مکران یونیورسٹی کی نئے صوبوں سے متعلق بیان حقائق کے منافی، میری سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، پھلین بلوچ
نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما، رکن قومی اسمبلی اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین پھلین بلوچ نے مکران یونیورسٹی پنجگور کی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ دنوں منعقد کیے گئے پینل ڈسکشن کے اختتام پر جاری کیے جانے والے پالیسی بیان پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک وضاحتی بیان میں پھلین بلوچ نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ”نئے صوبوں“ کے موضوع پر منعقدہ پینل ڈسکشن میں علمی اور دلائل کی بنیاد پر ہونے والی گفتگو کے برخلاف پینل کے اختتام پر جاری بیان میں تمام پینلسٹس کو نئے صوبوں کا حامی ظاہر کیا گیا، جو نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس سے ان کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ پینل ڈسکشن میں تین پینلسٹس نے علمی، منطقی اور مدلل انداز میں نئے صوبوں کے قیام کے موقف کی مخالفت کی، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کے مو¿قف اور دلائل کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسا پالیسی بیان جاری کیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ تمام پینلسٹس نئے صوبوں کے حامی تھے۔پھلین بلوچ نے کہا کہ پینل ڈسکشن کی مکمل ریکارڈنگ موجود ہے، جس سے واضح طور پر دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ مختلف پینلسٹس نے موضوع پر کیا مو¿قف اختیار کیا۔ ان کے بقول، انتظامیہ کی جانب سے حقائق کے برعکس مو¿قف پیش کرنا تنگ نظری کے مترادف ہے اور اس سے ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک معروف علمی اور تعلیمی ادارے سے اس قسم کے عمل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگر علمی اداروں میں مختلف آرا، اختلافِ رائے اور مدلل گفتگو کو درست انداز میں پیش نہ کیا جائے تو اس سے نہ صرف ادارے کی غیر جانب داری اور علمی حیثیت متاثر ہوتی ہے بلکہ مستقبل میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ایسے پروگراموں میں شرکت سے قبل سوچنے پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے مکران یونیورسٹی پنجگور کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پینل ڈسکشن کی اصل گفتگو اور ریکارڈنگ کو سامنے رکھتے ہوئے جاری کیے گئے پالیسی بیان کی وضاحت کرے اور تمام پینلسٹس کے مو¿قف کو درست اور غیر جانب دارانہ انداز میں پیش کرے۔


