گوادر پورٹ سی پیک کا سمندری دروازہ ہے، 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری مستقبل میں علاقائی معیشت کا مرکز ہوگی، وفاقی وزیر بحری امور
بیجنگ (آئی این پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری کی سربراہی میں چیئرمین گوادر پورٹ نور الحق بلوچ اور اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد نے چین کا دورہ کیا، جہاں وفد نے بیجنگ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی سیمینار ”پاک چین انٹرنیشنل لاجسٹکس حب کے ذریعے اقتصادی ترقی کا فروغ“ میں شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط اقتصادی و اسٹریٹجک شراکت داری، علاقائی روابط اور مربوط لاجسٹکس نیٹ ورک کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری تعاون، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، گوادر پورٹ اور گوادر فری زون کے ذریعے خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع، ساحلی پٹی اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کے باعث خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ کے لیے ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کو جدید لاجسٹکس، ٹرانس شپمنٹ، بحری خدمات اور علاقائی تجارت کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے پاکستان چین سمیت دوست ممالک کے سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ مربوط ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور جدید لاجسٹکس انفراسٹرکچر کے ذریعے چین، پاکستان، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے چینی حکومتی اداروں، کاروباری کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں بالخصوص گوادر پورٹ اور گوادر فری زون سے منسلک شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ سیمینار سے چیئرمین گوادر پورٹ نور الحق بلوچ نے اپنے خطاب میں گوادر پورٹ کی منفرد جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گوادر مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مغربی چین کے سنگم پر واقع ہے، جو اسے علاقائی لاجسٹکس، ٹرانس شپمنٹ، بنکرنگ اور بحری خدمات کے مرکز کے طور پر غیر معمولی اہمیت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے شرکاءکو گوادر پورٹ پر جاری تجارتی سرگرمیوں، کارگو ہینڈلنگ، حالیہ کمرشل بنکرنگ آپریشنز، ٹرانس شپمنٹ سہولیات، جدید بندرگاہی انفراسٹرکچر اور گوادر فری زون میں دستیاب سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان سرمایہ کاروں کو ٹیکس مراعات، کسٹمز سہولیات اور کاروبار دوست پالیسیوں کے ذریعے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ چیئرمین نور الحق بلوچ نے چینی سرمایہ کاروں کو بندرگاہ سے منسلک صنعتوں، لاجسٹکس، ویئر ہاﺅسنگ، جہازوں کی مرمت، ماہی گیری، قابلِ تجدید توانائی، ویلیو ایڈڈ لاجسٹکس اور دیگر صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ مستقبل قریب میں پورے خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کا اہم مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے گوادر پورٹ کو صرف ایک تجارتی بندرگاہ نہیں بلکہ مستقبل کے علاقائی انرجی، لاجسٹکس اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ حب کے طور پر پیش کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع صلاحیتوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے لینڈ بیسڈ ایل این جی ٹرمینل کے تصور پر بھی روشنی ڈالی، جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی توانائی رابطہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے۔ نور الحق بلوچ نے بتایا کہ مجوزہ منصوبہ 3 سے 4 ارب امریکی ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری، 35 بی سی ایف (BCF) ایل این جی اسٹوریج اور تقریباً 125 ایکڑ پر محیط جدید انفراسٹرکچر پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے پاکستان میں توانائی کی دستیابی اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ گوادر کو جدید انرجی لاجسٹکس حب میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سیمینار کے دوران چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، مربوط لاجسٹکس نیٹ ورک، ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈورز اور بندرگاہ سے منسلک صنعتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں ایسے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن کی مجموعی ممکنہ سرمایہ کاری 10 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے۔ مجوزہ منصوبوں میں ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈورز، لاجسٹکس پارکس، میری ٹائم سروسز، بندرگاہ سے منسلک صنعتی انفراسٹرکچر، ویلیو ایڈڈ لاجسٹکس پلیٹ فارمز اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔ چینی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں نے گوادر پورٹ کی ترقی اور مستقبل کے امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور تعاون پر آمادگی ظاہر کی۔ چیئرمین نور الحق بلوچ نے کہا کہ گوادر پورٹ پر عالمی معیار کی بندرگاہی سہولیات، گہرے پانی کی بندرگاہ، گوادر فری زون، حالیہ کامیاب کمرشل بنکرنگ آپریشنز، ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں اور مستقبل کے انرجی منصوبوں کا امتزاج گوادر کو خطے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک منفرد اور پرکشش منزل بناتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی سرمایہ کاروں کو شفاف، سازگار اور بین الاقوامی معیار کی کاروباری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ نہ صرف سی پیک کا سمندری دروازہ ہے بلکہ مستقبل میں پاکستان کو علاقائی تجارت، ٹرانزٹ، لاجسٹکس اور بحری معیشت کا مرکزی مرکز بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ بیجنگ میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی فورم میں لوہانگ ریل ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ (Luhang Rail Transportation Technology Company Ltd) کے چیئرمین لن جیان ہوئی (Lin Jianhui) سمیت چینی حکومتی نمائندوں، سرکاری اداروں، لاجسٹکس کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور ماہرین نے شرکت کی۔ فورم میں گوادر پورٹ اتھارٹی کی شرکت پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور گوادر کو عالمی معیار کے تجارتی، لاجسٹکس اور انرجی مرکز کے طور پر متعارف کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔


