اسلام آباد سے جینے کا حق مانگ رہے ہیں بصورت دیگر سقوط ڈھاکہ سے زیادہ حالات خراب ہوں گے، مولانا ہدایت الرحمان

امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اسلام آبادکے جعلی واصلی حکمران بلوچستان کے عوام پررحم کریں میڈیامالکان بلوچستان کواہمیت دیں بلوچستان کو روزگارتعلیم وعلاج دیکرجینے کاحق دیں اسلام آباد سے ہم جینے کاحق مانگ رہے ہیں بصورت دیگرسقوط ڈھاکہ سے زیادہ حالات خراب ہوں گے۔دلیل کی زبان استعمال کی جائے ہم جمہوری مذاہمت اورظلم وجبر کے خلاف احتجاج کریں گے ہم پاکستان کے غلام نہیں آزادشہری ہیں بندوق کے زورپرہمیں غلام نہ بنایاجائے۔اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کوصوبے کی طرح نہیں مفتوحہ ومقبوضہ علاقہ اورکالونی کی طرح چلاکرکے یہاں کے لوگوں کوتیسرے درجے کا شہری اورغلام سمجھاجارہاہے معدنیات کومال غنیمت سمجھ کرلوٹاجارہاہے۔مذاکرات بات چیت نہیں گالی اورگولی کی زبان استعمال کی جارہی ہے فوجی آپریشن طاقت کے استعمال مسائل کا حل نہیں۔ہمیں تھانے چیک پوسٹیں گالی بے عزتی نہیں عزت واحترام کیساتھ تعلیمی ادارے ہسپتال روزگاراورحقوق چاہیے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے کراچی پریس کلب میں بلوچستان کامقدمہ پیش کرنے کے موقع پر پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیااس موقع پرجماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ نائب امراء زاہداختربلوچ بشیر احمد ماندائی حافظ نورعلی پروفیسر محمدایوب منصورمولانامحمداسلم گزگی صابرصالح پانیزئی نورالدین غلزئی عبدالولی خان شاکر امیرجماعت اسلامی کوئٹہ عبدالنعیم رند ودیگرذمہ داران موجودتھے۔مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ بسوں سے لوگوں کواتارکریاآبادکاروں اقلیتوں کوقتل کرنابدترین ظلم ہیں جماعت اسلامی ہرظلم ہرقتل ہرزیادتی کی ہرجگہ مذمت کرتی ہے قتل کسی بھی زبان نسل کاہوہم ہرقتل ہرظلم کی ہرجگہ ہروقت شدیدمذمت کرتے ہیں۔ظلم جبر لاقانونیت کے خلاف حقوق کے حصول کیلئے ہم جمہوری مذاہمت جاری رکھیں گے جمہوری جدوجہدجمہوری مذاہمت ہماراراستہ ہے۔ آج بھی بلوچستان کے حالات بہت بدترہیں۔اگرمودی دھلی سے بلوچستان کے لوگوں کورقم بجھواسکتے ہیں تراسلام آبادکےحکمران کیوں بلوچستان کے عوام نوجوانوں پرخرچ نہیں کرتے۔سیکورٹی والے آئینی کام تحفظ وسیکورٹی کاکام کریں اطلاعات وتجارت کاکام سیکورٹی والے نہ کریں۔فارم 47 کے جن لوگوں کومسلط کیے گیے ہیں وہ طاقتور طبقے اوران کے آلہ کار ہمارے مسائل کے ذمہ دار ہیں۔بلوچستان کوقدرت نے بے پناہ قدرتی وسائل معدنیات ساحل ووسائل دیے ہیں مگریہی وسائل ہماری تجارت ہمارے معدنیات ہم سے چھینے جاریے ہیں عوام کوعلاج و تعلیم کی سہولت میسر ہیں نہ پینے کاصاف پانی میسرہیں اسلام آباد کے حکمران سازش کے لٹیرے مسلط کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہرطرف احتجاج مایوسی احساس محرومی کادوردورہ ہیں۔مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ بلوچستان ڈیڑھ کروڑ کی آبادی چالیس لاکھ نوجوان ہیں اسلام آباد کے حکمرانوں نے ایران وافغانستان کی سرحدیں قانونی تجارت کیلئے بھی بند کیے ہیں بلوچستان ایک ہزارارب ڈالرسے زیادہ کے قیمتی معدنیات کاوارث ہے دوسوملین ٹن سونے اورکاپرکے ذخائر جبکہ کوئیلے کے ذخائر 85ارب ٹن ہیں بلوچستان دنیاکے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے گوادرکامالک ہیں لیکن یہاں کے نوجوانوں کوروزگارمیسر ہیں نہ تجارت کے مواقع دیے جاتے ہیں بھوک پیاس غربت کے شکارعوام کیلئے جماعت اسلامی ہرفورم پرجدوجہد کررہی ہیں ہم نے حقوق بلوچستان لانگ مارچ کیاحکمرانوں نے وعدے کیے لیکن تاحال اپنے ہی کیے گیے وعدوں کووفانہیں کیے۔ہم نے اے پی سی کیاجرگے کیے کانفرنسزکیے مگراسلام آباداہل بلوچستان کوحقوق دینے میں سنجیدہ نہیں اگرہمارے مطالبات پرعمل درآمد نہیں ہوئے توہم پرجماعت اسلامی دوبارہ احتجاج شروع کریں گے جمہوری مذاہمت کے ذریعے حکمرانوں سے حقوق چھین لیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے