آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے دشمن پر ہمہ جہت دبائو کا آغاز

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کم از کم 8 کروز میزائل اور 4 اینٹی شپ بیلسٹک میزائل، جن کے بارے میں قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ خلیج فارس میزائل ہیں، آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کی جانب فائر کیے گئے ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے اور کسی کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اینٹی شپ خلیج فارس میزائلوں کا استعمال جنگ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کی علامت ہے اور امریکی دشمن اور اس کے علاقائی اتحادیوں، بشمول سعودی حکومت اور متحدہ عرب امارات، کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ اس دوران بعض رپورٹس میں متعدد فجر-5 میزائلوں کے داغے جانے کی بھی اطلاع دی جا رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ میزائل بلاشبہ بحری بارودی سرنگیں لے کر جا رہے ہیں اور آبنائے ہرمز میں موجود تمام بین الاقوامی اسمگلروں کے لیے خطرے کا دائرہ وسیع کرنے کا مقصد رکھتے ہیں۔ دباو¿ کا آغاز ہو چکا ہے اور ایران دشمن کے ساتھ جنگ کا ایک نیا باب کھول رہا ہے۔ امریکی دشمن کسی بھی صورت میں اتنی بڑی تعداد میں میزائلوں کے داغے جانے اور مبینہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کی تباہی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ ایسے حالات میں سب پر واضح ہو جائے گا کہ امریکی فوج کی جانب سے بحری جہازوں کو اسکورت فراہم کرنے جیسی کوئی چیز مو¿ثر طور پر موجود نہیں۔ اگر کوئی آئل ٹینکر یا بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر بھی گیا ہے، حتیٰ کہ بظاہر غیر قانونی طور پر جنوبی حصے سے، تو یہ ایران کی جانب سے چشم پوشی کی وجہ سے ہوا ہے۔ پوری دنیا جلد سمجھ جائے گی کہ جب ایران کہتا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے تو اس سے مراد کس نوعیت کی بندش ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی دشمن ان مبینہ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کی حمایت کیسے کرتا ہے اور انہیں میزائلوں کی زد میں آنے سے کیسے بچاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے