سیاست کا پیدل دستہ
تحریر: انور ساجدی
سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے طفیلیوں پر مشتمل پیدل دستہ ان دنوں کراچی آیا ہوا ہے آج کل یہ دستہ تحریک انصاف کے بھگوڑوں پر مشتمل ہے کراچی میں انہوں نے مرحوم صدر کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا قبرستان کے چوکیداروں کے مطابق یہ پہلے چار لوگ ہیں جنہوں نے مشرف کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اس سے قبل ان کے اہل خانہ کے سوا اور کوئی یہاں نہیں آتا تھا۔حتیٰ کہ ایم کیو ایم کے اکابرین بھی اپنے اس محسن اور مربی کو بھول گئے جس نے ایم کیو ایم کو سندھ کا اقتدار اور کراچی کا مکمل اختیار سونپ دیا تھا جنرل مرحوم نے ایم کیو ایم کو 8 سال میں کئی کھرب روپے کے فنڈز دئیے جس کی نظیر نہ پہلے موجود تھی اور نہ آج ہے۔پرویز مشرف کی مہربانی سے ایم کیو ایم کے کئی لیڈر ارب پتی بن گئے جن میں سے بعض امریکہ اور کینیڈا میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے نمایاںشخصیت پورٹس اینڈ شپنگ کے سابق وزیر بابرغوری ہیں ان کے دور میں پی این سی کی بلڈنگ دو بار نذر آتش ہوئی سارا ریکارڈ جلا دیا گیا جبکہ کراچی پورٹ سے پانچ ہزار کینٹینر بھی غائب ہوگئے تھے جن میں امریکی اسلحہ بھرا ہوا تھا جو افغانستان جانا تھا بابرغوری غالباً امریکی شہر ہیوسٹن میں مقیم ہیں جو دیگر لوگ ورکنگ کلاس علاقوں سے ڈیفنس کے پوش علاقے میں آکر آباد ہوئے ان میں سابق میئر اور موجودہ وزیر صحت مصطفی کمال قابل ذکر ہیں۔
اپنے کوئٹہ کے شاعر ریاض قمر مرحوم کا ایک سادہ سا شعر ہے کہ
تعلقات کی صورت بنی رہے
میں تیری اور تو میری ضرورت بنی رہے
یعنی اس دنیا میں تعلقات کا انحصار باہمی ضرورتوں پر ہے۔جب مشرف کو ضرورت تھی کہ پیپلزپارٹی کا صفایا کر کے ایم کیو ایم کو حکومت میں لایا جائے تو اس جماعت کے رہنما پرویز مشرف کی تعریفوں کے ایسے پل باندھتے تھے کہ الامان والحفیظ۔اس زمانے میں وزیراعلیٰ تو ارباب رحیم تھے جنہیں ان کے مرشد پیر صاحب پگارا کالا ناگ کہتے تھے لیکن اصل حکومت ایم کیو ایم کی تھی۔12مئی کا دن کون بھول سکتا ہے جب کراچی کو خون میں نہلا دیا گیا تھا کئی لوگوں کو بسوں کے اندر ذبح کر دیا گیا تھا گنتی کے مطابق قتل ہونے والوں کی تعداد54تھی لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی ۔شمالی علاقوں پشتونخوا اور اندرون سندھ کے درجنوں لوگ گمنامی میں مارے گئے تھے۔اسی روز پرویز مشرف اسلام آباد میں ق لیگ کے جلسہ سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے مکا لہراتے ہوئے کہا تھا کہ طاقت کا ایک مظاہرہ یہاں اور ایک کراچی میں ہو رہا ہے اس روز پرویز مشرف اور ایم کیو ایم دونوں طاقت کے زعم میں تھے برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری تو کراچی شہر کے اندر نہیں آسکے تھے لیکن اس شہر نے ایسا خونی منظر اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اب یہ راز فاش ہوچکا ہے کہ افتخار محمد چوہدری کی تحریک کے پیچھے جنرل کیانی کا ہاتھ تھا اور اس تحریک کے ذریعے اس نے اپنے باس کو کمزور کر کے بالآخر کمان ان سے چھین لی تھی۔
افتخار محمد چوہدری کو میں نے پہلی مرتبہ کوئٹہ میں نواب صاحب کی بیٹھک میں دیکھا تھا میں اسے نہیں جانتا تھا کھانے کے دوران میں نے اس سے کہا کہ گلاس میں پانی ڈال کر دو، اس زمانے میں پانی کی بوتل نہیں تھیں۔ تھوڑی دیر بعد امان کنرانی نے کہا کہ یار یہ بہت بڑا وکیل ہے آپ اسے نوکر سمجھ کر پانی مانگ رہے ہیں یہ وہ زمانہ تھا کہ چوہدری صاحب ترقی کر کے آگے جانا چاہتے تھے وہ اپنے جیالے علی احمد کرد کی سفارش لے کر نواب صاحب کے پاس گئے تھے کچھ عرصہ بعد وہ ایڈووکیٹ جنرل بن گئے تھے اور وہیں سے ان کا عدلیہ میں دخول ہوگیا تھا۔ ترقی کرتے کرتے وہ پہلے بلوچستان ہائی کورٹ اور بعدازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن گئے تھے۔ایک مرتبہ اسلام آباد میں رانا ثناءاللہ نے کہا تھا کہ افتخار محمد چوہدری ان کے کزن ہیں تو میں نے پوچھا تھا کہ ایک کزن رانا اور دوسرا چوہدری کیوں لکھتے ہیں اس پر رانا صاحب نے کہا کہ رانا، راﺅ اور راجہ راجپوتوں کے ٹائٹل ہیں بلوچستان اس سے واقف نہیں ہے اس لئے کوئٹہ جا کر انہوں نے چوہدری کا لقب اختیار کیا تھا۔یوکے میں ہمارے جو مشترکہ دوست ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ ہریانہ کے لوگ ہیں جو ہریانہ اور ہماچل پردیش یعنی شملہ کے قریب رہتے تھے پاکستان بننے کے بعد یہ لوگ لائل پور آگئے جبکہ افتخار چوہدری کا خاندان کوئٹہ چلا گیا۔ نواب صاحب نے افتخار محمد کی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کیا لیکن جب وہ مشرف کے ہاتھوں شہید ہوگئے تو اس شخص نے اظہار افسوس تک نہیں کیا۔ پرویز مشرف کی درجہ دوئم کی جو ٹیم تھی اس میں ڈبو چوہدری المعروف فواد چوہدری جعلی بیرسٹر سیف اوردیگر لوگ شامل تھے۔ فواد چوہدری بیرسٹر سیف سابق گورنرسندھ عمران اسماعیل اور کاروباری لوٹا محمود مولوی نے مل کر پرویز مشرف کی قبر پر حاضری دی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔لوگ یہ نہ سمجھیں کہ یہ لوگ پرویز مشرف کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی قبر پر گئے تھے بلکہ وہ ان دنوں ایک اور پرویز مشرف کی تلاش میں ہیں جو انہیں عہدے اور مراعات سے نوازے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ جو لولی لنگڑی اور آسیب زدہ جمہوریت نافذ ہے اس کی بساط لپیٹ دی جائے۔پرویز مشرف جیسا نظام آ جائے حالانکہ پرویز مشرف کے بعد ڈبو چوہدری پیپلزپارٹی میں گئے تھے اور زرداری کو دن رات ابا ابا کہہ کر بلاتے تھے وہاں سے وہ عمران خان کے پاس چلے گئے حتیٰ کہ وزیراطلاعات بن گئے یہی وہ پہلے موصوف تھے جنہوں نے سی پی این ای کے وفد کے سامنے موبائل لہرا کر کہا تھا کہ اب میڈیا یہ ہے باقی سب قصہ پارینہ ہے۔اس واقعہ سے قبل فواد چوہدری کے لئے مرے دل میں نرم گوشہ تھا کیونکہ پیپلزپارٹی کے سابق لیڈر اورگورنر پنجاب مرحوم چوہدری الطاف ان کے چچا تھے وہ ہمارے جاننے والوں میں شامل تھے۔جہلم میں پیپلزپارٹی کی دو ہی شخصیات تھیں جنہوں نے شہرت حاصل کی۔بے نظیر نے جب چوہدری صاحب کو پنجاب کا گورنر بنایا تو ان سے روز ٹیلی فون پر رابطہ رہتا تھا ایک رات جب ن لیگی بہت افواہیں پھیلا رہے تھے تو میں نے آدھی رات کو انہیں فون کیا اور کہا کہ چوہدری صاحب سنا ہے کہ آپ نے استعفیٰ دے دیا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ نہیں سنا۔
اس خاندان سے تعلق کے باوجود وہ مشرف سے پی پی وہاں سے پی ٹی آئی میں آئے جبکہ مشکل وقت میں عمران خان کو بھی چھوڑ گئے تاہم نظریہ ضرورت کے تحت ان بھگوڑوں کو تیار کیا گیا ہے جن کا اصرار ہے کہ وہ ابھی تک پارٹی میں ہیں وہ دوبارہ گھس کر اسے ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں لیکن پی ٹی آئی میں اب ان کی گنجائش نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مایوس ہو کر موجودہ نظام کے خلاف صف آراءہوگئے ہیں، ان کا نیا بیانیہ ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام لایا جائے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر نظام بدلنے سے پہلے کوئی ریفرنڈم ہوا انہیں پولنگ ایجنٹ کا عہدہ ضرور ملے گا۔ ڈبو چوہدری جہلم میں پرویز مشرف کے پولنگ ایجنٹ رہے تھے ان کا خیال ہے کہ موجودہ نظام میں ان کا اقتدار میں آنا ناممکن ہے انہیں بہت بڑی تبدیلی کی صورت میں ہی کچھ مل سکتا ہے۔وہ یہ بھول گئے کہ ن لیگ نے خوشامد اور توصیفی صنف میں وہ کمال حاصل کیا ہے اس کی موجودگی میں اوروں کی گجائش ہی کم ہے۔دیکھیں آنے والے دنوں میں کیا ہوتا ہے جون کے مہینے میں بہت کچھ ہونے کو ہے یہ وقت آنے میں زیادہ دیر نہیں ہے شاید تبدیلیوں کے بعد ہی پرویز مشرف کے پیدل دستہ کی کچھ امیدیں بر آئیں اور کچھ مرادیں پوری ہوجائیں۔


