بلوچستان کی تقسیم کے فیصلے جامعات یا چند افراد نہیں کرسکتے،بی ایس او

پنجگور(مانیٹرنگ ڈیسک)بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے جامعہ مکران پنجگور کی جانب سے بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی تقسیم اور اس کے مستقبل سے متعلق فیصلے کسی یونیورسٹی کی انتظامیہ یا چند افراد کے اجلاس میں نہیں کیے جا سکتے۔ ہمارے لیے بلوچستان محض ایک صوبہ نہیں بلکہ بلوچ وطن ہے؛ ایک ایسی تاریخی سرزمین جو بلوچ قوم کی شناخت، تاریخ، زبان، ثقافت اور اجتماعی وجود سے جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے بلوچستان کی تقسیم سے متعلق کسی بھی اقدام کو محض انتظامی معاملہ قرار دینا اس مسئلے کی سیاسی اور قومی نوعیت کو نظرانداز کرنا ہے۔ اگر جامعات میں طلبہ کی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں، سیاسی پروگراموں اور اظہارِ رائے تک کو مختلف پابندیوں کا سامنا ہے تو پھر جامعہ مکران پنجگور کی انتظامیہ کو یہ وضاحت دینی ہوگی کہ اسے بلوچستان کی تقسیم جیسے خالصتاً سیاسی معاملے پر قرارداد منظور کرنے کا اختیار کہاں سے حاصل ہوا؟ طلبہ کے سیاسی اظہار پر پابندی اور یونیورسٹی انتظامیہ کو سیاسی قراردادوں کی آزادی، یہ دوہرا معیار قابلِ قبول نہیں۔کسی وائس چانسلر کی علمی قابلیت، تحقیقی خدمات یا کسی عہدے کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن کوئی علمی منصب بلوچستان کے سیاسی مستقبل پر فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ بلوچستان کے بارے میں فیصلے چند افراد کے انتظامی اجلاسوں میں نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کی سیاسی رائے اور جمہوری و آئینی عمل کے ذریعے ہونے چاہئیں۔ بلوچستان کو محض نقشے پر ایک انتظامی اکائی سمجھ کر تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے لیے بلوچستان ایک وطن ہے، جس کے ساتھ بلوچ قوم کی صدیوں پر محیط تاریخ، شناخت اور اجتماعی وابستگی جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے بلوچستان کی وحدت اور مستقبل سے متعلق کسی بھی اقدام کو عوامی سیاسی اختیار سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جامعہ مکران پنجگور کی انتظامیہ واضح کرے کہ نئے صوبوں کے قیام کے حق میں قرارداد کس قانونی یا ادارہ جاتی اختیار کے تحت منظور کی گئی۔ اختلاف کرنے والوں کو شخصیات کی علمی خدمات کی فہرستیں دکھانے کے بجائے اس بنیادی سوال کا جواب دیا جائے کہ یونیورسٹی کو بلوچستان کے سیاسی مستقبل پر قرارداد منظور کرنے کا اختیار کس قانون یا ضابطے نے دیا ہے۔بی ایس او نے واضح کیا کہ جامعات علم، تحقیق اور مکالمے کے مراکز ہیں۔ بلوچستان کی تقسیم کا سیاسی جواز پیدا کرنا ان کا مینڈیٹ نہیں۔ بلوچستان کے مستقبل کا فیصلہ یونیورسٹی کے کسی اجلاس میں نہیں ہو سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں