خضدار میں پرائس کنٹرول کمیٹی سال سے غیر فعال، گوشت سمیت دیگر اشیاءخوردونوش کی قیمتیں غریب کی پہنچ سے دور
خضدار (بیورو رپورٹ) خضدار میں پرائس کنٹرول کمیٹی کئی سال سے مکمل طورپرغیر فعال، جس کا فائدہ مافیا اٹھا رہی ہے، شہر میں قصابوں کو مکمل چھوٹ مل گئی، عوام مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گئے، اس وقت خضدار میں بکرے کا گوشت 2 ہزار روپے اور بیل کا گوشت 14 سو روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں یہی گوشت خضدار کی نسبت بہت کم ریٹ پر دستیاب ہے ایک کلو گوشت پر اتنا بڑا منافع کمانا خضدار کے باسیوں کے ساتھ کھلا ظلم و زیادتی ہے۔ غریب عوام مجبوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹی کی غیر فعالی کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں، نہ کوئی ریٹ لسٹ آویزاں ہے نہ کوئی چیکنگ کا نظام، قصاب اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر کے عوام کی جیبیں کاٹ رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں غریب آدمی گوشت خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، بچوں کی خواہش پر بھی والدین انہیں گوشت نہیں کھلا سکتے، کیونکہ 2 ہزار روپے کلو گوشت ان کی پہنچ سے باہر ہے، عام آدمی بدحالی کا شکار ہو رہا ہے، شہریوں نے شکایت کی کہ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹی مافیا کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ ان کیخلاف کارروائی کرنے والا کوئی نہیں ہے، بازار میں سبزی، پھل، دالیں اور دیگر اشیاءخورونوش بھی سرکاری نرخنامے کے بغیر مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں، خضدار کے عوامی وسیاسی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے پرزور اپیل کی ہے کہ قصاب مافیا کو فوری کنٹرول کیا جائے اور سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔


