گریشہ، لاپتہ افراد کے لواحقین اور انتظامیہ میں مذکرات کامیاب، احتجاج موخر

گریشہ(نمائندہ انتخاب ) گریشہمیں لاپتہ افراد کے لواحقین اور انتظامیہ میں مذکرات کامیاب، دھرنا موخرکر دیا گیا ، گریشہ انتظامیہ اور لاپتہ افراد کے خاندان کے درمیان مذاکرات درج ذیل نکات کے مطابق ہوئے۔مزاکرات میں کہا گیا کہ ہمارے لوگوں کو بازیاب کیا جائے اگر ریاست سمجھتی ہے کہ انہوں نے کوئی جرم کی ہے تو انہیں اپنے بنائے ہوئے عدالتوں میں پیش کریں۔ ہمارے لوگ کس ادارے کے پاس ہیں تو ہمیں اس ادارے کے نام ہمارے لوگوں کی جان کی حفاظت کی زمہ داری دی جائے۔اے ڈی سی خضدار رحمت اللہ بلوچ نے تحریری طور پر معاہدہ کیا کہ اگر پانچ دن تک ان معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو اس کا زمہ دار میں انتظامیہ، مذاکراتی ٹیم خاص کر اے ڈی سی ہوگی۔ آخر میں لوگوں نے اپنی بات رکھی اور کہا کہ اگر پانچ دن کے اندر اندر ہمارے لوگوں کو منظر عام پر نہیں لایا گیا تو ہم واپس سڑکوں پر آکر بیٹھیں گے۔ واضح رہے کہ 18 جولائی کو گریشہ سے شاہ جان ولد سلیم، گوہر دین ولد ھیرجان، مہم جان ولد لال بخش، میار ولد لال بخش، محمد عارف ولد عبدالرحمن، منیر ولد سبزو سمیت متعدد لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا جس کے خلاف لواحقین نے احتجاج کی کال دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں