ضلع کیچ میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، آل پارٹیز اور انجمن تاجران کا حکومت کو 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش
تربت (این این آئی)ضلع کیچ میں مسلسل بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، بارڈر تجارت میں رکاوٹوں، تاجروں کو مبینہ ہراساں کیے جانے، چیک پوسٹوں اور عوامی شاہراہوں کی بندش کے خلاف آل پارٹیز کیچ اور انجمن تاجران کیچ نے حکومت کے سامنے 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے مطالبات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ رہنماو¿ں نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو شٹر ڈاو¿ن، احتجاجی جلسوں اور دھرنوں سمیت احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ آل پارٹیز کیچ کے کنوینر یونس جاوید، ڈپٹی کنوینر فدا جان بلیدی، جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما غلام یاسین، بی این پی عوامی کے مرکزی رہنما ظریف زدگ بلوچ، پی این پی عوامی کے مرکزی رہنما خان محمد جان گچکی، انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار آدم جوسکی، مرکزی جمعیت اہل حدیث بلوچستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر علی جان بلوچ، ضلع کیچ کے امیر مولانا سعید احمد تگرانی، جے یو آئی کے رہنما مولانا جاوید نعمانی اور بی این پی کے رہنما ڈاکٹر غفور و دیگر نے خطاب کیا، جبکہ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ، جسٹس ریٹائرڈ شکیل احمد ایڈووکیٹ، نثار احمد جوسکی، گلزار دوست، میران حیات سمیت دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کیچ کے عوام ایک طرف بدامنی، چوری، ڈکیتی، لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان کے خوف میں مبتلا ہیں تو دوسری جانب روزگار اور کاروبار کے ذرائع مسلسل محدود کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، ایسے حالات پیدا کرنا نہیں جن میں شہری اپنے گھروں، بازاروں، شاہراہوں اور کاروبار میں بھی خود کو غیر محفوظ سمجھیں۔آل پارٹیز نے مطالبہ کیا کہ تربت، بلیدہ، دشت، ہوشاب سمیت پورے ضلع کیچ میں امن و امان فوری طور پر بحال کیا جائے، چوری، ڈکیتی، موٹر سائیکل چوری، لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو عملی طور پر یقینی بنایا جائے۔رہنماو¿ں نے پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جوک، ناصر آباد، دشت، بلیدہ اور ہوشاب سمیت کیچ کے تمام تھانوں کو فعال کیا جائے، پولیس نفری اور ذمہ دار افسران کی موجودگی یقینی بنائی جائے اور تمام ایس ایچ اوز و متعلقہ انچارجز کو اپنے علاقوں میں باقاعدگی سے موجود رہنے کا پابند کیا جائے۔پریس کانفرنس میں کلگ سہرانی میں بلوچ خاتون ماہ گل کے مبینہ اغوا اور قتل کے واقعے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماوں نے کہا کہ گھر سے ایک خاتون کا جبری اغوا، قتل اور لاش پھینکنے کا واقعہ انتہائی سنگین ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کرائی جائیں، ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور کسی دباو¿ یا مصلحت کو تحقیقات پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے۔بارڈر تجارت کی صورتحال پر آل پارٹیز کیچ نے کیچ کے تمام بارڈر پوائنٹس، خصوصاً عبدوئی اور جالگی بارڈر پوائنٹس کی بندش فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ رہنماو¿ں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے اور بارڈر پوائنٹس کی بندش ان خاندانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔انہوں نے ردیگ بارڈر کو سابقہ پوزیشن پر بحال کرنے، بارڈر تجارت معمول کے مطابق کھولنے اور تاجروں کے لیے شفاف، آسان اور تاجر دوست نظام وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔ رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ غیر ضروری ڈیوٹیز، شرائط اور رکاوٹوں کے ذریعے بارڈر تجارت کو مفلوج کرنے کے بجائے ایسا نظام بنایا جائے جس سے تجارت بھی جاری رہے اور ریاستی محصولات کا نظام بھی شفاف انداز میں چل سکے۔آل پارٹیز نے ردیگ سمیت دیگر بارڈر پوائنٹس پر تاجروں اور عام شہریوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرنے اور کراچی سے سامان لانے والی گاڑیوں کو موچکو کے مقام پر روکنے اور مبینہ بھتہ وصولی کی شکایات کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔تربت شہر میں چیک پوسٹوں اور عوامی راستوں کی بندش پر بھی سخت اعتراض کرتے ہوئے رہنماو¿ں نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر عوامی زندگی مفلوج نہیں کی جا سکتی۔ جن سڑکوں اور راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں انہیں فوری طور پر کھولا جائے اور مین شاہراہ سمیت اندرون شہر کئی کئی گھنٹے راستے بند رکھنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔رہنماو¿ں نے جوسک سے ہوشاب تک مبینہ بھتہ خوری کے خاتمے، غیر ضروری چیک پوسٹیں ختم کرنے اور چیک پوسٹوں کے باعث بنائے گئے متبادل راستوں کے بجائے عوام کے قدیم اور براہ راست راستے بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تربت ہسپتال، بلوچستان ہائی کورٹ اور لا کالج جانے والے راستوں کو ہر وقت آمد و رفت کے لیے کھلا رکھا جائے تاکہ مریضوں، طلبہ، وکلا، ڈاکٹروں اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ غلام نبی پمپ سے پارک ہوٹل تک بند سڑک بھی فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔پریس کانفرنس میں اغوا برائے تاوان کے لیے شہریوں کو مبینہ دھمکی آمیز ٹیلی فون کالز کے واقعات کا سدباب کرنے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ رہنماوں نے شہری آبادی والے علاقوں میں ڈرون کیمروں کے استعمال پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اقدامات کے نام پر شہریوں کی نجی زندگی اور بنیادی آزادیوں کو متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔آل پارٹیز کیچ نے کہا کہ کیچ کے عوام کو مزید خوف، بدامنی، معاشی گھٹن اور غیر ضروری پابندیوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ حکومت اور متعلقہ ادارے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، روزگار، کاروبار اور آزادانہ نقل و حرکت سمیت بنیادی آئینی حقوق کی عملی ضمانت دیں اور 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کے لیے واضح لائحہ عمل پیش کریں۔رہنماو¿ں نے کہا کہ اگر مطالبات پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو آل پارٹیز کیچ اپنی احتجاجی تحریک کو وسعت دے گی، جس میں شٹر ڈاو¿ن، احتجاجی جلسے، دھرنے اور دیگر جمہوری و آئینی اقدامات شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔


