جنگی منافع خور
تحریر: انور ساجدی
امریکہ اور ایران کی جنگ کے آغاز پر میں نے کالم لکھا تھا کہ آبنائے ہرمز میں کون غرق ہو گا ارادہ تھا کہ اسی پر مزید لکھا جائے لیکن معاہدہ ہونے اور امن قائم ہونے میں ابھی دیر ہے ، کیا پتہ کہ پاگل ٹرمپ کیا پینترا بدلے یا جنونی ملا صاحبان کیا گل کھلا ئیں اس لئے اس موضوع پر فی الحال اتنا کہا جا سکتا ہے کہ پہلے راﺅنڈ میں امریکہ عظمیٰ آبنائے ہرمز میں غرق ہو چکا ہے ٹرمپ نے جنگ کے عین درمیان میں اس کا نام آبنائے ٹرمپ رکھنے کا اعلان کیا تھا حالانکہ یہ عظیم آبی گزرگاہ نہ ایران کی ملکیت ہے اور نہ ہی ٹرمپ کے ابا کی ، میراث یہ مغربی وبلوچستان کا حصہ ہے جو ہزاروں سال سے خلق خدا کی خدمت کا مرکز ہے جب یورپی حملہ آور یہاں آئے تھے تو اس کی مرکزی بندرگاہ کا نام کوئی اور تھا بعد ازاں ایران نے اس پر قبضہ کر کے اس کا نام بندرعباس رکھ دیا آج کے جغرافیہ میں گبد سے کچھ پرے جو سمندر ہے حرمزگان تک وہ ایران کا مقبوضہ علاقہ ہے اور دنیا اس قبضہ کو تسلیم کرتی ہے لیکن جو مظلوم مالکان ہیں وہ کبھی اسے تسلیم نہیں کریں گے تاکہ
حق بہ حق دار رسید
جی سیون سمٹ میں فرانس میں ہوا مہمان خاص ڈونلڈ ٹرمپ تھے اجلاس کے آغاز پر جب دیگر سربراہان ٹرمپ سے مل رہے تھے تو انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی بھی ملتجی نظروں سے دیکھ رہے تھے لیکن ٹرمپ نے اسے نظر انداز کر دیا ایسا لگ رہا تھا کہ ٹرمپ مودی کو یا تو پہچان نہیں رہے یا پہچاننے سے انکاری ہیں یہ ہے کہ مودی کی وقعت جو دنیا کی چوتھی معیشت کے سربراہ ہیں لیکن عالمی سطح پر انہیں کوئی پذیرائی حاصل نہیں کیونکہ وہ اپنے ملک کے اندر آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ رہے ہیں اور فرقہ واریت کو ہوا دے کر الیکشن میں کامیابی حاصل کرتے ہیں اگر اس بھاری بھر کم معیشت کے ساتھ کوئی اور سربراہ ہوتا تو دنیا اس کے اردگرد چکر لگاتی اور ہر جگہ اس کی آﺅ بھگت ہوتی صدر ٹرمپ شائد ٹیرف اور سرمایہ کاری کی وجہ سے ناراض ہیں کیونکہ انڈیا نے ٹرمپ کے داماد جریڈ کشنر کی اتنی آﺅ بھگت نہیں کی جو کچھ اور ممالک نے کی ٹرمپ تو جنگی منافع خور ہیں وہ امن سرد جنگ اور گرم جنگ کے درمیان منافع کی تلاش میں رہتے ہیں مثال کے طور پر وہ اعلان کر کے آئے تھے کہ وہ ایران کی پوری تہذیب کو مٹا کر دم لیں گے لیکن آہستہ آہستہ پسپا ہوتے گئے ۔
ابتدائی مفاہمت ہونے کے بعد ٹرمپ صاحب کو منافع خوری کا اچھا موقع ہاتھ آیا ہے اب وہ کہتے ہیں کہ عرب ممالک سے تین ٹریلین ڈالر لے کر وہ ایران کی تعمیر نو پر خرچ کریں گے جنگ کے دوران ایران کے انفراسٹرکچر کو 80ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے جسے تعمیر کرنے کیلئے ٹرمپ صاحب کو 3سو ارب درکار ہیں کوئی بعید نہیں کہ کل کلاں وہ ایرانی ملا صاحبان سے کہے کہ تعمیر نو کے ٹھیکے امریکی کمپنیوں کو دیئے جائیں وہ کرغ (خارگ ) جزیرہ میں تیل کی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر کا ارادہ رکھتے ہیں وہ ایرانی بوسیدہ طیاروں کی جگہ بوئنگ کمپنی کے 2 سو نئے طیارے ایران کو فروخت کرنے کی پیشکش کا ارادہ بھی رکھتے ہیں ۔چین نے یہ پیشکش ٹھکرا دی تھی کیونکہ بوئنگ کمپنی امریکی فوج کیلئے اسلحہ بناتی ہے حالیہ جنگ سے پتہ چلا کہ امریکہ کا بیشتر اسلحہ از کار کہنہ اور ناکارہ ہو چکا ہے ایرانی سستے ڈونز نے مار مار کر امریکہ کا بھرکس نکال دیا اسرائیل اور خلیجی ممالک کا بھی ستیاناس کر دیا اس کے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل بھی ناکام ثابت ہو گئے اس لئے ٹرمپ جنگی منافع کما کر اپنی فوج کیلئے جدید اور موثر ہتھیار بنانا چاہتے ہیں سنجیدہ بات یہ ہے کہ مکمل معاہدہ ہونے کے بعد حالیہ امریکہ ، ایران جنگ کے بہت بڑے تزویراتی نتائج سامنے آئیں گے مثال کے طور پر امریکہ ، اسرائیل ، یو اے ای ، سعودی عرب ، کویت ، بحرین اور قطر کا دفاع کرنے میں بری طرہ ناکام ہو گیا امکانی طور پر یہ ممالک آئندہ آنکھیں بند کر کے امریکہ کا کہنا نہیں مانیں گے عین ممکن ہے کہ وہ امریکہ سے اصرار کریں وہ اپنے اڈے ختم کر دے کیونکہ یہ اڈے دفاع کرنے کی بجائے تباہی کا باعث ثابت ہوئے اگر امریکہ اور ایران میں یارانے قائم ہو گئے تو ایران کے وارے نیارے ہونگے اور خود کو خلیجی تھانیدار سمجھنے لگ جائیگا اور اس کے خیال میں مشرق میں منی سپر پاور وہ ہو گا جبکہ حقیقی سپر پاور چین ہے جو لڑنے اور تاوان اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہے اس جنگ کا سب سے بڑا لوزر اسرائیل ہے جو غصے میں آ کر لبنان اور فلسطین میں تباہی پھیلا رہا ہے اگر امریکہ اور ایران کی قربت بڑھ گئی تو اسرائیل یو اے ای کے ساتھ مل کر ریجن میں پراکسی وار شروع کر سکتا ہے وہ کردوں کو منظم کر کے مسلح کر سکتا ہے اور ایران کے باغی عناصر کو بھی رسد فراہم کر سکتا ہے ایک اور لوزر انڈیا ہے جو عالمی سیاست میں غیر موثر ہو گیا ہے انڈیا کی عزت مساوات کی بحالی کیلئے مودی کے زوال کا انتظار کرنا پڑے گا ۔
پاکستان کے حوالے سے آزاد کشمیر کا عوامی ابھار بہت ہی سنجیدہ صورت اختیار کر گیا ہے ریاست نے اس تحریک کی پشت پناہی کا الزام بھارت پر عائد کیا ہے اور ایکشن کمیٹی کے رہنماﺅں کو واضح طور پر بھارتی پراکسی یا ایجنٹ کا نام دیا ہے وہاں پر طاقت کے استعمال نے مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے آزاد کشمیر پورے کشمیر کے تناظر میں ایک متنازع علاقہ ہے اس لئے میر واعظ عمر فاروق اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے گوکہ مودی میں کوئی جان نہیں ہے اگر وہاں پر کانگریس کی حکومت ہوتی تو وہ آسمان سر پر اٹھا سکتی تھی اور براہ راست مداخلت بھی کر سکتی تھی جبکہ مودی تو اتنا بزدل ہے کہ اپنے سائے سے بھی ڈرتا ہے اس لئے گمان یہی ہے کہ ریاست کشمیر کی تحریک پر جلد قابو پا لے گی اور وہاں کچھ عرصہ کے بعد الیکشن کروا کر ن لیگ یا پیپلز پارٹی کی حکومت قائم کروا سکتی ہے کوئی بعید نہیں کہ علیم خان کی جماعت استحکام پاکستان پارٹی بھی جیت کر حکومت بنائے گلگت بلتستان میں تو کسی نے علیم خان کا نام بھی نہیں سنا تھا لیکن چار آزاد اراکین شامل کر کے اسے حکومت سازی میں اہم کردار دیدیا گیا ہے پہلے پلان یہ تھا کہ اگر ن لیگ 10 نشستیں جیت لے تو علیم خان کی زرخرید نشستوں کو ملا کر حکومت قائم کی جائے لیکن بلاول اتنے چیخے چلائے کہ اسے 10نشستیں دینا پڑ گئیں ویسے اس وقت ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں زیادہ فرق نہیں ہے دونوں اچھے بچوں کی طرح بڑوں کا کہا مان کر چل رہی ہیں ۔
ویسے مودی کیلئے ایک بڑی ہزیمت یہ ہو گی کہ اگلے سال جب نوبل کمیٹی امن انعام کیلئے امریکی صدر ٹرمپ اور پاکستانی فیلڈ مارشل کو انعام کیلئے نامزد کر دے بے چارے مودی کہیں کے نہیں رہیں گے جب کیمپ ڈیوڈ میں 1981ء میں اسرائیل اور پی ایل او کے درمیان صلح ہوئی تھی تو نوبل انعام کیلئے صدر امریکہ ، یاسر عرفات ، اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ شمعون پریز کو بھی نامزد کیا گیا تھا لیکن شہباز شریف کی نامزدگی کا امکان کم ہے کیونکہ پاکستانی حکام امن مذاکرات کا کریڈٹ فیلڈ مارشل کو دے رہے ہیں اگر نوبل انعام کی نوبت آئی تو صدر امریکہ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل ہی نامزد ہو سکتے ہیں باقی نوبل کمیٹی کی مہربانی کہ وہ شہباز شریف کے نام پر بھی غور کرے ۔


