گوادر میں ایرانی تیل کی بندش، پٹرول بحران سنگین،پیٹرول کی قیمت 180 سے بڑھ کر 250 روپے فی لیٹر ہوگیا
گوادر (این این آئی)گوادر میں ایرانی تیل کی بندش، پٹرول بحران سنگین، قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں،پٹرول 180 سے بڑھ کر 250 روپے فی لیٹر، ایرانی تیل کا ڈرم 38 ہزار سے 55 ہزار سے تجاوز، ماہی گیروں،ٹرانسپورٹر اور شہریوں میں شدید تشویش ۔تفصیلات کے مطابق گوادر ضلع بھر میں ایرانی تیل کی فراہمی جو جیونی کنٹانی کی سرحدی علاقے سے سپلائی بلوچستان بھر میں سپلائی ہوتی ہے پر بندش کے باعث پٹرول بحران شدت اختیار کر گیا ہے جس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چند روز قبل تک 180 روپے فی لیٹر فروخت ہونے والا ایرانی پٹرول بڑھ کر 250 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا ہے، جبکہ ایرانی تیل کا ایک ڈرم 38 ہزار سے 55 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔شہر بھر میں ایرانی تیل کی قلت کے باعث نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ ماہی گیر طبقہ بھی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ مہنگے تیل کے باعث سمندر میں شکار کے اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں جس سے ان کا روزگار شدید متاثر ہو رہا ہے۔شہری حلقوں نے پٹرول بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو گوادر میں ٹرانسپورٹ، ماہی گیری اور روزمرہ زندگی کا نظام بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی سرحدی علاقہ کنٹانی پر سختی اور بندش کے باوجود مخصوس افراد کے ذریعے محدود سپلائی کے باعث یہ بحران پیدا ہوا ہے تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی واضح مو¿قف سامنے نہیں آیا۔


