پاکٹ اپوزیشن، اپنڑا اپوزیشن لیڈر
تحریر: انور ساجدی
بلوچستان کے انتہائی سنجیدہ حالات کا تقاضا ہے کہ 80سالہ بزرگ اور قومی اسمبلی میں”مستعار“ اپوزیشن لیڈر جناب محمود خان اچکزئی کے حالیہ خطاب کا نوٹس نہ لیا جائے۔انہوں نے جو تلخ و شیریں باتیں کی ہیں ان کی پوری زندگی اور سیاست اس پراستوار ہے لہٰذا ان سے کیا گلہ کیا جائے البتہ انہوںنے اسمبلی میں موجود حاکمان بالا اور دور سے دیکھنے والے حکمرانوں سے درخواست کی کہ بلوچستان کی حاکمیت ان کے حوالے کی جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
محمود خان اچکزئی بظاہر بہت تندوتیز باتیں کرتے ہیں لیکن طاقتوروں کے سامنے موم کی مانند نرم ہیں انہیں ایک مانگے کی سیٹ کی بنیاد پر اپوزیشن لیڈر یونہی نہیں بنایا گیا بلکہ اس کی ایک پوری داستان ہے عمران خان کی جانب سے ان کی نامزدگی کو کافی عرصہ تک روکا گیا تاوقتیکہ ن لیگ کے سپریم لیڈر نوازشریف نے مداخلت کی اور سمجھایا بندہ”اپنڑا“ ہے لہٰذا ان کی مخالفت کی نہ کی جائے بلکہ انہی کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے۔چنانچہ میاں صاحب کی تگڑی سفارش پر انہیں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ نوازا گیا۔ان کے انتخاب کے بعد تو اسمبلی میں اصل اپوزیشن کا وجود ختم ہوگیا ہے۔اس کی جگہ ایک پاکٹ اپوزیشن نے لے لی ہے جبکہ محمود خان اچکزئی الفاظ کی سوداگری کے علاوہ حکومت کے ساتھ باہم شیر وشکر ہو گئے۔اڈیالہ جیل میں بند حقیقت حال سے بے خبر غریب عمران خان کا اعتماد محمود خان نے اس وقت حاصل کرلیا جب انہوں نے برملا کہا کہ 2024ءکا الیکشن عمران خان نے جیتا ہے اور شہبازشریف کی جو حکومت قائم کی گئی ہے وہ فارم47 کی پیداوارہے حالانکہ انتخابات میں خود محمود خان بھی نہیں جیتے تھے لیکن ایک بڑے مقصد کی خاطر انہیں بھی فارم47 کے تحت کامیاب قرار دیا گیا تاکہ مشکل وقت میں وہ کام آ جائیں چنانچہ ان کے انتخاب نے آج ثابت کر دیا ہے کہ اپنے قریبی آدمی کو لانے سے کیسی آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ایک طرف عمران خان کا سختی سے حکم ہے کہ عوام کو سڑکوں پر نکالا جائے دوسری طرف محمود خان نہایت باریک بینی سے اپنا کھیل کھیل رہے ہیں یہ تحریک انصاف کی حد درجہ نالائقی ے کہ اسے اپنے80,90 اراکین میں اپوزیشن لیڈر کےلئے کوئی آدمی نہیں ملا بلکہ اس نے مقتدرہ سے اس عہدے کے لئے ایک بزرگ اور کہنہ مشق کھلاڑی کو مستعار لینا پڑا لہٰذا اس صورت حال میں عمران خان کو طویل عرصہ تک قید میں رہنا پڑے گا۔اس کی جماعت اور اپوزیشن لیڈر ان کی رہائی کےلئے کوئی بڑا کردار ادا کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں اورغالباً یہ پہلا موقع ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد ایوان بھی اپنا ہے اور قائد حزب اختلاف بھی اپنا ہے۔موثر اپوزیشن کا کوئی وجود نہیں ہے محمود خان کا کردار یہ رہے گا کہ وہ مخالفانہ باتیں کر کے لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کریں گے کہ وہ جاندار کردار ادا کر رہے ہیں وہ غیر موثر اس لئے ثابت ہوں گے کہ ان کی سیاسی جماعت بہت زیادہ کمزور ہے اس کا تنظیمی وجود بلوچستان کے پشتون علاقوں کے دو تین اضلاع تک محدود ہے۔ووٹ بینک بھی نہیں ہے ماضی میں کوئٹہ شہر میں پشتونخواءمیپ کا اچھی خاصی اسٹریٹ پاور تھی لیکن تبدیل شدہ حالات نے وہ پاور بھی ختم کردی ہے۔موصوف کو غالباً زمینی حقائق کا ادراک نہیں ہے دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔وہ1886 کو قائم ہونے والے چیف کمشنر کے صوبے کو لئے بیٹھے ہیں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انگریزوں نے چیف کمشنر کا صوبہ قائم کیا تھا تو کوئٹہ میں بلوچوں کی آبادی نہیں تھی جبکہ وہ کاسی قبیلہ کے بزگر یا ہاری تھے محمود خان نے یہ نہیں بتایا کہ برٹش بلوچستان کی لیز خان آف قلات نے حاصل کی گئی تھی خان صاحب کے آباﺅ اجداد سے نہیں۔غالباً اس زمانے میں خان صاحب کے اجداد قندھار میں قیام پذیرتھے اور سیزن گزارنے کے لئے ڈیورنڈ لائن کے اس پار آتے تھے ان کے خطاب سے تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ انگریزوں نے ”کچا قلعہ“ ان کے بزرگوں سے حاصل کیا تھا انہوں نے معاہدہ گنڈھک کا ذکر بھی کیا جو شروع سے اس معاہدہ کے ناقد ہیں اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو خان صاحب نہ بلوچستان کے شہری ہوتے اور نہ آج پاکستا ن کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہوتے۔پونے دو سو سال بعد ان کا یہ کہنا کہ انگریزوں نے پشتون علاقے کو برٹس بلوچستان کا جو نام دیا تھا وہ غلط تھا بلک اس کا نام برٹش افغانستان ہونا چاہیے تھا۔کاش خان صاحب اس وقت موجود ہوتے اور انگزیز ان سے پوچھ کر اس علاقے کا نام تجویز کرتے۔جب یہ علاقہ الگ کیا گیا تھا تو اس میں مری بگٹی چاغی اور نصیرآباد کے علاقے بھی شامل کئے گئے تھے ان علاقوں کی آبادی ژوب اور پشین سے کہیں زیادہ تھی اس لئے اس کا نام برٹش بلوچستان رکھا گیا خان صاحب کا جو موقف ہے وہ بہت پرانا ہے اس لئے ان سے گلہ کرنا بے سود ہے۔1977ءمیں جب وہ پہلی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے تو انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں کھڑے ہو کر جام جمالی اور رئیسانی پر کرپشن کے الزامات عائد کئے تھے اس پر سردار انور جان کھیتران طیش میں آئے تھے انہوں نے اس موقع پر جو کہا اگرچہ وہ شائستہ گفتگو نہیں ہے لیکن چونکہ تاریخ اور ریکارڈ کا حصہ ہے لہٰذا اسے درج کرنا ضروری ہے۔
جب محمود خان نے کرپشن کا الزام لگایا تو سردار انور جان کھڑے ہوئے کہا کہ جب موصوف کے پردادا دوبکریوں کے ساتھ افغانستان سے بلوچستان آئے تھے تو اس وقت بھی جام جمالی رئیسانی اور کھیتران موجودتھے اور بہت خوشحالی کی زندگی گزار رہے تھے۔1973ءمیں جب بھٹو حکومت نے پشین کا الگ ضلع بنا کر اسے کوئٹہ سے جدا کر دیا تھا تو محمود خان نے ”نہ منوں“ کا نعرہ لگایا تھا جو ان کی سیاسی شناخت بن گیا۔ان کے والد محروم خان عبدالصمد خان اچکزئی نے18سال جیلوں میں گزارے تھے لیکن1983ءکو ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران محمود خان گرفتاری سے بچ کر افغانستان چلے گئے۔1990ءکی دہائی سے وہ مسلم لیگ ن کا حصہ بن گئے میاں نوازشریف سے تعلقات اتنے قریبی تھے کہ ڈاکٹر مالک کی حکومت میں سیاہ و سفید کے مالک بن گئے اس زمانے میں الزام لگا تھا کہ انہوں نے کوئٹہڈسٹلری کی زمین اپنے نام الاٹ کروائی تھی جس کی وجہ سے یہ فیکٹری حب چوکی شفٹ ہوگئی تھی جو آج تک قائم ہے۔وہ زندگی کے ایک اہم مرحلے میں سیاسی اثر ختم ہونے اور پیرانہ سالی کی وجہ سے تقریباً گوشہ نشین ہوگئے تھے کہ عمران خان نے انہیں صدارتی امیدوار بنایا جس کی وجہ سے ان کی شخصیت اور سیاست کو حیات نو ملی اس صدارتی انتخاب میں اختر جان مینگل نے بھی انہیں ووٹ دیا تھا وہ ووٹ دیتے وقت جانتے تھے کہ بلوچوں کے نمک میں تاثیر نہیں ہے اس کے باوجود انہوں نے ووٹ دیا حتیٰ کہ نواب اکبر خان نے بھی محمود خان کے سینیٹ کے امیدوار کو ووٹ دے کر کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔
قومی اسمبلی میں محمود خان کے خطاب کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں تھا کہ وہ بلوچ پشتون تعلقات کو ایک بار پھر بگاڑ کر پرانے ڈگر پر لے جائیں کیونکہ ان کے پلے یا ان کے توشہ خانے میں بلوچ دشمنی کے سوا اور کوئی متاع نہیں ہے وہ53 سال اس کی بدولت سیاست کرتے رہے ہیں لیکن اب وقت بدل چکا ہے حالات بدل چکے ہیں زمینی حقائق بدل چکے ہیں بلوچ اور پشتون پہلے کے مقابلہ میں زیادہ قریب آچکے ہیں محمود خان اور ان کے جو دیگر عمصر سیاسی جماعتیں اور لیڈر ہیں وہ اپنی افادیت کھوچکے ہیں بلوچستان کے لوگ ژوب سے لے کرگوادر اور تفتان سے لیکر جھٹ پٹ تک ان کے ساتھ نہیں ہیں ان کی جگہ نئی نسل نے لے لی ہے جو نام نہاد پارلیمانی سیاست سے بددل اوربدظن ہے۔محمود خان کو پتہ نہیں کہ یہ1886 ،1973اور1990 نہیں ہے یہ 21 ویں صدی اور ڈیجیٹل دور ے اس دور میں جھوٹ مکروفریب اورسیاسی شعبدہ بازی نہیں چل سکتی۔وہ خوش ہیں کہ وہ اپنے پسندیدہ دارالحکومت اسلام آباد میں مستقل سکونت اختیارکرچکے ہیں جہاں ان کے ہم نوا حکمران موجود ہیں جو ان کے ناز نخرے اٹھا رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کا تعلق اپوزیشن سے نہیں بلکہ انہی کی صفوں میں سے ہے وہ دعائیں دیں عمران خان اور نوازشریف کو انہوں نے ان میں نئی روح پھونک دی ہے وہ پہلے بھی”اپنڑے“ بندے تھے اور آج بھی ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔انہوں نے بلوچوں کے بارے میں جو کہا وہ مرے کو مارے شاہ مدار کی مانند ہے۔


