معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر ایک نیا امریکی حملہ ہوسکتا ہے، ٹرمپ

ویب ڈیسک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ڈیل کرنے کیلئے بے تاب ہے۔ ایران کے پاس اب بھی جوابی کارروائی کی تھوڑی صلاحیت باقی ہے، معاہدہ نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں نیا امریکی حملہ ہوسکتا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے بال روم کنسٹرکشن سائٹ کے دورے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں شاید ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ ایران ڈیل کرنے کیلئے بےتاب ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران پر نئے حملے شروع کرنے سے ایک گھنٹہ دور تھے، بحری جہاز میزائلوں سے لیس اور دیگر ہتھیار وہاں بھیجے کیلئے تیار تھے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ملک کیلئے مذہب ضروری ہے، اس سے جرائم میں کمی اتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران ابنائے ہرمز کو 47 سالوں سے عسکری قوت کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب بھی جوابی کارروائی کی تھوڑی صلاحیت باقی ہے، معاہدہ نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں نیا امریکی حملہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیوبا میں رجیم چینج کے بارے میں نہیں جانتا، اسے مدد کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نے تہران کے ولی عصر اسکوائر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ انتباہ جاری کیا۔انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو نہ محاصرے میں لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر دشمن نے دوبارہ ’غلطی‘ کرتے ہوئے صہیونی عناصر کے اثر میں آ کر ایران پر حملہ کیا تو ایران نئے ہتھیاروں اور مختلف طریقہ کار کے ذریعے جواب دے گا۔بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنگ بندی کے عرصے کو بھی جنگی حالات کا حصہ سمجھتے ہوئے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اب وہاں حالات پہلے جیسے نہیں رہیں گے، ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے لیے واحد راستہ ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی حقوق کا احترام کرنا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کے نظم و نسق کے لیے نیا طریقہ کار بھی تیار کیا ہے، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم خطے کی صورتحال اور بحری سرگرمیوں کے حوالے سے نگرانی جاری رکھی جا رہی ہے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں