کیا پیکا بلوچستان میں صحافیوں کی آواز خاموش کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے؟
مطیع اللہ مطیع
سید عبید آغا کے لیے صحافت گزشتہ دو دہائیوں سے صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ کوئٹہ میں 2005 سے صحافت سے وابستہ عبید آغا نے اپنے کیریئر کے دوران مختلف موضوعات پر رپورٹنگ کی، لیکن حالیہ چند برسوں میں انہیں ایک قانونی نوٹس، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے دو نوٹسز اور ایک مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ قانونی نوٹس واین سی سی آئی اے کے نوٹسز کا انہوں نے جواب دیا تو معاملہ وہیں رک گیا، تاہم مقدمہ اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق این سی سی آئی اے کی جانب سے ہراسگی، بلیک میلنگ، غیر ضروری پیغامات، مالی فراڈ یا توہین آمیز مواد ودیگر سے متعلق شکایات کے حوالے سے کوئٹہ میں اب تک 150مقدمات درج کی گئی ہے ۔
سید عبید آغا کے خلاف مقدمہ 17 فروری 2026 کو محکمہ ایکسائز سے متعلق ایک معاملے کے بعد سامنے آیا۔ عبید آغا کے مطابق ان پر کارِ سرکار میں مداخلت اور ایک غیر رجسٹرڈ گاڑی چھڑانے کا الزام عائد کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی معاملے میں پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)اور بعد ازاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)کی جانب سے انہی الزامات کے تحت انہیں طلب کیا گیا۔
عبید آغا کا موقف ہے کہ انہوں نے ایف آئی اے کو بتایا کہ جس الزام کے بارے میں انہیں طلب کیا جا رہا ہے، وہ متعلقہ ادارے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا لیکن ان کے مطابق اصل تنازع ایک مختلف معاملے پر ان کی صحافتی رپورٹنگ سے پیدا ہوا۔
انہوں نے محکمہ ایکسائز میں انسپکٹر اور جونیئر کلرک کی آسامیوں پر پبلک سروس کمیشن کے بجائے محکمانہ بھرتی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔ عبید آغا کے مطابق ان کی رپورٹنگ میں اقربا پروری اور سفارش کے الزامات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
پولیس مقدمے کے بارے میں عبید آغا کہتے ہیں کہ انہیں اس وقت اس کا علم ہوا جب وہ قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے کوشش کر رہے تھے۔
ان کے مطابق ”میں جب بیل بی فور آریسٹ کے لیے کوشش کر رہا تھا تو مجھے ایف آئی آر ملی۔ اس سے پہلے مجھے مقدمے کا علم نہیں تھا”۔ اس مقدمے کی اب تک چھ سماعتیں ہوچکی ہیں اور 21 ستمبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ تھری کی عدالت میں دوبارہ سماعت مقرر ہے۔
عبید آغا کی کہانی صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں۔ اس سے قبل انہوں نے محکمہ ریونیو میں ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تعیناتی کے معاملے پر ایک وی لاگ بھی کیا تھا۔ آغا کے مطابق یہ وی لاگ اس وقت بنایا گیا جب وزیراعلی بلوچستان پہلے ہی اس معاملے کا نوٹس لے چکے تھے، تاہم اس کے بعد بھی انہیں این سی سی آئی اے کی جانب سے نوٹس کا سامنا کرنا پڑا۔
آغا کا کہنا ہے کہ یکم اگست 2025 کو انہیں صوبائی وزیر صحت کی جانب سے بھی ایک قانونی نوٹس موصول ہوا۔ عبید آغا نے اس نوٹس کا جواب دیا اور ان کے مطابق اس کے بعد معاملہ مزید آگے نہیں بڑھا۔
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی انسانی حقوق وڈیجیٹل قوانین کے تحفظ کی تجویز
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے فروری 2026 میں 94صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 ء کا انسانی حقوق، آزادی اظہار، رازداری اور معلومات تک رسائی کے تناظر میں جائزہ لیتے ہوئے صحافیوں، وکلا، ڈیجیٹل رائٹس ماہرین اور سول سوسائٹی سے مشاورت کی بنیاد پر کہا ہے کہ اگرچہ پیکا قانون کا مقصد آن لائن ہراسانی، فراڈ اور نقصان دہ مواد سے شہریوں کا تحفظ ہے، تاہم قانون کی بعض وسیع اور مبہم تعریفیں، نئے ریگولیٹری ادارے، بڑھتے ہوئے اختیارات اور محدود عدالتی نگرانی اس کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا کرتے ہیں۔ رپورٹ میں صحافیوں اور تنقیدی آوازوں پر اس کے اثرات، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قیام، آزادی اظہار اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کو اجاگر کیا اور تجویز دی تھی کہ ڈیجیٹل قوانین میں شفافیت، مضبوط عدالتی نگرانی، ڈیٹا پروٹیکشن اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
‘پیکا قانون انسانی حقوق سے متصادم وآزادی اظہار رائے پر پابندی ہے’
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین کے مطابق صحافتی تنظیمیں PECA کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں اور اس حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست بھی زیر سماعت ہے۔
شاہ حسین ترین کہتے ہیں کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم سے بھی قانون کے خلاف مشترکہ تحریک جاری ہے اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
ان کے بقول، ” قانون انسانی حقوق سے متصادم اور آزادی اظہارِ رائے پر پابندی ہے”۔
شاہ حسین ترین کے مطابق PECA کے باعث الیکٹرانک، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافی متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں اور گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں، جبکہ صحافتی تنظیموں کو ایسے صحافیوں کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں جن کے خلاف PECA کے تحت مقدمات درج ہوئے۔
ان کے نزدیک مسئلہ صرف قانون کے وجود کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا بھی ہے۔ تاہم شاہ حسین ترین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صحافت کو کسی فرد کی تذلیل یا پروپیگنڈے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص صحافت کی آڑ میں ‘پروپیگنڈا’ کرے یا کسی کی تذلیل کرے تو اس کا بھی تدارک ہونا چاہیے، لیکن حکومت کو قانون پر نظرثانی کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
ان کے مطابق صحافتی تنظیموں کی مشاورت سے ایسی ترامیم ہونی چاہئیں جو آزادی اظہارِ رائے کے تحفظ اور حقیقی سائبر جرائم سے نمٹنے، دونوں مقاصد کو متوازن کرسکیں۔
‘پیکا قانون کامسئلہ اس کے نفاذ اور تحقیقات کے طریقہ کار میں موجود خامیوں کا ہے’
سپریم کورٹ کے وکیل محمد قاسم مندوخیل ایڈووکیٹ، جو اقوام متحدہ کے ادارے UNODC کے ساتھ الیکٹرانک شواہد سے متعلق قانونی ماہر اور ٹرینر کے طور پر کام کر رہے ہیں، کے مطابق پاکستان کے PECA قانون کو محض کالا قانون قرار دینا درست نہیں، بلکہ اصل مسئلہ اس کے نفاذ اور تحقیقات کے طریقہ کار میں موجود خامیوں کا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر قانون میں کچھ نہ کچھ سقم یا خامیاں ہوسکتی ہیں، تاہم الیکٹرانک جرائم کی تحقیقات میں اگر بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کے طرزِ تحقیق اور شواہد اکٹھے کرنے کے معیارات کو اپنایا جائے تو PECA زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔
قانون میں مختلف نوعیت کے سائبر جرائم کے لیے سزائوں اور قانونی کارروائی کا تعین موجود ہے، لیکن اس قانون کی کامیابی کا انحصار صرف دفعات اور سزائوں پر نہیں بلکہ اس کے پروسیجرل عمل کو شفاف، غیر جانب دار اور پیشہ ورانہ بنانے پر بھی ہے۔
محمد قاسم مندوخیل کے مطابق الیکٹرانک جرائم کی نوعیت عام جرائم سے مختلف ہے، اس لیے ان کی تحقیقات کے لیے ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو ڈیجیٹل فرانزک، الیکٹرانک شواہد، سائبر کرائم اور متعلقہ قانونی تقاضوں سے واقف ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسے افراد کو تحقیقاتی عمل کا حصہ بنایا جائے جو الیکٹرانک جرائم کی تکنیکی پیچیدگیوں سے واقفیت نہیں رکھتے تو شواہد کے حصول، محفوظ رکھنے اور عدالت میں قابلِ قبول بنانے کے مراحل میں خامیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ یہی کمزوریاں بعض اوقات قانون کے خلاف عوامی تاثر کو تقویت دیتی ہیں اور PECA کو کالا قانون کہا جانے لگتا ہے، حالانکہ اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ قانون کے تحت ہونے والی تحقیقات شفاف، میرٹ پر مبنی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں، تاکہ قانون شہریوں کو سائبر جرائم سے تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی حقوق کا بھی تحفظ یقینی بنا سکے۔
ماہ اگست میں 8 کیسز رپورٹ
فریڈم نیٹ ورک پاکستان کی اگست 2026 کی ماہانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھر میں صحافیوں کو بدستور دھمکیوں، حملوں، قانونی کارروائیوں اور دبائو کا سامنا رہاہے۔ ماہ اگست میں 8ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صحافیوں کے خلاف مختلف نوعیت کی کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ قانونی اور ڈیجیٹل دبائو بھی صحافتی آزادی کے لیے نمایاں خطرہ قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں ملک بھر میں صحافی اعزاز سید کو2 نوٹسز،دانش ارشاد کانام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے،ایاز اکبر یوسف زئی کو قانونی نوٹس، طلال اشتیاق، امتیان شاہد،انعام اللہ ،لال وزیر اور صغیر حسین شاہ کو مختلف نوعیت کے کیسز کاسامنا کرناپڑاہے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں و سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اکبر نوتیزئی، اللہ نور ناصر،مرتضی زہری، وکیل کاکڑ، عثمان خان ،نعمت خوشحال، بایزید خروٹی،مقبول جعفر،ڈاکٹر ثناء اچکزئی ،سمیع خلجی کو این سی سی آئی اے کی نوٹسز ودیگر کاسامنا کرناپڑا۔
فریڈم نیٹ ورک کے حمید اللہ شیرانی کہتے ہیں کہ قانونی معاونت، مالی معاونت ،خطرات جیسے معاملات میں فریڈم ورک صحافیوں کو تعاون فراہم کرتی ہے ۔
این سی سی آئی اے کا موقف ‘پہلے شکایت، پھر تصدیق اور کارروائی’
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے انسپکٹر جبار مندوخیل کے مطابق سائبر کرائم سے متعلق کسی بھی کارروائی کا آغاز براہِ راست مقدمے سے نہیں بلکہ درخواست سے ہوتا ہے۔ان کے مطابق شہری کی جانب سے ہراسگی، بلیک میلنگ، غیر ضروری پیغامات، مالی فراڈ یا توہین آمیز مواد سمیت کسی شکایت کی درخواست موصول ہونے کے بعد درخواست گزار سے اس کے دعوے کے ثبوت بھی طلب کیے جاتے ہیں۔
جبار مندوخیل کے مطابق ابتدائی طور پر فراہم کردہ شواہد کی تصدیق کی جاتی ہے اور اس کے بعد معاملہ انکوائری کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ مزید تحقیقات کے لیے معاملہ انویسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کیا جاتا ہے، جو ضرورت کے مطابق متعلقہ ڈیٹا حاصل کرتی ہے۔
ان کے مطابق شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر متعلقہ شخص کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ "تین نوٹسز جاری کرتے ہیں،” جبار مندوخیل کہتے ہیں۔اگر متعلقہ شخص نوٹسز کے باوجود پیش نہ ہو تو ادارہ مزید قانونی کارروائی کی طرف بڑھتا ہے۔
اگر درخواست کسی دوسرے ضلع یا صوبے کے کسی فرد کے خلاف ہوں تو ایسی صورت میں متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر کو لیٹر جاری کیا جاتا ہے اور اس کے بعد قانون کے مطابق مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کی جاتی ہے۔
جبار مندوخیل کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، وی لاگرز اور صحافی بھی قانون کے دائرے میں آتے ہیں اور ادارہ ان کے ساتھ ان کی شناخت کے بجائے قانون کے مطابق معاملہ کرتا ہے۔ان کے مطابق کسی بھی ادارے یا شعبے سے وابستہ افراد کے خلاف شکایات موصول ہوسکتی ہیں، تاہم سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے خلاف ‘بلیک میلنگ’ سے متعلق درخواستیں نسبتا زیادہ موصول ہوتی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر مقدمات بھی درج کیے جاتے ہیں۔
جبار مندوخیل نے کوئٹہ میں زیرِ سماعت مقدمات کے حوالے سے بتایا کہ تقریبا 150 مقدمات رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے مطابق یہ تعداد کراچی اور فیصل آباد سے زیادہ جبکہ لاہور میں تقریبا 125 مقدمات ہیں۔


