بعد یہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا۔
اس سے قبل 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی اقوام متحدہ کی قراردادوں میں پاکستان اور بھارت نے اصولی طور پر اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دیتے ہوئے رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ تاہم، آج تک نہ بھارت نے ان قراردادوں پر عمل کیا اور نہ ہی اقوام متحدہ انہیں موثر انداز میں نافذ کرا سکی۔

27 اپریل 1964 کو واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد منصفانہ حل یہی ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایسا معاہدہ ہو جس کے تحت کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دیا جائے۔

اب 27 جولائی کو آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی کل 53 نشستیں ہیں، جن میں 45 عام نشستیں شامل ہیں۔ ان میں سے 33 نشستیں آزاد کشمیر کے اندرونی حلقوں جبکہ 12 نشستیں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ 8 مخصوص نشستیں ہیں جن میں 5 خواتین، ایک علما و مشائخ، ایک ٹیکنوکریٹ اور ایک بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے لیے مخصوص ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابی میدان میں وہی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جو پاکستان میں وفاق، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں اتحادی حکومتوں کا حصہ ہیں۔ ایک طرف مسلم لیگ (ن) ہے تو دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی، مگر کشمیر میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہی ہیں۔

نواز شریف کشمیر میں اپنی جماعت کی حکومت دیکھنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کشمیری عوام سے تنخواہوں اور فلاحی منصوبوں کے وعدے کر رہے ہیں، جبکہ مریم نواز گرین بس منصوبے کی بات کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف تنخواہوں میں اضافہ یا گرین بس جیسے منصوبے کشمیر کے بنیادی سیاسی مسئلے کا حل ہیں؟ کیا اس سے کشمیر کی آئینی حیثیت بحال ہو جائے گی یا کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت مل جائے گا؟

اگر یہی سیاسی جماعتیں کشمیر میں ایک دوسرے کے خلاف بھرپور انتخابی مہم چلا سکتی ہیں تو پھر وفاق، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک ساتھ حکومتیں کیوں چلا رہی ہیں؟ یہ تضاد عوام کے ذہن میں کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔

اسی تناظر میں ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے لیے سیاسی میدان محدود کیوں ہے؟ اور جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کو سیاسی سرگرمیوں سے کیوں روکا گیا؟ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی اس وقت عائد کی گئی جب وہ مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے نظام پر اعتراضات اٹھا رہی تھی۔ ان کے مو¿قف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن سیاسی اختلاف کا جواب پابندی ہونا چاہیے یا سیاسی مقابلہ؟

کشمیر کی سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھی بھری پڑی ہے۔ 1968 میں حریت رہنما مقبول احمد بٹ سرینگر جیل سے فرار ہو کر آزاد کشمیر پہنچے تو انہیں بھی گرفتار کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختلافِ رائے کو دبانے کی روایت نئی نہیں۔

معروف بلوچ دانشور انور ساجدی کا یہ جملہ قابلِ غور ہے جنھوں نے ایک سیمینار میں کہی کہ "یہ حقیقی سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ این جے او ہیں۔” لیکن جب یہی جماعتیں وفاق، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں اتحادی ہوں، ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات بھی لگائیں اور پھر اقتدار میں بھی ساتھ ہوں، تو عوام کے ذہن میں سوالات ضرور جنم لیتے ہیں۔

کشمیر کو پاکستان کا شہے رگ بھی کہا جاتا ہے مگر, کوثر نیازی نے اپنی کتاب اور لائن کٹ گئی میں”سر” بھی لکھا ہے، لیکن جب کشمیری عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق آٹے، بجلی یا دیگر بنیادی مسائل پر احتجاج کرتے ہیں تو ان پر طاقت کے استعمال کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ اگر کشمیری عوام کے مسائل اتنے اہم ہیں تو پھر ان کے سیاسی اور آئینی مطالبات پر سنجیدہ اور جامع گفتگو کیوں نہیں ہوتی؟

میری رائے میں یہ انتخابات یک طرفہ نہیں ہوں گے، تاہم موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی حکومت بنانے کی مضبوط امیدوار دکھائی دیتی ہے۔

ان انتخابات کے اثرات بلوچستان کی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اگر آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کے اثرات وفاقی اتحادی سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بلوچستان کی کابینہ یا وزارتِ اعلیٰ میں بھی تبدیلی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر بلوچستان میں مقامی سیاسی قیادت، خصوصاً قوم پرست جماعتوں کو زیادہ مو¿ثر کردار دیا جائے تو شاید صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کی نئی راہیں ہموار ہو۔

آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے کہ کشمیر کے انتخابات میں اصل مقابلہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہے یا پھر ایک بار پھر عوام ہی سیاسی نعروں، وعدوں اور مفادات کی سیاست کے درمیان الجھ کر رہ جاتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں