الطاف قریشی…. ایک بدترین عہد کا خاتمہ
تحریر: انور ساجدی
میاں صاحب کا یہ آفاقی شعر
دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے
سجناں وی مر جاناں اے
میں یہ شعر ہزار مواقع پر لکھ چکا ہوں لیکن آج جس شخص کی موت پر یہ شعر دوبارہ اس لئے لکھنا پڑ رہا ہے کہ یہ ایسی شخصیت کے بارے میں ہے جنہوں نے اس ریاست پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے۔وہ جوانی میں تو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے پیروکار تھے لیکن رفتہ رفتہ اس نے اپنا نظریہ اپنا بیانیہ اور اپنے چیلے چانٹوں کی ایک پوری بریگیڈ بنا دی۔1970ءکے انتخابات سے قبل ان کا واحد مشن یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کے عوام وہاں کی سیاسی قیادت اور ہر شعبہ زندگی کو سست ہا کیا جائے ساتھ ہی وہ باچا خان عبدالصمد اچکزئی،نواب خیر بخش ،جی ایم سید،عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کے بھی سخت ناقد اور دشمنی کی حد تک مخالفین کے سرخیل تھے۔
1970کے انتخابات کے موقع پر جب جماعت اسلامی اور یحییٰ خان میں غیر اعلانیہ خفیہ مفاہمت ہوگئی تو موصوف نے یحییٰ خان کو مردمومن کا لقب دیا اور اس کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملائے حالانکہ یحییٰ خان کی راتیں جنرل رانی صبح ملکہ ترنم اور دوپہر میں ایکٹرس ترانہ کے ساتھ گزرتی تھیں۔یحییٰ خان انتہا درجہ کے بلانوش تھے لیکن جماعت اسلامی اور الطاف حسن قریشی کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا خوش فہمی یہ تھی کہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی سنگل لارجسٹ جماعت بن کر ابھرے گی اور وہ ہم خیال قدامت پسندوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنائے گی۔31 مئی1971ءکو جب جماعت اسلامی نے یوم مئی کو رد کر کے یوم شوکت اسلام منایا تو کراچی آمد پر الطاف حسن قریشی بہت شاداں اور فرحان تھے اور ان کا خیال تھا کہ روئے زمین پر14سو سال بعد پہلا اسلامی انقلاب پاکستان میں آنے کو ہے۔یحییٰ خان نے ان سے خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا تھا یہ جو تین سو ترقی پسند یا کمیونسٹ صحافی نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات سے بیک جنبش قلم برطرف کئے گئے تھے الزام ہے کہ اس کا مشورہ الطاف قریشی نے نوابزادہ شیر علی خان کو دیا تھا۔نوابزادہ یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات تھے اور مولانا مودودی کے نظریات سے متاثر تھے۔الطاف صاحب کو کمیونزم سیکولرازم نیشنل ازم اور اس طرح کے لفظوں،اصطلاحات یا ان سے وابستہ لوگوں سے سخت نفرت تھی اور وہ ڈائجسٹ کے صفحات پر ان کے بارے میں برملا اظہار کرتے رہتے تھے۔1970 کے انتخابات میں جب جماعت اسلامی کو بدترین شکست ہوئی اور اس نے صرف چار نشستیں حاصل کیں تو موصوف سخت براینگختہ مایوس اور ذہنی انتشار کا شکار ہوگئے اس پر سہاگہ یہ کہ اس کے نظریاتی مخالفین الیکشن لے اڑے تھے۔مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی تھی جماعت اسلامی سے زیادہ تو نورانی میاں کی نشستیں آئی تھیں۔ انتخابی نتائج کے بعد الطاف قریشی اور اس کے بریگیڈ نے سازشیں شروع کر دیں کہ عوامی لیگ کو اقتدار منتقل نہ کیا جائے مارچ1971ءکو جب مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا تو قریشی صاحب سیدھے ڈھاکہ پہنچے جہاں وہ مشرقی کمان کے کمانڈر جنر ٹکا خان کے مہمان تھے انہوں نے ٹکا خان کا ایک انٹرویو بھی شائع کیا اور رپورٹ دی کہ مشرقی پاکستان میں سب اچھا ہے وہاں کے لوگ محب وطن پاکستانی ہیں صرف مجیب اور اس کی جماعت کے لوگ غدار ہیں جن کی تعداد مٹھی بھر ہے لیکن 16دسمبر1971ءکو جب سقوط ڈھاکہ ہوا تو الطاف حسن اورساتھیوں نے فوری طورپر ایک نیا بیانیہ تشکیل دے دیا یعنی شکست کی وجوہات فوجی نہیں سیاسی ہیں اور پیپلزپارٹی کے لیڈر بھٹو اس کے ذمہ دار ہیں۔
یہی وہ بیانیہ ہے جو آج تک رائج ہے اور ہر فوجی آمر نے اس کی پشت پناہی کی۔بھٹو کے برسر اقتدار آنے کے بعد ابتداءمیں الطاف حسن قریشی ڈانواں ڈول ہوگئے اور وہ1972 میں ایوان وزیراعظم پہنچ گئے وہ امان اللہ گچکی کے دوست تھے اور وہ انہیں ساتھ لے کر رحیم ظفر کے کمرے میں براجمان ہوگئے۔اسی زمانے میں انہوں نے بھٹو کا انٹرویو بھی کیا تھا اور ان کی تعریف بھی کی تھی لیکن پھر رفتہ رفتہ وہ اپنے اصلی رنگ میں آگئے انہوں نے اردوڈائجسٹ کے ساتھ ہفت روزہ زندگی کا اجراءبھی کیا تھا ان کے جرائد بھٹو دشمنی کے مضامین سے بھرے ہوتے تھے۔انہوں نےبھٹومخالف نوجوانوں کا ایک جتھہ اکٹھا کر لیا تھا جن میں مجیب الرحمن شامی، عبدالقدر حسن، محمد صلاح الدین اور دیگر شامل تھے ان کو بس ایک ٹاسک دیا گیا تھا کہ بھٹو کو بدنام کیا جائے اس کی حکومت کو ناکام بنایا جائے کراچی ان کا سیاسی و اثاثی مرکز تھا جہاں اسلامی جمعیت زوروں پر تھی۔ 15فروری1973ءکو نیپ کی حکومتیں برطرف کر دی گئیں تو الطاف قریشی اور اس کے بریگیڈ نے بھٹو دشمنی میں نیپ کی حمایت شروع کر دی زندگی کی ایک سرخی تھی۔
بلوچستان میں گولیوں کے راشن کی تقسیم
بھٹو کے خلاف جو اپوزیشن اتحاد بنا اس میں قریشی بریگیڈ نے اہم کردار ادا کیا۔1977ءمیں پی این اے کی تحریک کا ایک ستارہ بی بی سی اور دوسرا الطاف قریشی تھے۔بھٹو حکومت نے ان کے جرائد پر پابندی عائد کر دی اور وہ مختلف ناموں سے ان کا اجراءکرتے رہے۔پی این اے کی تحریک کے دوران الطاف قریشی کی جنرل ضیاءالحق سے خفیہ ملاقات ہوئی بعدازاں جنرل ضیاءالحق نے کہا کہ الطاف قریشی ان کے مرشد ہیں غالباً مارشل لاءکے نفاذ کا مشورہ بھی انہوں نے ہی دیا تھا ۔
جب 5جولائی1977ءکو ضیاءالحق نے بھٹو کا تختہ الٹا تو الطاف اور اس کی بریگیڈ کی خوشی دیدنی تھی اقتدار سنبھالنے کے بعد ضیاءالحق ان کی رہنمائی سے مستقل مستفید ہوتے رہے جب بھٹو پر قتل کا کیس چلا تو اس ٹولے نے ضیاءالحق پر بہت دباﺅ ڈالا کہ اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے الطاف حسن کے شاگرد عبدالقادر حسن نے اپنے میگزین یورئیشا کے سرورق پر بھٹو کی تصویر پھندے کے ساتھ شائع کی اور لکھا کہ پھانسی بہت ضروری ہے3اور4 اپریل1979ءکی رات کو ضیاءالحق کے ہمراہ جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل نے وقت گزارا جبکہ الطاف قریشی ان سے مسلسل رابطے میں تھے۔اس طرح الطاف حسن اور اس کے ٹولے نے ملک کی تاریخ بدل ڈالی۔ضیاءالحق ہمیشہ الطاف قریشی مجید نظامی اور محمد صلاح الدین سے صلاح ومشورے کرتے تھے اس ٹولے کی امیدوں پراس وقت پانی پھر گیا جب1988 کے انتخابات میں بے نظیر نے کامیابی حاصل کرلی۔اب اس ٹولے نے اچانک پینترا بدلا اور نوازشریف کو اپنی امیدوں کا مرکز بنا ڈالا۔قدرمشترک پیپلزپارٹی دشمنی تھی۔ضیاءالحق نے ان کے کہنے پر نیا تعلیمی نصاب بنایا ایک نیا نظریہ پاکستان تراشا اور مخالفین کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا شروع کر دیا۔ضیاءالحق کا نظریہ اس کا بیانہ آج بھی شدومد کے ساتھ نافذ اورکارفرما ہے۔
اردو ڈائجسٹ ایسا ماہنامہ تھا کہ اس نے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسندانہ نظریہ ایجاد کیا۔اس نے متشدد نوجوانوں کی ایک پوری نسل تیارکرلی جو ضیاءالحق اور بعدازاں نوازشریف کے ذریعہ قریہ قریہ پھیل گئی جب نوازشریف نے ضیاءالحق کی مریدی ترک کر دی تو یہ ٹولہ مایوس ہوگیا البتہ مجیب الرحمن شامی نے اپنے آپ کو مکمل طورپر تبدیل کر کے ہمیشہ کےلئے نوازشریف کا ہاتھ تھام لیا۔
زندگی کے آخری ایام میں جب الطاف قریشی سوسال کے ہونے والے تھے صاحب فراش تھے اور صحافت اور ڈائجسٹوں کا دور ختم ہوچکا تھا نئی ٹیکنالوجی نے ہر چیز بدل ڈالی تھی وہ سورج مکھی تھے لیکن سورج سے ڈرتے نہیں تھے اگر پاکستانی تاریخ کا تجزیہ کیا جائے تو ایوب خان سے لے کرموجودہ دور تک الطاف حسن اور اس کے دو شاگردوں کی چھاپ ناقابل فراموش ہے۔یعنی جنرل یحییٰ خان اور جنرل ضیاءالحق بے شک وہ اس دنیا میں نہ رہے لیکن انہوں نے اس ریاست اس کے مشرقی بازو،جناح کے نظریات کے ساتھ جو کچھ کیا وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش اور انتہائی تلخ باب ہے۔اس ٹولہ نے اقتدار منتقل نہ کر کے ملک توڑا اور اس کا الزام کامیابی کے ساتھ دوسروں پر لگایا انہیں جمہوریت پارلیمنٹ آئین بنیادی حقوق اور شرف آدمیت سے چڑ تھی۔وہ ایک خیالی دنیا قائم کرنا چاہتے تھے ان کی بے وفائی کا عالم تھا کہ یہ لوگ مودودی کا نظریہ چھوڑ کر اپنے شاگرد ضیاءالحق کے پیروکار بن گئے۔حتیٰ کہ نوازشریف کو بھی گلے لگا لیا۔یہ طبقہ جسمانی طورپر ختم ہوگیا ان کا باطل نظریہ آج بھی ریاست کے اقتدار اور اس کی غلام گردشوں میں پوری آب وتاب کے ساتھ نافذ ہے۔


