بحیرہ کیسپین کے راستے ایران اور روس فوجی سامان کی نقل و حمل میں ملوث ہیں، یوکرین کا دعویٰ

تہران ، ماسکو، کیف (مانیٹرنگ ڈیسک) بحیرہ کیسپین وہ تازہ ترین خطہ بن گیا ہے جو ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی لپیٹ میں آگیا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ سمندر ایران اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں ایک اہم شاہراہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کے ڈرونز نے بحیرہ کیسپین (جو دنیا کا سب سے بڑا خشکی سے گھرا ہوا آبی ذخیرہ ہے) میں فوجی سامان لے جانے والے دو روسی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں جہاز ایران سے روانہ ہو کر روس کی بندرگاہ کی طرف جا رہے تھے۔ ہفتے کے روز ایکس پر ایک پوسٹ میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ نشانہ بننے والے جہازوں میں وہ جہاز شامل تھے جو ایران سے فوجی سامان کی نقل و حمل میں ملوث تھے اور ساتھ ہی ایک جنگی جہاز بھی، جس کی شناخت بعد ازاں یوکرین کی سیکورٹی سروس نے روسی میزائل بوٹ کے طور پر کی۔ اس کے برعکس ایران کا کہنا تھا کہ اس کے لوہے کا سامان لے جانے والے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ملاح ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ جہاز جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا روس کی بندرگاہ استراخان سے ایران کی بندرگاہ انزلی کی طرف جا رہا تھا؛ ایرانی علاقائی گورنر ہادی حق شناس نے اس راستے کو دونوں بندرگاہوں کے درمیان تجارتی تبادلے کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد راہداری قرار دیا تھا۔ کشیدگی میں مزید اضافہ پیر کے روز اس وقت ہوا جب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یوکرین کی خطرناک مہم جوئی کا جواب ہم ضرور دیں گے۔ دریں اثنا، اس واقعے کے سلسلے میں تہران میں تعینات یوکرین کے ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں