وڈھ میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف شہریوں نے مرکزی شاہراہ کو احتجاجاً بند کردیا
خضدار ( بیورو رپورٹ) خضدار کی تحصیل وڈھ میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی غم و غصہ اپنے عروج پر پہنچ گیا مشتعل شہریوں نے احتجاجاً وڈھ کے مقام پر قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیاشاہراہ کی بندش سے کوئٹہ کراچی روٹ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور سینکڑوں مسافر شدید گرمی میں پھنس کر رہ گئے ہیں مقامی ذرائع کے مطابق وڈھ اور گردونواح میں گزشتہ کئی ہفتے سے بجلی کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہےروزانہ 18 سے 20 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے زندگی کا پہیہ جام کردیا ہے شدید گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی بندش نے گھریلو صارفین، طلبہ، خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث گھروں میں پینے کے پانی کا بھی شدید بحران پیدا ہوگیا ہے ٹیوب ویل بند ہونے سے پانی کی سپلائی معطل ہے اور خواتین کو دور دراز علاقوں سے پانی بھرکر لانا پڑرہا ہے تاجر برادری سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں بجلی کی مکمل بحالی اور شیڈول کا اعلان نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔


