یہ وقت ایک دوسرے پر تنقید کا نہیں بلکہ ملکر ملک دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کا ہے ، مینا مجید کی مزدوروں کے قتل پر مذمت

کوئٹہ (انتخاب نیوز)ایم پی اے مینا مجید بلوچ نے اپنے ایک بیان میںکہا کہ تربت میں چھ بے گناہ اور نہتے مزدوروں کا سفاکانہ قتل کوئی عام واقعہ نہیں یہ ایک ایسا دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جس نے بطور ایک ماں، بطور ایک عورت، اور بطور اس صوبے کی وزیر، میرے دل کو زخمی کر دیا ہے۔یہ وہ محنت کش تھے جو کسی جنگ کا حصہ نہیں تھے۔ یہ صرف اپنے بچوں کے پیٹ کی خاطر ، ان کے مستقبل کی آس اور اپنے بوڑھے والدین کی دوائی کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر ہماری یہاں پر پسینہ بہانے آئے تھے۔میں پوچھتی ہوں، آخر ان کا قصور کیا تھا؟ کیا اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کمانا گناہ ہے؟ آج ان بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ چھن گیا جو ہر شام اپنے باپ کی واپسی کا انتظار کرتے تھے۔ ان کے گھروں میں جو کہرام برپا ہے اس آہ و بکا کا جواب کون دے گا؟یہ کتنا بزدل دشمن ہے جو سامنے سے آنے کی ہمت نہیں رکھتا اور مجبور، نہتے مزدوروں کا خون بہا کر خود کو بہادر سمجھتا ہے! جو عناصر بے گناہ انسانوں، مسافروں اور مزدوروں کو نشانہ بناتے ہیں، سن لیں، وہ نہ انسان کہلانے کے لائق ہیں نہ ان کا کوئی مذہب ہے اور نہ ہی وہ بلوچ روایت یا کسی تہذیب کے پاسدار ہیں۔ یہ صرف اور صرف خوف، نفرت اور انتشار پھیلا کر ہمارے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان ہماری مشترکہ چھت ہے۔ یہاں بلوچ، پنجابی، پشتون، سندھی اور تمام قومیتیں صدیوں سے ایک ساتھ سانس لے رہی ہیں۔پاکستان کے ہر کونے میں بلوچ، پنجابی، پشتون، سندھی اور دیگر قومیتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے، تعلیم حاصل کرتے اور روزگار کماتے ہیں۔ اگر شناخت کی بنیاد پر بے گناہوں کو قتل کیا جانے لگے اگر نفرت کی آگ کو نہ روکا گیا تو پھر کوئی گھر محفوظ نہیں رہے گا۔بحیثیت کیبنیٹ ممبر اور اس صوبے کی بیٹی، میں واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ ان درندہ صفت عناصر کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ہم اپنے امن کے لیے، انسانیت کے لیے اور اپنے ہر محنت کش بھائی کی حفاظت کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔ہمیں نفرت کے سوداگروں کو شکست دینی ہوگی۔ یہ وقت بٹنے کا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر امن اور اتحاد کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں