کہیں امریکہ ایٹم بم استعمال نہ کرے

تحریر: انور ساجدی
اگر ایران زیادہ دیر تک امریکہ اسرائیل اور اس کے سنی اتحادیوں کا مقابلہ جاری رکھے گا تو خلیج میں ایسا بحران جنم لے گا کہ کسی نے اس کے بارے میں سوچا نہیں ہوگا۔عین ممکن ہے کہ جنگ کو ختم کرنے کے لئے امریکہ کو تاریخ میں دوسری بار ایٹم بم یا اس سے زیادہ خطرناک ہتھیار استعمال کرنا پڑے جس کا نتیجہ پورے خطے کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا جبکہ پوری دنیا بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ہفتہ کو علی الصبح امریکہ اور اسرائیل نے مل کر تہران اصفہان قم سمیت کئی درجن مقامات پر بمباری شروع کر دی چند گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان جنگ کر دیا۔جوابی ردعمل میں ایران نے اسرائیل،سعودی عرب، بحرین،کویت،یو اے ای اور قطر پر میزائل حملے کئے۔اتنے سارے ممالک کو ایک ساتھ نشانہ بنانا ایران کی جنگی صلاحیتوں کا مظہر ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ ایران کب تک مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگر اس کی ہمت جواب دے گئی تو اسے اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ایران کی ہمت اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک آیت اللہ خامنائی سلامت رہیں گے اگر وہ باقی نہ رہے تو ایرانی رجیم دھڑام سے گر جائے گی۔جس کے بعد امریکہ کے لئے ایران میں بنیادی تبدیلیاں لانا آسان ہوگا۔عجیب بات یہ ہے کہ اسرائیل میں مقیم سابق شاہ ایران کے صاحبزادہ گرگ باراں دیدہ کی طرح تہران کے اقتدارکو خونخوار نظروں سے دیکھ رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل انہیں ملاصاحبان کی حکومت کے خاتمہ کی صورت میں اقتدار میں لائیں گے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ ایران میں دوبارہ بادشاہت قائم نہیں ہوسکتی۔بہت بڑی جنگ کے نتیجے میں یہ گارنٹی نہیں کہ ایران کی وحدت برقرار رہے۔امریکہ اسے کئی حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کرے گا اور متعدد نئی ریاستیں قائم کرنے کی کوشش کرے گا جیسے کہ بلوچستان ،کردستان،خورنستان اور آذربائی جان اگر ملک کی صورت میں باقی بچا تو وہ فارس ہوگا جو کہ سامراجی توسیع سے پہلے قائم تھا۔ایران نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہے۔سخت گیر حکومت ریاست کو سنبھالنے میں ناکام رہی۔صرف چار دہائیوں میں لوگ زندہ درگور ہوگئے۔بیشتر آبادی نان شبینہ کو محتاج ہوگئی۔اوپر سے امریکہ اور مغربی اتحادیوں کی اقتصادی پابندیوں نے حالات کو مزید گھبمیر بنا دیا۔ملاصاحبان نے میزائلوں کی حد تک اپنے دفاع کو مضبوط بنایا لیکن پابندیوں کی وجہ سے اس کی ائیرفورس اور بحری طاقت بہت کمزور رہ گئی تاہم اس کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کچھ عرصہ تک خلیج میں موجود امریکی اڈوں طیارہ بردار جہازوں اور تنصیبات کو نشانہ بنائے۔تاہم جوں جوں جنگ شدت اختایر کرتی جائے گی امریکہ جنگ ختم کرنے کے لئے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبورہو گا جو تباہ کن ہوگا۔اگر جنگ طول پکڑ گئی تو گلف شدید ترین تباہی سے دوچار ہو جائے گا تمام امریکی اتحادی ممالک کی معیشت بیٹھ جائے گی اور ان ممالک کی بلند وبالا عمارتوں کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی۔جلد ی میں ایرانی رجیم ختم ہوگئی تو امریکی مقاصد پورے ہوں گے ایک طویل کشیدگی اور جنگ کا آغاز ہوگا۔ایک تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکہ نے بلوچ ریجن ہرمزگان کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔کرمان،چاہ بہار اور میناب اوربندر عباس خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔اگر مغربی بلوچستان کے مزید مقامات کو نشانہ بنایا گیا تو ایسا انسانی المیہ پیدا ہو جائے گا کہ مقامی آبادی کا انخلاءضروری ہوگا بدقسمتی سے ایرانی محاذ پر پاکستانی سرحدوں پر ایک عالمی اور خوفناک جنگ دستک دے رہی ہے جبکہ دوسرے پڑوسی افغانستان سے بھی جنگ ہو رہی ہے اگر سمندری راستے متاثر ہوئے تو تیل کی رسد بند ہو جائے گی۔کئی ضروری اشیاءجو امپورٹ ہوتی ہیں ناپید ہو جائیں گی۔امریکہ کا مفاد اس میں ہے کہ وہ سرعت سے کارروائی کرے اور ایسے کارگر اقدامات کر ے کہ لاکھوں انسان متاثر ہوئے بغیر صرف رجیم چینج ہو جائے اگر جنگ طویل ہوئی تو امریکہ کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے تازہ بمباری سے سینکڑوں لوگ ہلاک ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ایرانی فوجی مراکز اور تنصیبات کو شدید طورپر نقصان پہنچا ہے۔یہ تو معلوم نہیں کہ گزشتہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں میزائل سائٹس کس حد تک متاثر ہوئے ہیں اگر یہ تنصیبات صحیح سلامت ہوئیں تو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے عرب اتحادی اس صورت کو زیادہ دیر تر برداشت نہیں کر سکیں گے صدر ٹرمپ نے تو ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کریں لیکن فوری طورپر حملوں کے نتیجے میں کوئی عوامی بغاوت دیکھنے میں نہیں آئی البتہ تہران اور بڑے شہروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف جانے کی تگ ودو میں مصروف دکھائی دئیے۔پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ حفظ ماتقدم کے طورپر مشرقی بلوچستان کے علاقوں میں جنگ زدہ لوگوں کےلئے شیلٹر قائم کرے اگر کرمان مینات کے بعد چاہ بہار اور دیگر مقامات بھی کارروائی سے متاثر ہوئے تو یہاں کے لوگ پناہ کی خاطر مشرقی سرحدوں کی طرف آسکتے ہیں بہرحال پورے ریجن کا مفاد اس میں ہے کہ جنگ مختصر اور موثر ہو ورنہ بہت ہی ناگفتہ بہ حالات پیدا ہو جائیں گے امریکی جنگی بیڑے اور تنصیبات کو فدائی حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے حالانکہ اس وقت خامنائی کی حکومت غیرمقبولیت کی معراج پر ہے لیکن ایران کی روایت ہے کہ جب ان کا ملک مشکل میں ہو تو وہ اس وقت بغاوت نہیں کرتے۔ہوسکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی اپیل کا فوری اثر نہ ہو لیکن ایرانی رجیم کے مخالفین موقع ملتے ہی اپنا باغیانہ ردعمل ضرور دکھائیں گے غرض یہ کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایسی نازک صورتحال پیدا کردی ہے کہ کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے اس وقت پورا ریجن ایک دوراہے پر کھڑا ہے اگر ایران کی انتہاپسند رجیم ختم ہوئی تو دیگر ممالک کی آمرانہ اور فاشسٹ حکومتوں کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا امریکہ کے لئے اطمینان کا امر یہ ہے کہ اس کے تمام اتحادی یعنی سعودی عرب کویت بحرین قطر یو اے ای اردن عمان اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔سعودی عرب نے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی زمین ایران پر حملوں کےلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا لیکن امریکہ نے کسی سے پوچھا تک نہیں کس کی مجال ہے کہ ٹرمپ جیسے حکمران کے سامنے کھڑا ہو جائے پاکستان چونکہ شاخ نازک ہے اسے اپنے معاملات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔بہرحال امریکی حملے غیر معمولی واقعہ ہے اور اس کے نتائج بھی غیر معمولی نکلیں گے۔اگر ایران نے دیر تک مزاحمت کی تو امریکہ میں اتنی طاقت اور صلاحیت ہے کہ وہ ریجن کا جغرافیہ تبدیل کر دے اس سے قبل دونوں عظیم جنگوں کے نتیجے میں دنیا اور مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوا تھا موجودہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں ایک بار پھر جغرافیہ تبدیل ہوسکتا ہے البتہ یہ دعا کی جائے کہ امریکہ اس خطے میں ایٹم بم استعمال نہ کرے ورنہ دنیا اور انسانی تمدن قہر آلود تباہی دیکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے