بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن قانون تو موجود مگر غیر مؤثر

رپورٹ: عامر باجوئی

بلوچستان اسمبلی سے 2021 میں پاس ہونے والے ’رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ‘ سے عام شہریوں کے علاوہ محکمے بھی لاعلم ہیں

دوران بلوچ ایک صحافی ہیں، ان کے بقول ’’ محکموں کو اس ایکٹ کا علم نہیں تو افسران اس ایکٹ کو تسلیم ہی نہیں کرتے،بلوچستان میں آر ٹی آئی کی کوئی جواب دہی نہیں ”

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کیا ہے؟

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت بلوچستان کا کوئی بھی شہری صوبے کے اندر کسی بھی محکمے یا ادارے سے اس صورت میں معلومات لے سکتا ہے کہ وہ محکمہ یا ادارہ سرکاری معاونت اور مالی مدد سے کام کر رہا ہو ۔

اس مقصد کے لیے سادہ کاغذ پر اس محکمے کے سربراہ کو درخواست دینا ہوتی ہے۔

درخواست میں معلومات کے لیے سوالات واضح ہوں اور درخواست گزار شناختی کارڈ کے مطابق اپنی شناخت ظاہر کرے ۔

بلوچستان کے علاوہ دوسرے صوبوں میں معلومات حاصل کرنے کا مقصد ظاہر کرنا ضروری نہیں ہے مگر بلوچستان میں یہ شرط بھی ہے۔

صوبوں سے معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک شہری اس صوبے کے متعلقہ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت معلومات کے لیے درخواست دائر کرے گا ۔ کسی بھی وفاقی محکمے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے وفاقی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے، کوئی بھی محکمہ تقریباً 15 دن میں دفاتر کے ذریعے معلومات فراہم کرنے کا پابند ہے، معلومات نہ ملنے کی صورت میں اپیل کی درخواست بھی دی جا سکتی ہے۔

بلوچستان کا ’’ آر ٹی آئی‘‘ یا محض سبز باغ

یکم فروری 2021ء کو بلوچستان اسمبلی سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (آر ٹی آئی) پاس ہوا تاہم اب بھی کسی بھی محکمے کی جانب سے ’ معلومات‘ ملنا ایک خواب ہی ہے۔

بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث صحافی، شہری اور محققین سرکاری ڈیٹا سے محروم رہتے ہیں جس سے شفافیت اور احتساب شدید متاثر ہوتا ہے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد کا کہنا ہے کہ ”بلوچستان میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے درست معلومات ملنا ناممکن سا ہو کر رہ گیا ہے۔”

15 دن میں آنے والا جواب 3 سال بعد بھی نہیں ملا

خضدار کے سماجی کارکن شہزاد علی جو رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت معلومات حاصل کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں، نے بتایا کہ ”عام انتخابات کے وقت انہیں قیدیوں کے حوالے سے کہانی تیار کرنا تھی کہ ملک میں کتنے قیدی ووٹ جیسے آئینی حق سے محروم ہیں ۔ کوشش کے باوجود یہ معلومات آر ٹی آئی کے ذریعے کسی بھی محکمے سے نہیں ملیں۔”

ان کے بقول ’’ صوبائی جیل خانہ جات کے افسران سمیت وزارت داخلہ کو آر ٹی آئی کے تحت درخواستیں بھیجیں جن کا جواب آج تین سال بعد بھی موصول نہیں ہوا ۔ یہی معلومات برطانیہ میں موجود جیل خانہ جات کے بین الاقوامی ادارے سے طلب کیں تو ایک دن کے اندر برطانوی آر ٹی آئی قانون کے تحت موصول ہو گئیں۔”

صحافی اور آر ٹی آئی سے بے گانگی

میڈیا ورکرز کے لیے یہ قانون انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن جب ہم اپنے صحافی دوستوں سے آر ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان کے صحافی اس قانون سے آگاہ توہیں مگر ایک بھی ایسا صحافی ہمیں نہیں ملتا جو اپنی تحقیق سے قبل آر ٹی آئی استعمال کرتا ہوالبتہ یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ جو آگاہی تربیتوں کے بعد کچھ حد آر ٹی آئی استعمال کرنے لگے ہیں۔

آر ٹی آئی کا فائدہ

اس قانون کے تحت جو معلومات لی جا سکتی ہیں ان میں میمو، کتاب، ڈیزائن، نقشہ، معاہدہ، نمائندگی، پمفلٹ، حکم، نوٹیفکیشن، دستاویز، منصوبے، خط، رپورٹ، حسابات، بیان، پروجیکٹ پروپوزل، تصویر، آڈیو، ویڈیو، ڈرائنگ، فلم، یا کسی بھی قسم کا ایسا ریکارڈ جو الیکٹرانک طریقے سے تیار کیا گیا ہو، مشین کے ذریعے پڑھے جانے کے قابل دستاویز، اور کوئی بھی دوسرا دستاویزی مواد، خواہ وہ کسی بھی جسمانی شکل یا خصوصیت میں موجود ہو شامل ہے۔

ایکٹ میں یہ تحریر ہے کہ اس ایکٹ کے نافذ ہونے کے 120 دن کے اندر ہر محکمہ ایک انفارمیشن پبلک آفیسر منتخب کرکے عام معلومات کی اپنے ویب سائٹ پر تشہیر کرنے کا پابند ہوگا۔

’ انفارمیشن افسر‘ کی انفارمیشن ہی نہ ملی

مجھے ایک رپورٹ تیار کرنے کے لیے خضدار کے ضلعی انفارمیشن آفیسر سے کچھ معلومات درکار تھیں، میں نے کئی کوششیں کیں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ خضدار میں پبلک انفارمیشن آفیسر کون ہے، جب ضلع انتظامیہ کا کوئی انفارمیشن آفیسر تک معلوم نہیں ہو سکتا تو ایک محکمے کے پبلک انفارمیشن آفیسر کا معلوم کرنا ناممکن سا ہے۔

ایسوسی ایشن فار انٹیگریٹڈ ڈویلپمنٹ، بلوچستان ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو بلوچستان میں 2015ء سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ کے لیے کوشش کر رہی تھی، اس تنظیم کے منیجر بہرام لہڑی کا بتانا ہے کہ ”رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے قیام سے لے کر بحالی تک جدوجہد جاری ہے تاہم اب تک بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔”

ان کے بقول ”سرکاری محکموں میں پبلک انفارمیشن افسر مقرر نہیں کیے جاتے ہیں، اگر کسی جگہ منتخب بھی ہوتے ہیں تو عہدے کے بجائے کسی افسر کے نام کو تجویز کرکے ذمہ داریاں دی جاتی ہیں، جب وہ افسر ٹرانسفر یا ریٹائر ہوتا ہے تو انفارمیشن افسر کی ذمہ داریاں بھی اس محکمے سے ختم ہو جاتی ہیں، اس لیے نام کے بجائے کسی عہدے کو یہ اضافی اختیارات اور ذمہ داریاں دی جائیں تو بہتر ہو سکتا ہے۔”

بہرام لہڑی کے مطابق ‘کمیشن بھی مکمل فعال نہیں ہے، چار کمشنر تعینات ہونے ہیں مگر اب تک صرف دو تعینات ہیں اور ان دو میں سے ایک بھی اب آفس نہیں پہنچا ہے اور دوسرا کمشنر بیسویں گریڈ کا ہونا چاہیے جو کہ 17 گریڈ کا ہے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ دو سال میں جو چیف کمشنر تعینات ہوئے ہیں اب تک وہ سو کے قریب کیسز دیکھ چکے ہیں۔’

شکایتیں آنے لگیں

انفارمیشن کمیشن بلوچستان کے چیف کمشنر عبدالشکور نے ہمیں بتایا کہ ”کمیشن کی تعیناتی کے بعد کیسز آنے شروع ہو چکے ہیں، دو کمشنروں کی نگرانی میں اب تک سو کے قریب شکایتیں موصول ہوئی ہیں جس میں پچاس کے قریب شکایتیں حل ہوگئے ہیں، اسی طرح لوگوں کو خاص کر نوجوانوں کو آگاہی دے رہے ہیں، اس سلسلے میں یونیورسٹی اور کالجز میں آگاہی تقریبات منعقد کر رہے ہیں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے اس سلسلے میں سپورٹ بھی حاصل ہے جس کے نتیجے میں آگاہی پھیل رہی ہے، شروع میں مشکلات تھیں اور سیلری سمیت اسٹاف اور دفاتر کا مسئلہ تھا، اب یہ تمام بنیادی مسائل حل ہو چکے ہیں۔”

‘اسٹاف کا اب تک مسئلہ ہے اور کمیشن بھی نیا ہے اور سرکاری محکموں کو علم بھی نہیں ہے تو اس سلسلے میں آہستہ آہستہ بہتری آ رہی ہے، وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری اس سلسلے میں ہمیشہ سپورٹ کر رہے ہیں، فنڈز میں بہتری کی امید ہے لیکن چارج سنبھالنے کے بعد اب تک کئی مسائل حل ہو چکے ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ شکایتیں بھی آ رہی ہیں اور دوسری جانب محکموں سے معلومات بھی فراہم کرنا شروع ہو گیا ہے اور اس مقصد کے ساتھ شفافیت کو بحال کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔”

بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے قیام کے بعد کمیشن کی تعیناتی خوش آئندہ ہے مگر بات اس امر کی ہے کہ شہری اس ایکٹ سے آگاہی کے کب فائدہ حاصل کرسکیں گے جس کے لیے کمیشن سمیت عام شہریوں کے علاوہ تمام سرکاری محکموں اور انفارمیشن افسرز کو آگاہی کی سخت ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں