گرفتاری کے بعد ڈاکٹر ماہ رنگ کیساتھ مذاکرات ہوئے، کچھ چیزیں ان کو کرنی تھی جو انہوں نے نہیں کی، شاہد رند
مانیٹرنگ ڈیسک :وزیراعلی کے معاون خصوصی شاہد رند نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہرنگ اور بی وائی سی کے ساتھ تین معائدے کئے ہم نے کہا احتجاج آپ کا حق ہے لیکن احتجاج کہاں ہوں گا اس کا فیصلہ ہم کریں گے انہوں نے اس پر دستخط کئے ۔ شاہد رند کے مطابق گرفتاری کے بعد ایک دفعہ پھر ڈاکٹر ماہرنگ کیساتھ انگیجمنٹ (مذاکرات) ہوئے جن میں وکلاء نے بھی اپنے کوشش کی جن کی گورنمنٹ اور ڈاکٹر ماہرنگ دونوں کیساتھ اچھے تعلقات ہوسکتے ہیں کچھ چیزیں ان کو کرنی تھی جو انہوں نے نہیں کی اگر یہ چیزیں وہ کرلیتی تو ہوسکتا کہ صورتحال آج کچھ اور ہوتی ۔وزیراعلی کے معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ راجی مچی کا انعقاد گواد ر میں کیا گیا ایجنڈا مسنگ پرسن کا تھا لیکن سوال یہ کہ ڈپٹی کمشنر گوادر اوچیئرمین گوادر پورٹ کیا اس مسئلے کو حل کرسکتا تھا ؟آپ اس وقت راجی مچی گوادر لے جاتے ہیں ابھی گوگل کریں جب پاکستان کا چین کیساتھ سی پیک فیز ٹو پر مذاکرات کررہا تھا جو مسئلہ کوئٹہ میں حل ہوناتھا اس کیلئے راجی مچ گوادرگئی۔


