مست و الست لوگ
تحریر: انور ساجدی
پاکستان کے جوشہری لوگ ہیں وہ”مست والست“ ہیں اگر رات کو کراچی اور لاہور کے ریستورانوں میں جائیں تو اتنا رش دکھائی دیتا ہے جیسے ملکی و غیر ملکی حالات معمول پر ہیں۔کوئی مسئلہ نہیں پریشانی اور کوئی دکھ نہیں ہے۔ ان لوگوں کو پرواہ نہیں کہ ان کے پڑوس میں ایک خطرناک جنگ جاری ہے ہزاروں لوگ ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں یہ جنگ عارضی رکی ہوئی ہے لیکن اس کے شعلے کسی وقت بھی دوبارہ بھڑک سکتے ہیں اور پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں یہاں کے حکمرانوں کو معلوم ہے کہ جو بھی صورتحال ہو عوام کو پرواہ نہیں وہ حاکمان وقت سے سوال پوچھنے کی صلاحیت کھوچکے ہیں وہ آمرانہ طرز عمل کے کافی عادی ہوچکے ہیں ان کی بلا سے کہ ریاست کے میڈیا پر سخت سنسرشپ نافذ ہے اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے تحریک انصاف کے سارے لیڈر بک چکے ہیں حکمران اپنی قائم کردہ پارلیمنٹ کو خود ہی ربراسٹیمپ سے زیادہ نہیں سمجھتے ہر بڑا فیصلہ پارلیمنٹ سے بالا طے کرتے ہیں نہ اراکین میں جان ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کا احتساب کریں۔
نتیجہ یہ کہ امریکہ ایران جنگ سے ساری دنیا کی معیشت لپیٹ میں آچکی ہے دنیا کی تمام ائیرلائنز گراﺅنڈ ہوچکی ہیں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں یورپ چیخ رہا ہے کہ ان کے تیل کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں آبنائے ہرمز کی بندش سے تمام خلیجی مماک کے تیل کا راستہ بند ہے لیکن پاکستانیوں کو ذرہ برابر احساس نہیں ہے۔
اب تو امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کے تیل کا ایکسپورٹ بھی بند ہوچکا ہے لیکن پاکستانی حکمران مزے کا وقت بڑے بڑے اطمینان سے گزار رہے ہیں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع نہ ہوسکے لیکن دارالحکومت ایک ہفتہ سے سیل ہے وہاں کے مکین قید کی زندگی گزار رہے ہیں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ آغا خان اپنا فائیو اسٹار ہوٹل بیچ رہے ہیں ڈیڑھ کھرب قیمت رکھی گئی ہے لیکن کوئی خریدار نہیں ہے۔جنگ کی وجہ سے دوبارہ تیل کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے حکمران مجبور ہیں کہ قیمتیں بڑھا دیں سعودی عرب نے مزید قرض دے کر یو اے ای سے چھڑا دی ہے لیکن گلف سے کئی3لاکھ پاکستانی بے دخل اور بے روزگار ہوں گے تو قیمتی زرمبادلہ کی قلت پیدا ہو جائے گی۔ان لوگوں کے واپس آنے سے ایک افراتفری مچ جائے گی یواے ای جنگ کے دو مہینے کے دوران دیوالیہ ہوگیا ہے امریکی بینکوں نے دفاتر بند کر کے پیسہ واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے اگر جنگ ختم نہ ہوئی تو بحرین اور کویت کا برا حال ہو جائے گا۔وہاں سے بھی غیر ملکی ورکرز نکالے جائیں گے اس صورتحال کے باوجود پاکستان کے حکمران چین کی نیند سو رہے ہیں خدا کرے کہ ان کی ثالثی کامیاب ہو جائے اور جنگ کا جلد خاتمہ ہو جائے ورنہ انتہائی تشویشناک حالات پیدا ہو جائیں گے عالمی مبصرین کے مطابق امریکہ نے50سال پہلے جو اسلحہ بنایا تھا وہ ایران کے خلاف جنگ میں غیر موثر ثابت ہوگیا ہے اس لئے واشنگٹن میں یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ ہتھیار ترک کرکے جدید اور موثر ہتھیار کیسے بنائے جائیں۔سنا ہے کہ اس مسئلہ پر وزیر جنگ اور بحری امور کے وزیر کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کی وجہ سے صدرٹرمپ نے نیوی کے وزیر کو برطرف کر دیا۔جہاں تک ثالثی کا تعلق ہے تو اس کی کامیابی ففٹی ففٹی ہے۔صدر ٹرمپ قدرے بھروسہ کر رہے ہیں لیکن ایرانی قیادت بھروسہ نہیں کر رہی ہے ایران کے تیل کا محاصرہ کر کے ٹرمپ نے ملا صاحبان کی شہ رگ دبوچ لی ہے جبکہ مجموعی طورپر آبنائے ہرمز کی بندش سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔جہاں ٹرمپ پاگل اور چھچورا ہے وہاں ایران کے ملا صاحبان بھی بلا کے ضدی اور انتہاپسندی کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں حالانکہ مصلحت کا تقاضا ہے کہ ملا صاحبان وقتی طورپر صلح کا راستہ نکالیں کیونکہ اگر ٹرمپ مزید غصے میں آگیا تو وہ ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا ہے۔جس کے نتیجے میں پورا ملک تاراج ہوسکتا ہے۔ٹرمپ پھنس چکا ہے تو اسے بھی کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔اگر ثالثی فیل ہوئی تو بڑے بڑے بحران آئیں گے جنہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
عجیب حکمران ہیں کہ اخراجات پورے کرنے کےلئے عوام پر ہر روز نئے بوجھ ڈال رہے ہیں جبکہ ملک سے سے اربوں ڈالر بیرون ملک جا رہے ہیں وزیرداخلہ محسن نقوی نے کراچی میں سیٹھوں کے اجتماع میں انکشاف کیا تھا کہ سال دو سال میں یارلوگ ایک سو ارب ڈالر باہر بھیج چکے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک دو بندے گرفت میں آجائیں تو کچھ نہ کچھ مال مسروقہ واپس آ جاءےگا سوال یہ ہے کہ جب سرمایہ باہر منتقل ہو رہا ہے تو وزیرداخلہ اور ان کے محکمے کیا کر رہے ہیں جن کو گرفتار کرنا ہے تو وہ آزاد کیوں ہیں اس دوران یہ افواہ پھیل گئی کہ زرداری کے فرنٹ مین انورمجید مال مسروقہ کے ساتھ بیرون ملک فرار ہوگیا ہے ایسے ہی کچھ اور بڑے اور چھوٹے فرنٹ مین رفوچکر ہوچکے ہیں ایک تو دبئی کے ڈوبنے سے ہمارے اکابرین اور سیٹھ صاحبان پہلے ہی پریشان تھے سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان کا مزید نقصان ہوگیا ہے۔یہ جو یو اے ای کی تعمیر ہوئی تھی اس میں پاکستانی سرمایہ کاروں کا مال گیا تھا اور جب یہ ریاست منی لانڈرنگ کی محفوظ پناہ گاہ بن گئی تو پاکستانی سیاست دانوں حکمرانوں اور سرمایہ کاروں نے سمجھا کہ وہاں پر ہمارا سرمایہ محفوظ رہے گا لیکن ان لوگوں کی سینکڑوں بلڈنگز خالی ہوگئی ہیں۔پام جمیرہ میں الوبول رہے ہیں برج العرب اور برج الخلیفہ خوف سے خالی کروا لئے گئے ہیں اس صورتحال میں اگر زرداری صاحب اسحاق ڈار اور دیگر لوگ پریشان نہ ہوں تو کیا ہوں۔کیونکہ ان کا اصل گھر تو دبئی تھا ان کے بیشتر اثاثے بھی وہیں پر ہیں زرداری چونکہ مردبحران ہیں اس لئے وہ سندھ حکومت بھی بچا لیں گے اور اپنے مالی نقصانات کا بھی ازالہ کرنے میں کامیابی حاصل کریں گے۔یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ گلگت بلتستان میں انہیں حکومت نہ ملے کیونکہ اس کا وعدہ ن لیگ سے کر لیا گیا ہے ظاہر ہے کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت نہیں اکٹھے نہیں مل سکتی اسی طرح بلوچستان میں اسٹیٹس کو برقرار رہے گا۔ن لیگ کو وہاں پر باری ملنے کا امکان کم ہے باقی جو سندھ حکومت ہے اس کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے سندھ کے سارے شہر تباہی کا شکار ہیں نیچے ٹوٹی ہوئی سڑکیں ہیں اوپر نئی بسیں چل رہی ہیں حالانکہ پہلے تو سڑکوں کو درست بنانا ضروی ہے سست روی اور بے حسی بھی بہت زیادہ ہے سندھ حکومت سے کام لینا جان جوکھوں کا کام ہے یہاں پربیوروکریسی کا رویہ انگریزوں کے دور جیسا ہے اس صورتحال کے باوجود وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کے عوام سے اپیل کی ہے کہ آئندہ الیکشن میں انہیں ایک موقع اور دیا جائے یہاں پر کچھ بعید نہیں تاہم انسان کو خود احساس کرنا چاہیے کہ بہت ہو چکا سندھ کے عوام ان کے ہاری ضرور ہیں لیکن زیادتی کی بھی حد ہوتی ہے۔


