پسنی ، سمندری حدود میں غیر قانونی ٹرالنگ کا سلسلہ پھر تیز،ماہی گیروں کاقانونی کارروائی کا مطالبہ
پسنی(رپورٹ: سخی کریم)پسنی کے سمندری حدود میں مبینہ غیر قانونی ٹرالرنگ کا سلسلہ پھر تیز، ماہی گیروں کا کارروائی کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق پسنی کے قریب جزیرہ ہفتلار کے سمندری حدود میں مبینہ غیر قانونی ٹرالرنگ کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں مقامی ماہی گیروں کے مطابق ٹرالرز دن کی روشنی میں ممنوعہ سمندری حدود میں داخل ہو کر دیدہ دلیری سے ٹرالرنگ کر رہے ہیں۔ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ 12 ناٹیکل میل کے اندر ممنوعہ علاقوں میں ٹرالرنگ کے باعث سمندری حیات اور مچھلی کے قدرتی ذخائر کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے روزگار کمانے والے مقامی ماہی گیر بھی مسلسل مشکلات کا شکار ہیں،مقامی ماہی گیروں کے مطابق ممنوعہ حدود میں ٹرالرنگ سے سمندری ماحول متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ مچھلی کی افزائش کا قدرتی عمل بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غیر قانونی ٹرالرنگ کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو مستقبل میں سمندری وسائل میں مزید کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے،ماہی گیر برادری نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ٹرالرنگ میں ملوث بعض عناصر کو منتخب نمائندوں اور بااثر شخصیات کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہونے کے باعث ان کے خلاف مو¿ثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ان کے مطابق منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے غیر قانونی ٹرالرنگ کے خاتمے اور سمندری وسائل کے تحفظ کے لیے کیے گئے وعدے تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکے،ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو ساحلِ بلوچستان کا سمندر مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار کا ذریعہ بننے کے بجائے تباہ شدہ سمندری ماحول کی شکل اختیار کر سکتا ہے،ماہی گیر برادری نے حکومت بلوچستان، محکمہ فشریز اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جزیرہ ہفتلار سمیت ساحلی علاقوں میں غیر قانونی ٹرالرنگ کے خلاف مو¿ثر اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے، سمندری حدود کی نگرانی مزید سخت کی جائے اور مقامی ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سمندری وسائل کو تباہی سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔


