بیوٹمز سٹی کیمپس کسی دوسرے ادارے کے حوالے کرنے کا فیصلہ تشویشناک ہے، بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن

کوئٹہ(این این آئی) بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن نے بیوٹمز سٹی کیمپس کو کسی دوسرے سرکاری ادارے کے حوالے کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیوٹمز بلوچستان کا ایک اہم اور معتبر اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے، جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی کی موجودہ تعلیمی ضروریات پہلے ہی بڑھ چکی ہیں، اور درجنوں نئے ڈیپارٹمنٹس متعارف کئے جاچکے ہیں، اسی لئے لئے مستقبل میں طلبہ کی تعداد، تدریسی پروگرامز اور تحقیقی سرگرمیوں میں مزید اضافے کے پیش نظر اضافی تعلیمی انفراسٹرکچر ناگزیر ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب بیوٹمز کو مزید کلاس رومز، جدید لیبارٹریز، تحقیقی مراکز، لائبریری، گراو¿نڈز اور دیگر طلبہ سہولیات کی ضرورت ہے، یونیورسٹی کے موجودہ اثاثوں کو ایک ایک کرکے دیگر سرکاری اداروں کے حوالے کرنا کسی صورت دانشمندانہ تعلیمی پالیسی نہیں ہو سکتی۔ یونیورسٹی کے اثاثے کسی فرد یا حکومتِ وقت کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام، طلبہ اور آنے والی نسلوں کا تعلیمی سرمایہ ہیں۔ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ سٹی کیمپس کو بیوٹمز سے الگ کرنے کا کوئی بھی اقدام یونیورسٹی کی مستقبل کی توسیع، تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے اثاثے کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن نے چانسلر و گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیرِ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ سٹی کیمپس کو کسی دوسرے سرکاری ادارے کے حوالے کرنے کے فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کی جائے اور اسے بیوٹمز کے تعلیمی مقاصد کے لیے برقرار رکھا جائے۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اگر یونیورسٹی کے تعلیمی اثاثوں کو مسلسل محدود کیا گیا تو اس کے اثرات صرف موجودہ انتظامیہ یا ملازمین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ براہِ راست بلوچستان کے طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر پڑیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری نوعیت کے انتظامی فیصلوں کے بجائے طویل المدت تعلیمی مفاد کو ترجیح دے اور بیوٹمز کی توسیع و ترقی کے لیے درکار وسائل اور سہولیات فراہم کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں