ایک کلو میٹر سڑک پر 30 کروڑ کی لاگت کیسی؟ محکمے نے وضاحت جاری کردی
پ ر: ترجمان محکمہ مواصلات و تعمیرات بلوچستان کے مطابق30 کروڑ سے زائد لاگت، تقریباً 3 کروڑ کی بچت منصوبہ 76 دن میں مکمل صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کوئلہ پھاٹک تا چمن پھاٹک روڈ منصوبے سے متعلق پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں بیان کے مطابق یہ منصوبہ حکومت بلوچستان کے تحت محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ای اینڈ ایم ورکشاپ ڈویژ ن کوئیٹہ نے اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مکمل کیا جس میں شفافیت اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا گیا اعلامیے کے مطابق 1.02 کلومیٹر طویل اس اہم شاہراہ کی تعمیر و بحالی 30 کروڑ 86 لاکھ 40 ہزار روپے میں مکمل کی گئی جبکہ مجموعی تخمینہ لاگت کے مقابلے میں 2 کروڑ 97 لاکھ 30 ہزار روپے کی بچت بھی حاصل ہوئی اس رقم میں صرف سڑک کی تعمیر ہی نہیں بلکہ یوٹیلٹی سروسز جیسے کیسکو، ایس ایس جی سی، تنصیبات کی منتقلی اور ریلوے اراضی کے معاوضے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔منصوبے میں شامل اہم کام ، پشین اسٹاپ نالہ اور چمن پھاٹک نالہ پر دو پلوں کی تعمیر،حفاظتی آر سی سی دیوار اور ڈرینج سسٹم کی تنصیب،فٹ پاتھ اور لنک روڈ کی تعمیر،ماڈل ٹاو¿ن کے لیے سیوریج سسٹم (30 انچ آر سی سی پائپ)،حفاظتی دیواریں اور ریلوے اراضی کی حد بندی،اورایف سی چیک پوسٹ کی منتقلی ودوبارہ تعمیرشامل ہے
ترجمان کے مطابق منصوبے کے تمام کام سو فیصد مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ منصوبہ جنوری 2026 میں شروع ہوا اور محض 76 دنوں میں اپریل 2026 میں پایہ تکمیل تک پہنچا، جو محکمہ کی مو¿ثر کارکردگی کا مظہر ہے۔ایک سروے کے مطابق اس سڑک سے روزانہ ہزاروں گاڑیاں مستفید ہو رہی ہیں، جبکہ ایر پورٹ روڈ شہباز ٹاو¿ن ماڈل ٹاو¿ن جوائنٹ روڈ اور جونیئر اسسٹنٹ کالونی سمیت متعدد علاقوں کے مکینوں کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ ٹریفک کے دباو¿ میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بعض عناصر کی جانب سے پھیلایا جانے والا منفی پروپیگنڈا حقائق کے منافی ہے اور اس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے، تاہم مکمل شدہ منصوبہ خود اس کی تردید کرتا ہے۔عوامی و سماجی حلقوں سوشل میڈیا پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افراد نے اس منصوبے کی تعریف کی ہے اور کوہیٹہ شہر میں ٹریفک کے مساہل کو حل کرنے میں ایک مثبت اقدام کے طور پر ظاہر کیا ہے علاو¿ہ ازیں منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل کو سراہتے ہوئے اسے شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔


