گریٹر پنجاب کی وکالت

تحریر: انور ساجدی
غزہ پیس بورڈ ون مین شو ہے اس کے روح رواں ڈونلڈ ٹرمپ اور صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔باقی سارے مسلمان ریلو کٹے حکمران ہیں۔دنیا میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے یورپ نے پہلے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا جبکہ امریکہ کے سابق حاشیہ بردار برطانیہ عظمیٰ نے ایران پر حملے کے لئے بحرہند میں واقع اپنا فوجی اڈہ ڈیگوگارشیا استعمال کرنے سے سے امریکہ کو منع کر دیا ہے مسلمان سربراہوں میں نمایاں شخصیت شہبازشریف کی تھی لیکن گروپ فوٹو میں انکو سب سے پیچھے کھڑا کیا گیا تھا البتہ صدر ٹرمپ نے ان کی تعریف کر کے کچھ عزت سادات بحال کردی۔صدرٹرمپ غزہ کو کیا بنانا چاہتے ہیں ا سکے ارادے کیا ہیں اس کی20 لاکھ آبادی کو کس ملک میں منتقل کیا جائے گا اور حماس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا۔البتہ اگر حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی گئی تو کئی مسلمان ملک پھنس جائیں گے اور انہیں لینے کے دینے پڑیں گے۔دعا کی جائے کہ ٹرمپ صاحب چندہ فنڈ میں پاکستان سے حصہ طلب نہ کرے ورنہ سارا حساب کتاب گڑ بڑ ہو جائے گا پاکستان کا حساب کتاب ویسے بھی گڑ بڑ ہے۔ایک ایسی اشرافیہ مسلط ہے کہ جو عوام کو لوٹ کر پھر ماہ رمضان کے طفیل38 ارب روپے کی خیرات دے کر اپنے زرخرید میڈیا سے واہ واہ سمیٹ رہی ہے یہ نہیں کہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے روزگار کے ذرائع پیدا کرے بلکہ پوری قوم کوبھیک کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔شہروں میں بھکاریوں کے غول کے غول نظر آ رہے ہیں شاید اتنے بھکاری دنیا کے کسی اور ملک میں ہوں حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ وہ کشکول لئے ملکوں ملکوں گھوم رہے ہیں لیکن تمام ممالک نے ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔بھلا اس ریاست کا کیا مستقبل ہوگا جس کے دو صوبے جام ہوں جو پاکستان کے کل رقبہ کا60 فیصد ہے سندھ کا تو بدانتظامی کی وجہ سے براحال ہے البتہ اس وقت پنجاب مزے میں ہے۔ گورننس بھی ٹھیک ہے وسائل بھی سب سے زیادہ ہیں۔
شوخی دیکھئے کہ ملک کی نصف سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے لیکن محترمہ مریم نواز نے ذاتی سواری کےلئے پنجاب کے خزانہ سے10 ارب روپے خرچ کر کے ایک طیارہ خرید لیا ہے اس کی تزئین و آرائش کے لئے مزید رقم خرچ ہوگی تاکہ طیارہ ان کے شایان شان رہے۔گزشتہ ماہ جب شہبازشریف اور اسحاق ڈار ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے لئے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس گئے تھے تو اپنے علیحدہ علیحدہ جہاز لے کر گئے تھے اگر وہ دونوں ایک ہی جہاز میں جاتے تو کونسی شان میں کمی آنی تھی دنیاحیران ہے کہ ایک کنگال ریاست جو اپنے بے تحاشا خرچ قرضہ لیکر چلا رہی ہے لیکن اس کے حکمران اتنے شاہ خرچ واقع ہوئے ہیں کہ ہر ایک علیحدہ جہاز اسعتمال کرتا ہے۔وزیراعظم شہبازشریف جس طیارے میں واشنگٹن گئے تھے واپسی پر وہ کئی دن اپنے من پسند شہر لندن میں قیام کریں گے معلوم نہیں کہ ان کا زیراستعمال طیارہ تب تک لندن میں رکا رہے گا یا وہ کسی اور ذریعے سے واپس آئیں گے لندن میں کافی عرصہ سے شریف خاندان کی کئی رہائش گاہیں موجود ہیں بڑے میاں کا فلیٹ ایون فیلڈ تو ساری دنیا میں مشہور ہے جبکہ ان کے صاحبزادے علیحدہ فلیٹ رکھتے ہیں چھوٹے میاں کا الگ فلیٹ ہے جبکہ افواہ ہے کہ انہوں نے دوسری بیگم کے لئے بھی علیحدہ مکان لے رکھا ہے۔میاں نوازشریف کو تو ایون فیلڈ کی وجہ سے سزا ہوئی تھی لیکن شہبازشریف بچ گئے تھے۔شکر ہے کہ انہیں رائے ونڈ جاگیر کی وجہ سے کوئی سزا نہیں ہوئی اگر تحقیق ہوئی تو جواب دینا پڑتا کہ18 سو ایکڑ زمین کن ذرائع سے حاصل کی گئی اور اربوں روپے کی لاگت سے وسیع و عریض محلات کیسے تعمیر کئے گئے لیکن روایت ہے کہ بڑے لوگ اس وقت زد میں آتے ہیں جب وہ حکومت سے باہر ہوں یا مخالف حکومت کی وجہ سے زیر عتاب ہوں جیسے کہ آج کل عمران خان ہیں۔انہوں نے اپنے دور میں مخالفین کو دبانے،جیلوں میں ڈالنے اور مقدمات قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اب وہ خود جیل میں ہیں اور مکافات عمل کا سامنا کر رہے ہیں۔اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی70فیصد بحال ہوگئی ہے لیکن امراض چشم کے ماہرین اس دعویٰ سے اتفاق نہیں کرتے کراچی کے مشہور”ریٹینا“اسپیشلسٹ ڈاکٹر نثار کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہی کہ دو ہفتوں کے دوران70 فیصد بینائی بحال ہو جائے اس کے لئے کافی تگ ودو کرنی پڑتی ہے لہٰذا حکومت کے دعوے سیاسی ہیں عمران خان کو جیل میں وہ سہولتیں حاصل نہیں ہیں جن کا دعویٰ حکومت کرتی ہے۔انہوں نے دوسال شدید گرمیاں برداشت کی ہیں اور حالیہ سردیوں کا سیزن بھی کسمپرسی کے عالم میں گزارا ہے۔ حکومت نے بکرے مرغ مسلم اور ڈرائی فروٹ کی فراہمی کا جو دعویٰ کیا ہے اس پر کوئی بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ زرداری نے بہت سخت جیل گزاری تھی نوازشریف کے دور میں ان کی زبان پر چرکے لگائے گئے تھے جبکہ مشرف کے دور میں انہیں قید تنائی میں رکھا گیا تھا مشرف کے دور میں نوازشریف کو بھی اٹک جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا ان کی نسبت عمران خان قدرے آرام سے ہیں لیکن اچانک ان کی صحت گرنا شروع ہو گئی ہے آنکھ کا مسئلہ الگ ہے اب وہ سست اور ڈھیلے پڑ گئے ہیں ان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا الزام ہے کہ انہیں دھیرے دھیرے زہر دیا جا رہا ہے۔لگتا ہے کہ یہ محض الزام ہے جس کی تصدیق نہ ہوسکی۔ادھر عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کوئی موثر تحریک چلانے میں بری طرح ناکام ہے پہلے علی امین گنڈاپور نے کافی ڈرامے کئے تھے اب موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی ان کے نقش قدم پر رواں دواں ہیں وہ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جملہ قیادت محض دکھاوا کر رہی ہے ان کے بیچ میں مشر محمودخان پھنسے ہوئے ہیں وہ پی ٹی آئی لیڈروں کی چالوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اوپر سے پی ٹی آئی کی صفوں کے اندر شدید اختلافات ہیں اور وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کو دو مرتبہ ڈیل کی آفر ہوئی تھی جو انہوں نے ٹھکرا دی لیکن آج تک اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے عمران خان کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔پی ٹی آئی لوگوں کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے یا شاید لوگ بھی سڑکوں پر آنے کے لئے تیار نہیں ہیں سہیل آفریدی کا رمضان کے بعد اسٹریٹ موومنٹ بھی محض دکھاوا ایک اور ڈرامہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان ان کا متبادل تلاش کررہے ہیں۔اگر رمضان کے بعد آفریدی ناکام ہوئے تو عمران خان ایک اور وزیراعلیٰ نامزد کردیں گے لیکن طاقتور مقتدرہ کے سامنے کوئی بھی آجائے وہ کچھ نہیں کر سکے گا۔پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ انٹرنیشنل چینل استعمال کرے اور دوست ممالک کی سہولت کاری حاصل کرے اس کے بغیر ایک سزایافتہ قیدی کیسے یونہی رہا ہوسکتا ہے۔
پنجاب حکومت ان دنوں پنجابی قوم پرستی کا پرچم بلند کئے ہوئے ہے راولپنڈی سے آگے جی ٹی روڈ پر واقع شہر دینہ میں شیرشاہ سوری کا جو مجسمہ نصب تھا اسے گراکر اس کی جگہ سارنگ گھکڑ کا مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے دینہ ہی وہ جگہ ہے جہاں روہتاس قلعہ واقع ہے کہا جاتا ہے کہ قلعہ شیر شاہ نے تعمیر کروایا تھا لیکن پنجابی دانشور آج کل دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ قلعہ پہلے سے موجود تھا پنجابی ازم کا دعویٰ لے کر کئی مسخرے میدان میں کود گئے ہیں ان میں ایک نام نہاد صحافی رضی دادا سرفہرست ہیں جو آج کل راجہ رسالو کا پٹکا باندھے پنجابی ازم کی وکالت کر رہے ہیں وہ وقت دور نہیں جب پنجاب کے دانشور یہ مطالبہ کرتے نظر آئیں گے کہ محمود غزنوی محمد غوری اور ابدالی افغان لٹیرے تھے لہٰذا انہیں ہیرو قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ریاست نے اپنے میزائلوں کانام انہی سے منسوب کر دیا ہے اگر حملہ آوروں اور قبضہ گیروں کے آثار مٹا دئیے جائیں تو سارا آثار قدیمہ ختم ہو جائے گا جیسے کہ لاہور کا شاہی قلعہ بادشاہی مسجد مسجد وزیر خان داتا دربار وغیرہ وغیرہ لگے ہاتھوں پنجابی دانشور اپنی قوم کےلئے ایک الگ نام بھی تجویز کر دیں کیونکہ پنجاب بھی فارسی کا لفظ ہے جو حملہ آوروں نے اسے دیا تھا۔پنجاب میں جو خالصتاً پنجابی آثار ہیں ان میں راجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی جہلم میں وہ میدان جہاں سکندراعظم اور راجہ پورس کا مقابلہ ہوا تھا۔شخصیات میں راجہ رنجیت سنگھ، راجہ ہری سنگھ نلوہ، دلا بھٹی، رائے احمد خان کھرل اور بھگت سنگھ شامل ہیں جنہیں ہیرو کا درجہ مل سکتا ہے ملتان تو مکمل طورپر خالی ہو جائے گا کیونکہ وہاں پر رکن عالم،بہاﺅ الدین زکریا حضرت شمس تبریز جھنگ میں شاہ دونہ کی درگاہ سب کے سب باہر سے آئے ہوئے قبضہ گیروں کے ہیں۔پنجاب سکھوں کےلئے مکہ مدینہ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ گرونانک کا جنم استھان اور یادگاریں یہاں پر ہیں کرتارپور راہداری تو عمران خان نے بنا دیا تھا جبکہ موجودہ پنجاب حکومت اسے مزید بہتر کر رہی ہے بابا گرونانک کی ذات بابرکات متحدہ یا گریٹر پنجاب کی اصل بنیاد ہے ۔اگر کبھی دونوں پنجاب اور سارے پنجابی متحد ہوگئے حالات نے ان کا ساتھ دیا تو گریٹر پنجاب وجود میں آسکتا ہے۔البتہ نام پر اختلاف ضرورہوگا کیونکہ سکھوں نے پہلے سے اس کا نام خالصہ ریاست رکھا ہے دیکھیںکہ تاریخ اور جغرافیہ کیا فیصلے کرتے ہیں ہاں یہ ضرور دکھائی دے رہا ہے کہ ضیاءالحق کے دور میں جو پنجابی پختون اتحاد قائم ہوا تھا وہ دم توڑ گیا ہے جبکہ اسکی جگہ مہاجر اور پنجابی بھائی بھائی کا نام بلند ہورہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے