بلوچستان کی غیر یقینی صورتحال پر حکمرانوں کی بے حسی اور لاتعلقی سمجھ سے بالاتر ہے، جمعیت

کوئٹہ (آن لائن) جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ سنگین اور غیر یقینی صورتحال پر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کی بے حسی، غفلت اور لاتعلقی سمجھ سے بالاتر ہے۔ صوبے میں آئے روز کئی کئی افراد قتل کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت مکمل طور پر بے بس اور حالات پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ بین الصوبائی شاہراہیں سنسان ہو چکی ہیں، جس کے باعث آئندہ چند دنوں میں آٹے، چینی، ادویات، ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کے شدید بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تاجر برادری چیخ چیخ کر فریاد کر رہی ہے کہ حکومت ان کی داد رسی کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، جبکہ ٹرانسپورٹرز اپنی درجنوں گاڑیاں نذرِ آتش کیے جانے کے بعد مزید نقصان کے خوف سے اپنی گاڑیاں گھروں میں کھڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ آج صوبے میں نہتے مسافر، خواتین اور معصوم بچے بھی محفوظ نہیں رہے اور عوام اپنی جان و مال کے تحفظ سے محروم ہو چکے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسے نازک حالات میں بھی حکومت کی تمام تر توجہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے فنڈز، وزارتوں، مراعات اور اختیارات کی بندربانٹ پر مرکوز ہے، جبکہ انتظامی و حکومتی امور عملا مفلوج ہو چکے ہیں۔ جمعیت علما اسلام، جو صوبے کی واحد اکثریتی نمائندہ جماعت ہے، بلوچستان کے عوام کی مزید تباہی خاموشی سے نہیں دیکھ سکتی، اسی لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ المناک صورتحال اور عوام پر گزرنے والے کرب سے ملک کے کونے کونے کو آگاہ کیا جائے گا۔ جب ملک کے دیگر صوبے ترقی، خوشحالی اور سرمایہ کاری کی راہ پر گامزن ہیں، بلوچستان بدامنی، خونریزی، معاشی تباہی اور ریاستی بے توجہی کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے، جہاں عوام بے یار و مددگار ہیں اور کسی کو ان کے جان و مال، روزگار اور مستقبل کی کوئی فکر نہیں، جبکہ تقریبا تمام سرکاری شعبے تباہی اور زبوں حالی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ فروری 2024 میں کیے گئے سیاسی تجربے کے تباہ کن نتائج آج پوری قوم کے سامنے ہیں، صوبے کا تقریبا 95 فیصد حصہ عملا نو گو ایریا بن چکا ہے، حکمران اپنی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی حصار میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ بلوچستان کے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ آج ہر شہری اس فکر میں مبتلا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کی فکر کرے یا ان کی جان بچانے کی۔ مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ اگر کوئی شہری، سیاسی کارکن یا سماجی رہنما اس ابتر صورتحال پر آواز بلند کرتا ہے یا عوامی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے تو اس کے جواب میں 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریاں، سائبر کرائم کے نوٹسز اور اظہارِ رائے پر قدغن جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جمعیت علما اسلام نے واضح کیا کہ عوام کی آواز کو دبانے، اختلافِ رائے کو جرم بنانے اور سیاسی انتقام کے ذریعے معاملات مزید نہیں چلائے جا سکتے، اور اگر حکومت نے فوری طور پر امن و امان کی بحالی، شاہراہوں کے تحفظ اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مثر عملی اقدامات نہ کیے تو حالات کو سنبھالنا حکومت کے لیے نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں