عادل بازئی سمیت پی ٹی آئی کے 6 رکن اسمبلی زیر حراست، لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، وزیراعلیٰ کے پی
اسلام آباد کے ریڈ زون سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 6 اراکین پارلیمنٹ کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جن میں عادل بازئی، سینیٹر سیف اللہ نیازی، ثناء اللہ مستی خیل، میاں جمال احسن خان، داوڑ خان اور محمد غوث شامل ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی اور کارکنان کی گرفتاریاں جاری ہیں، پولیس نے ایم این اے عادل بازئی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق زیر حراست پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو تھری ایم پی او کے تحت جہلم جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ گرفتار ممبران اسمبلی میں میاں احسن جمال اور ثنا اللہ مستی خیل شامل ہیں جب کہ سینیٹر سیف اللہ نیازی، غوث محمد اور داور کنڈی بھی زیر حراست ہیں۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد سے زیر حراست ممبران اسمبلی کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو ہر صورت اسلام آباد کے لیے نکلیں گے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔یہ بات انہوں ںے وزیراعلی ہاؤس پشاور میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی۔ اجلاس میں مرکزی و خیبرپختونخوا قیادت چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عاطف خان، شاہد خٹک سمیت دیگر نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس اور کہا کہ 27 ستمبر کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے، 26 نومبر 2024ء کو تحریک انصاف پر ظلم جبر ہوا، ڈی چوک میں ہم پر گولیاں چلائی گئیں، ریاست پر قابض ٹولہ شہادت کا ذمہ دار ہے، اس ظلم کے باوجود ہم جھکے نہیں، ریاست کے ظلم و جبر کے باوجود پی ٹی آئی ملک کی بڑی جماعت ہے، دو سال میں ہم نے خیبرپختونخوا سے باہر کوئی بڑا جلسہ نہیں کیا، ہم نے صوبائی اور قومی اسمبلی کا استعمال کیا آواز اٹھائی کوئی جواب نہیں آیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ ہم نے جعلی وزیراعظم سے بات کی انہوں نے کہا پوچھ کر بتاؤں گا جب کہ اڈیالہ جیل کا سپرنٹنڈنٹ عدالتی فیصلہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے، تین ججوں کا فیصلہ ہے عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے، 9 ماہ ہوئے وزیراعلی بنے، میں نے کون سا احتجاج کیا، ہماری بات نہیں سنی جاتی جس پر احتجاج کرنا ہمارا حق ہے، ہم عوامی لوگ ہیں جمہوری راستے اپناتے پیں اور جو چور دروازے سے آتے پیں وہ ظلم و جبر کرتے ہیں، جب یہ پکڑ میں آتے پیں تو عورت کارڈ بھی کھیلتے ہیں۔


