افغانستان سے پیاز کی مبینہ اسمگلنگ مقامی زمینداروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے، زمیندار ایکشن کمیٹی مستونگ

مستونگ(مانیٹرنگ ڈیسک)زمیندار ایکشن کمیٹی مستونگ نے پنچپائی کے راستے افغانستان سے زمیاد گاڑیوں کے ذریعے پیاز کی مبینہ غیر قانونی ترسیل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ سینکڑوں گاڑیوں میں بیرونِ ملک سے پیاز کی آمد نے بلوچستان کے مقامی زمینداروں کی سال بھر کی محنت اور سرمایہ کاری کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔افغانستان سے پیاز سے لدی سینکڑوں زمیاد گاڑیاں مبینہ طور پر پنچپائی کے راستے بلوچستان میں داخل ہو کر کوئٹہ کی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں، جس سے مقامی فصل کی قیمتیں متاثر اور بلوچستان کے زمینداروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ سرحدی مقام پر ایف سی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر فی کس زمیاد گاڑی سے 20 ہزار روپے وصول کر کے زمیاد گاڈیوں کو بلوچستان میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں، جس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر پاک افغان سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ اور شدید کشیدگی کی صورتحال ہے تو ایسے حالات میں افغانستان سے روزانہ بڑی تعداد میں پیاز سے لدی گاڑیوں کا بلوچستان میں داخلہ کیسے ممکن ہو رہا ہے؟ سرحد پر سخت سیکیورٹی اور نگرانی کے دعووں کے باوجود پیاز اسمگلنگ کی اس مبینہ آمد نے انتظامی نگرانی اور سرحدی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی کاشتکار مہنگی کھاد، بیج، زرعی ادویات، ،سولر سسٹم اور پانی کے اخراجات برداشت کرکے فصل تیار کرتے ہیں، مگر فصل مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے ہی مبینہ اسمگل شدہ پیاز کی بھرمار مقامی پیداوار کی قیمت گرا دیتی ہے۔ یہ صورتحال محض کاروباری نقصان نہیں بلکہ بلوچستان کے ہزاروں زمیندار خاندانوں کی معاشی بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔زمیندار ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنچپائی سمیت تمام سرحدی راستوں پر پیاز کی غیر قانونی ترسیل فوری طور پر روکی جائے، سرحدی گزرگاہوں پر ہونے والی مبینہ وصولیوں کی تحقیقات کی جائیں اور اس امر کا تعین کیا جائے کہ جنگ زدہ قرار دیے جانے والے سرحدی علاقوں سے روزانہ اتنی بڑی مقدار میں زرعی اجناس بلوچستان کی منڈیوں تک کیسے پہنچ رہی ہیں۔ اگر مقامی فصل اور کاشتکاروں کے معاشی مفادات کا تحفظ نہ کیا گیا تو زمیندار ایکشن کمیٹی اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں