نئے نظام کا تصوراتی خاکہ
تحریر: انور ساجدی
پنکی نے کورٹ کے باہر چیخ کر کہا کہ مجھ پر دباﺅ ہے کہ میں بولوں کہ بنی گالہ والے کو بھی سپلائی دیتی تھی یہ بھی کہا کہ مجھ سے کہا جارہا ہے کہ ہم جو نام دیں گے آپ بولیں کہ وہ میرے گاہک تھے۔ چند دن بعد جب پنکی کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوگا تو وہ بیان دے گی کہ اس کے900 گاہکوں میں ممبران پارلیمنٹ، وزرائ، ایم پی اے صاحبان، ٹاپ کلاس کے سیاسی لیڈر اور نامی گرامی لوگ شامل تھے۔ پنکی نے عدالت کے باہر یہ بھی بتایا کہ اسے کئی دن پہلے پکڑا گیا تھا مگر پولیس کے حوالے اب کیا گیا ہے خاتون کے ذریعے کن کن کو جھکانا ہے اور مطلوبہ کام نکالنا ہے یہ تو کچھ عرصہ بعد ہی پتہ چلے گا لیکن جو درباری وی لاگرز سرکاری سوشل انفلوئنسر ہیں وہ مسلسل پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ 28 ویں ترمیم آیا ہی چاہتی ہے۔ دربار کے مستقل رکن فیصل واوڈا جسے زرداری نے سینیٹر بنایا تھا ایک دن پہلے کہہ رہے تھے کہ28 ویں ترمیم آوے ہی آوے۔ یہ بھی کہا کہ کسی میں مجال نہیں جو یہ ترمیم روک سکے۔ موصوف کی ماضی کی ساری پیشن گوئیاں سچ ثابت ہوئی ہیں اس لیے تازہ پیشگوئی بھی سچ ثابت ہوگی، جہاں تک28 ویں ترمیم کا تعلق ہے تو وہ کسی کو معلوم نہیں اس کا خاکہ پوشیدہ قسم کے شریف الدین پیرزادہ ٹائپ آئینی ماہرین نے تیار کیا ہے جو سرکاری اور درباری صحافی ہیں وہ اس کا تصوراتی خاکہ پیش کر رہے ہیں مثال کے طورپر کچھ دن پہلے تک یہ لوگ کہہ رہے تھے کہ28 ویں ترمیم کے ذریعے18 ویں ترمیم کو رول بیک کیا جائے گا۔ اب یہ کہنے لگے ہیں کہ نئے صوبے بھی بنیں گے جبکہ29 ویں ترمیم آ جائے گی تو سب کچھ بدل جائے گا اور ملک میں صدارتی نظام آئے گا۔یہ جو مصاحب قسم کے صحافی ہیں وہ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ زرداری کا تختہ الٹنے والا ہے اور سندھ بھی اس کے ہاتھوں سے جانے والاہے۔وہ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ اگر نئے صوبے بن گئے یا صدارتی نظام آگیا تو ان کی پسندیدہ جماعت ن لیگ کہاں ہوگی۔ان لوگوں کے مطابق کراچی گوادر لاہور اور راولپنڈی خودمختار میگاسٹی ہوں گے جیسے کہ امریکہ کے بڑے شہر ہیں اگر ایسا ہوا تو کیا محترمہ مریم نواز لاہور شہر کی گورنر یا لارڈ میئر ہوں گی یعنی نظام بدلے گا تو صرف پیپلزپارٹی کے لئے نہیں بدلے گا بلکہ ن لیگ سب سے زیادہ متاثر ہوگی۔اس کے ہاتھ سے مرکزی سرکار نکل جائے گی اور صوبہ بھی چلا جائے گا گویا کوئی قومی جماعت نہ ہوگی بلکہ اقرارالحسن جواد احمد اور اس طرح کی چھوٹی چھوٹی جماعتیں بنا کر بڑی جماعتوں پر کرپشن اور نااہلی کا الزام لگا کر انہیں رخصت کر دیا جائے گا۔ایک آدھ جماعت سابق کرکٹر شاہد آفریدی کو بھی بنا کر دی جائے گی۔یہ جو صحافیوں کا تصوراتی خاکہ ہے اس پر عمل درآمد مکمن نہیں ہے یہ ضرور ہے کہ حاکمان بالا کے لاشعور میں یہ خواہش موجزن ہو کہ ایوب خان کی طرح کا نظام لایا جائے جس میں طاقت اور اقتدار کا محور ایک ہی طاقتور شخص ہو۔صوبائی خودمختاری اور احساس محرومی جیسے عوارض سے جان خلاصی ہو جائے لیکن اس منصوبے یا خواب کو روبہ عمل لانا اس طرح آسان نہیں ہے جو درباری وی لاگرز اور سرکاری ملاں صاحبان پیش کر رہے ہیں۔البتہ اس ضمن میں سرتوڑ کوششیں جاری ہیں سابق صحافی چاچا کپی نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل پرویزکیانی نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے دوگھنٹہ تک ملاقات کی ہے اور حاکمان کی طرف سے28 ویں ترمیم کے لئے پی ٹی آئی کی حمایت مانگی گئی ہے۔ اس افواہ کی نہ تو حکومتی حلقوں نے تصدیق کی ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی کے ذرائع نے کچھ کہا ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہو نہ ہو تحریک انصاف کے لیڈروں سے حمایت مانگی جا رہی ہے دوسری بڑی جماعت ن لیگ رضاکارانہ طورپر زہر کا پیالہ نوش کرنے کےلئے تیار ہے۔وہ جس درخت پر براجمان ہے اسی کی جڑیں کاٹنے پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔اسے یہ لارا دیا جا رہا ہے کہ بی بی مریم28 ویں ترمیم کے بعد وزیراعظم ہوںگی حالانکہ جب 29 ویں ترمیم منظورہو جائے گی تو یہ پارلیمانی نظام کا آخری ایکٹ ہوگا اگر صدارتی نظام آئے گا تو وزیراعظم کا عہدہ سرے سے رہے گا نہیں۔اگر یہ عہدہ ہوا بھی تو اپنے پیارے فلاسفر سیاست دان انوارالحق کاکڑ کہیں نہیں گئے ان سے بہتر انتخاب تو نہیں ہوسکتا۔چونکہ ارباب اختیار کے پاس کافی وقت پڑا ہے انہیں جلدی نہیں ہے۔صرف این ایف سی ایوارڈ کو بدل کر مرکز کا حصہ بڑھانے پر زیادہ زور ہے یہ کام ہو جانے کے بعد سب کچھ پلان کے مطابق آسانی کے ساتھ ہو جائے گا۔اور یہ بھی مکمن ہے کہ مستقبل میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی دوبارہ یک ججا ہوں اور انہیں ایک نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت پڑے لیکن اس کام میں کافی وقت لگے گا بلکہ آئندہ الیکشن سے پہلے تک کا وقت ہوگا۔فی الحال تو تبدیلی کا ساراانحصار میڈم پنکی کے بیانات پر ہے۔ان کی فہرست میں جو لوگ شامل ہیں ان میں تمام جماعتوں کے لوگ شامل ہیں۔کوئی بچا نہیں ہے کیا پتہ کہ کچھ اور پنکیاں نکلیںتو ان کے پاس صرف لسٹ نہیں بلکہ وڈیوز بھی برآمد ہوں۔انکار یا حکم عدولی کی صورت میں یہ عظیم ہستیاں کسی کو منہ دکھانے کی قابل نہیں رہیں گی۔ابتداءتو ہو گئی ہے اگرچہ مجھے تحریک انصاف کے بلوچستان سے ایم این اے عالد بازئی کے قول وفعل اور عمل پر بھروسہ نہیں ہے لیکن اس نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ پر سنگین الزام عائد کیا ہے ویسے اس کا جو حلقہ یاراں ہے وہ قابل بھروسہ نہیں ہے یہ ناتجربہ کار نوجوان کسی نہ کسی جگہ ضرور ہنی ٹریپ ہوئے ہوں گے۔ان کا انتخاب بھی شکوک سے بالاتر نہیں ہے۔2024ءکے انتخابات میں اتنے سخت حالات میں ان کی کامیابی بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے اسی طرح مشر محمود خان اچکزئی کو کامیاب قرار دینا بھی خالی از اسرار نہیں۔مشر نے کب سوچا تھا کہ وہ صدارتی انتخاب لڑیں اور اپوزیشن لیڈر بن جائیں۔عمران خان خوش ہیں کہ یہ ان کے اثاثے ہیں انہیں معلوم نہیں کہ اصل میں یہ کس کے اثاثے ہیں رفتہ رفتہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
باالفرض محال اگر28اور29 ویں ترامیم منظور ہوگئیں تو پارلیمانی جمہوریت کے ساتھ ساتھ نام نہاد صحافت بھی سب سے بڑا ہدف ہو جائے گی۔حکومت اپنے چند من پسند چینل اور اخبارات رکھے گی باقی سارے ختم ہو جائیں گے ۔میں نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ بایزید خروٹی کی شاگردی اختیار کی جائے ان کے ساتھ مل کر جو سرکاری سڑک فٹ پاتھ یا چوراہے ہوں ان پر عطیہ لیکر پودے لگائے جائیں۔صحافت نہ سہی کارخیر سہی۔لیکن مشکل یہ ہے کہ بایزید بھی کسی کو اپنے ساتھ ملائے۔وہ بھی حاکمان وقت کی طرح اپنے اختیارات میں کسی کی حصہ داری کو پسند نہیں کرتے جب جمہوریت نہ رہے گی آئین نہ رہے گا تو سوائے گوشہ گمنامی کی زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جائے گا بلکہ اس وقت جو درباری وی لاگرز اور سرکاری مصاحبین خوشی سے سرشار ہیں ان پر بھی سائبر ایکٹ پیکا آرڈیننس اور ہتک عزت کے قانون لاگو ہوں گے حیرت ہے کہ حسن نثار جیسا روشن خیال چمپئن اور پنجاب کے سارے نام نہاد ایلیٹ اور مال دار صحافی بھی بہ یک زبان ہو کر نئے نظام کا خیرمقدم کر رہے ہیں ان کی حمایت بنتی ہے ان کے خیال میں موجودہ نظام کے خاتمہ کے بعد اقتدار اور وسائل پر ان کا قبضہ مکمل ہو جائے گا جس کے بعد کوئی چوں چراں نہیں کرے گا ایک واحدانی نظام ہی ان کے مکمل کنٹرول کا ضامن ہوگا۔


