عوامی مسائل کی شنوائی کیلئے شکایت سیل قائم کیے جارہے ہیں، بلوچستان کے 60 ہزار نوجوان کو روزگار فراہم کیا جائیگا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی پیش رفت سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بلوچستان کے 1100 تعلیمی اداروں میں فائبر آپٹیکل انٹرنیٹ کی فراہمی کا منصوبہ تیزی سے جاری، چھ ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا، آئندہ مرحلے میں صوبے کے تمام تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور سرکاری دفاتر کو فائبر آپٹیکل نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا، انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو تربیت دینے کا آغاز، 60 ہزار نوجوانوں کو روزگار سے جوڑا جائے گا۔ عوامی مسائل کی شنوائی اور کے فوری حل کے لیے تحصیل سطح سے صوبائی سطح تک مو¿ثر شکایت سیل قائم کیے جا رہے ہیں، صوبے کی تمام یونین کونسلز میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام تیز کر دیا گیا، میونسپل سروسز کی بہتری کے لیے 95 میونسپل کمیٹیوں کو جدید مشینری 30 جون تک فراہم کردی جائے گی، بلوچستان کے چار ہزار سنگل روم اسکولوں میں دو اضافی کمروں کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے، بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسکول سے باہر ایک لاکھ بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کیا گیا، صوبے میں پوست کی غیر قانونی فصلوں کے خاتمے کے لیے آپریشن میں تیزی، ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے پیپلز ٹرین سروس منصوبے کے لیے فنڈز کے اجراءمیں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا، وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ منصوبے کو جلد مکمل کرکے عوام کو جدید اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کی جائیں، گڈ گورننس اور سروس ڈلیوری بہتر بنانے کے لیے تمام محکمے اصلاحاتی اقدامات تیز کریں، وزیراعلیٰ نے نئے ڈویژن اور اضلاع سمیت دور دراز علاقوں میں انتظامی افسران کے لیے پری فیبریکیٹڈ دفاتر اور رہائش کے انتظامات جلد مکمل کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، رفتار اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تمام محکمے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو جلد ثمرات مل سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں