تربت، الندور حملے میں دو افراد جاں بحق، کمسن لڑکے کے اغوا کا دعویٰ، متاثرہ خاندان کی براہمدغ کی رہائی کی اپیل،خاتون خانہ کی پیرس کانفرنس

تربت(انتخاب نیوز) بلیدہ کے علاقے الندور میں گزشتہ رات مسلح افراد کے مبینہ حملے کے متاثرہ خاندان کی خاتون نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں ان کے بیٹے رحمت ولد رفیق سمیت ایک خاتون جاں بحق ہوئی، جبکہ ان کے 12 سالہ بیٹے براہمدغ ولد رفیق کو مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ میں حملے میں جاں بحق ہونے والے رحمت ولد رفیق کی والدہ ہوں۔ رات تقریباً 11 بجے مسلح افراد نے ہمارے گھر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک مرد جاں بحق ہوئے، جبکہ میرے کمسن بیٹے براہمدغ کو اپنے ساتھ لے گئے۔متاثرہ خاتون نے اپیل کی کہ براہمدغ ولد رفیق صرف 12 سال کا کمسن بچہ ہے اور بے قصور ہے، اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔میرے خاندان کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دو ماہ قبل بھی میرے بیٹے حیربیار کو مسلح افراد نے قتل کیا تھا اور اب میرے کمسن بیٹے براہمدغ کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ حملے کے دوران گھر کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا، خاندان کے دو افراد زخمی ہوئے جبکہ دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ رات 11 بجے سے صبح 3 بجے تک گھر پر حملہ جاری رہا، جس کے باعث گھر میں موجود سامان اور گاڑیاں بھی جل کر خاکستر ہوگئیں۔ ہم پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکے ہیں، ہمیں مزید نقصان نہ پہنچایا جائے۔ براہمدغ رفیق ایک بے قصور اور کمسن بچہ ہے، خدا کے واسطے اسے رہا کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں