تعلیمی بحران ,تحریر شاہد علی بخش

جدید دنیا کی ترقی کا راز جدید اور معیاری تعلیم ہے۔ معیاری اور جدید تعلیم ایک ترقی یافتہ معاشرے کی ضامن ہے۔ اس وقت دنیا میں کئی ممالک جدید تعلیم کیلئے اساتذہ کی تربیت پر کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں۔ ان ممالک کو اس چیز کا بخوبی علم ہے کہ ایک تعلیم یافتہ اور ماہر استاد ہی معیاری تعلیم فراہم کرسکتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس دوڑ میں شامل ہونے کیلئے 2006 میں نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن جیسے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کا مقصد تعلیم نظام کو بہتر بنانے کیلئے ماہر اساتذہ تیار کرنا تھا۔
پھر 2009 میں مہارتی ڈگری بی ایڈ 4 سالہ پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ اس ڈگری کا مقصد بھی بہتر اور ماہر اساتذہ تیار کرنا اور درس و تدریس کی نظام کو بہتر سے بہتر بنا کر معیاری تعلیم دینا تھا۔ اس کے بعد 2016 میں بی ایڈ 1.5 پروگرام کا آغاز بھی اس سفر کا ایک باب تھا۔ بی ایڈ 1.5 ماسٹرز کے ڈگری والوں کیلئے تھا تاکہ وہ بھی مہارتی تعلیم حاصل کرکے قوم کی ترقی و معیاری تعلیم کی دوڑ میں بطور ماہر اساتذہ اپنا کردار ادا کرسکیں۔مگر ان تمام اقدامات کے باوجود پاکستان میں خاص طور پر بلوچستان میں پہلے ہی سے تعلیمی نظام مختلف مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ ماہر اساتذہ کی کمی سے لے کر بنیادی سہولیات کا نہ ہونا بلوچستان کے تعلیمی نظام میں عام ہے۔ پہلے سے تباہ شدہ تعلیمی نظام کی تباہی کیلئے آئے روز نئے باب کھولے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ بلوچستان کے تعلیمی نظام میں بہتری لائی جارہی ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تباہ شدہ نظام کی تباہی کیلئے 2025 میں جونئیر کیڈر اساتذہ بھرتی کیلئے کنٹریکٹ پالیسی بنائی گئی۔ جو کی ایک تباہ کن پالیسی کے بطور تعلیمی نظام پہ نافذ ہے۔
مفلوج نظام کی تباہی یہاں تک محدود نہیں رہا۔ روان سال ایک نیا شوشہ شروع کیا گیا۔ اب ایس ایس ٹی اساتذہ کی بھرتی کو بھی ایڈہاک جیسی تباہ کن پالیسی کے ذریعے کیا جائیگا۔ پہلے سے تباہ شدہ تعلیمی نظام کو مزید تباہ کرنے کیلئے یہ بھی ایک اور وار سمجھا جائیگا۔
المیہ یہ ہے ایس ایس ٹی ایڈہاک کیلئے پروفیشنل ڈگری ہولڈرز( جیساکہ ایم، اے ایجوکیشن، یا بی ایڈ) امیداروں کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔ ایک طرف حکومتیں وذمہ داران سالانہ 400 سکالرشپ دے کر طالبات کو بی ایڈ ڈگری کیلئے ملک کے مختلف جامعات میں داخلہ دلوا رہی ہیں اور دوسری طرف ان ہی ڈگری ہولڈرز کو بےروزگار کرنے میں طرح طرح کی پالیساں بنا کر تعلیمی نظام کو تباہی کے طرف لے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ی جا رہی ۔
ایس ایس ٹی کی حالیہ بھرتی پالیسی پروفیشنل ڈگری ہولڈرز کیلئے خاصی مایوس کن ہے اور نوجوان طلبہ و طالبات میں اضطراب پیدا کررہی ہے۔ پہلے کنٹریکٹ اور اب ایس ایس ٹی ایڈہاک بھرتیوں میں پروفیشنل ڈگری ہولڈرز کو نااہل کرنا بلوچستان کے طلباءو طالبات کے ساتھ کسی ناانصافی سے کم نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں