پنجگور پولیس کا رویہ درست نہیں، جھوٹی ایف آئی آر کا نوٹس لیا جائے، شہباز طارق ایڈووکیٹ

پنجگور معروف قانون دان اور بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما شہبازطارق ایڈوکیٹ ،منظور احمد، خلیل احمد ملا نوید اور دیگر نے سراوان خدابادان میں اپنے دیگر رشتہ داروں اور عزیزو اقارب کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں پنجگور کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں کی تباہ کاریوں اور تسپ میں لوگوں کے گھروں اور دیگر املاک کے متاثر ہونے کے ساتھ سراوان خدابادان میں بھی طوفانی بارشوں کی وجہ سے منظور احمد کے گھر کی دیوار گرنے کے سبب منظور احمد کا جوانسال بیٹا نوید احمد اور ناصر قریش ملبے تلے دب کر شدید زخمی ہوگئے تھے جنہیں بعد ازاں تشویشناک حالت میں سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا مگر اسپتال میں کافی دیر تک ڈاکٹرز موجود نہیں تھے مناسب ٹریٹمنٹ نہ ملنے کے سبب نوید احمد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے اور ناصر قریش زخمی حالت میں سول ہسپتال میں تڑپتا رہا لیکن اس دوران ہسپتال میں ایک اسسٹنٹ کے علاوہ کوئی دوسرا ڈاکٹرموجود نہیں تھا انہوں نے کہا کہ جب ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے حوالے سے اسٹاف سے دریافت کیاگیا تو ہمیں یہ تسلی دی گئی کہ ڈاکٹرز صاحبان بس پہنچنے والے ہیں لیکن انتظار طویل ہوتا گیا مگر ڈاکٹرز نہیں پہنچے جس کے بعد یہ کہہ کر معاملہ رفع کرنے کی کوشش کی گئی کہ ڈاکٹرشہر سے باہر گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ڈاکٹروں کی تلاش میں سرگردان تھے کہ اسی دوران ایک پولیس اہلکار جس کا نام سلامت علی ہے جس کا اسپتال میں کوئی ڈیوٹی بھی نہیں تھا موصوف نے ہسپتال پہنچتے ہی زخمیوں کی عیادت اور ہمدردی کے لیے آنے والے رشتہ داروں کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کیاجس پر لوگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تاکہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکے مگر اس کے باوجود وہ اپنا سرکاری اسلحہ باربار استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہے اور زخمیوں کے ساتھ آنے والے اُن کے رشتہ داروں کے ساتھ مسلسل لڑتے اور انھیں پریشان کرتے رہے مگر پھر ہمارے لوگوں نے صبر کا دامن ہاتھ میں نہیں چھوڑا اور معاملہ رفع کرنے کی حتی الوسع کوشش کی تاکہ ماحول خراب ہونے سے بچ جائے انہوں نے کہا کہ اگلے روز جب ہم شہید ہونے والے نوید احمد کے فاتحہ کے لیے بیٹھے تھے اور کچھ رشتہ دار زخمی ناصر قریش کے ساتھ کراچی گئے جس کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوا کہ پولیس نے منظور احمد سمیت چھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلیا ہے اور اس میں علاقے کے مذید درجنوں لوگوں کو شامل ایف آئی آر کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم رنج وغم میں مبتلا ہیں اور ابھی تک شہید کے غسل کی مٹی خشک بھی نہیں ہوئی ہے پولیس نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے غم زدہ خاندان کو ہراسان کرنا شروع کردیا ہے انہوں نے کہا کہ نوجوان نوید احمد کی شہادت اور ناصر قریش کے زخمی ہونے سے پورا علاقہ غم اور پریشانی میں مبتلا ہے اور تعزیت کا بھی سلسلہ جاری ہے اس مسلے پر ہم نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن موصوف نے ہم سے ملنے پر انکارکیا اور متعلقہ پولیس اہلکار کی غلط بیانی پر بھروسہ کرکے اپنے عہدے کی شان کو متنازعہ بنایا .انہوں نے کہا کہ ایک زمہ دار آفیسر کی متاثرین اوراہل علاقہ کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار اس بات کو تقویت دینے کے لیے کافی ہے کہ پولیس ہر حال میں اپنے اہلکار کو سپورٹ کرنا چاہتی ہے چائے وہ قانون کی دھجیاں اڑاتے پھریں انہوں نے کہا کہ ہم پر امن شہری ہیں اور منصوبہ کے تحت ہمارے لئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں ہمارے خلاف ایف آئی آر بھی ایک سازش ہے انہوں نے کہا کہ ہم پر امن شہری ہیں اور انصاف کے طلب گار ہیں جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ ہمارے نوجوان کی شہادت پر ہمدردی کرکے اس مشکل گھڑی میں ہمارے زخموں پر مرہم رکھے گا ناکہ پر امن ماحول کوخرابی کی جانب لیکر جائے گا انہون نے کہا کہ پولیس کا یہ عمل قانون اور علاقائی روایات کے برخلاف ہے پریشان حال خاندان اور اہل علاقہ اپنا مدا لیکر کس کے پاس جائیں ایک تو ہمارے گھر کا ایک چراغ بج گیا تو دوسری طرف پولیس گردہ کے زریعے ہمارے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں آئی جی پولیس اس سنگین مسلے کا نوٹس لیں اور ہمارے ساتھ انصاف کرائے

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply