خبروں کے دورِ طوفان میں اخبار کی دائمی اہمیت

رشید عاطف

​جدید دور میں معلومات کا بہاؤ جس قدر تیز ہوا ہے، اتنی ہی ان کی صداقت اور پائیداری پر سوالات اٹھے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں خبروں کا حصول محض چند سیکنڈز کی محتاجی بن چکا ہے، لیکن خبر کے ساتھ تحلیل، تحقیق اور فکری بالیدگی کا جو سفر ماضی میں وابستہ تھا، وہ اب دھندلاتا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں 25 ستمبر کو ملک بھر میں "اخبار بینی کا قومی دن” منایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ چاہے ابلاغی وسائل کتنے ہی ترقی کیوں نہ کر لیں، اخبار کی روایتی اور فکری حیثیت کو تسلیم کرنا دورِ حاضر کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کی یلغار اور سنسنی خیز معلومات کے طوفان میں روزنامچوں اور جریدوں کی ناگزیر ضرورت اور افادیت کو اجاگر کرنا ہے۔
​آج کا دور ٹیکنالوجی کی یلغار کا دور ہے۔ چوبیس گھنٹے چلنے والے خبر رساں ٹیلی ویژن چینلز اور ہینڈ ہیلڈ اسکرینز پر مبنی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے خبر کی فراہمی کو لمحاتی تو بنا دیا ہے، مگر اس کی گہرائی اور سنجیدگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ بریکنگ نیوز کی دوڑ اور سب سے پہلے خبر دینے کی رقابت میں صحافتی اصول، تصدیق اور غیر جانبداری جیسے بنیادی عناصر اکثر پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جہاں ہر صارف کو بغیر کسی تدوینی کنٹرول (Editorial Control) کے مواد پیش کرنے کی آزادی حاصل ہے، فیک نیوز، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کا سب سے بڑا گڑھ بن چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تکنیک کے اس دور میں ایسی معلومات کو اتنی مہارت سے پیش کیا جاتا ہے کہ عام قارئین کے لیے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔
​اس انتشار اور سنسنی کے ماحول میں اخبارات ہی ایک ایسا ذریعہ ہیں جو قارئین کو سکون، سنجیدگی اور قابلِ اعتماد صحافت فراہم کرتے ہیں۔ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے شور کے باوجود آج بھی اخبار کی خبروں اور تجزیوں کو ہی سب سے زیادہ معتبر اور قابلِ بھروسہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ منظم اور ذمہ دارانہ نظام ہے جو ایک خبر کے شائع ہونے سے پہلے عمل میں آتا ہے۔ رپورٹر سے لے کر نیوز ڈیسک، سب ایڈیٹرز اور ایڈیٹر تک، خبر مختلف مراحل سے گزر کر شائستگی اور تصدیق کے سانچے میں ڈھلتی ہے۔ اخبار میں غلطی کی گنجائش کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ پرنٹ شدہ لفظ ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے جسے بعد میں آسانی سے مٹایا یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی ذمے داری اخبارات کو ایک وزنی اور مستند دستاویز بناتی ہے۔
​اخبار بینی کا عمل صرف خبریں حاصل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بیدار مغز معاشرے کی تشکیل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جب ایک فرد صبح کے وقت اخبار کا مطالعہ کرتا ہے، تو وہ صرف یہ نہیں جانتا کہ دنیا میں کیا ہوا، بلکہ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ جو ہوا، وہ کیوں ہوا اور اس کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اخبار کے ادارتی صفحات، تجزیے، اور کالم قارئین میں تنقیدی سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں۔ یہ صفحات سیاسی، معاشی، سماجی اور بین الاقوامی امور پر مختلف زاویہ ہائے نظر پیش کرتے ہیں، جس سے پڑھنے والے کے اندر رائے قائم کرنے کی صلاحیت بیدار ہوتی ہے۔
​خاص طور پر نوجوان نسل کی ذہنی آبیاری اور فکری تربیت کے لیے اخبار بینی کی عادت ایک تریاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ موجودہ وقت میں جہاں نوجوان کا زیادہ تر وقت شارٹ ویڈیوز، لائیو اسٹریمز اور سوشل میڈیا فیڈز کی نذر ہو رہا ہے، وہاں ان کا توجہ کا دورانیہ (Attention Span) تیزی سے گھٹ رہا ہے۔ سطحی معلومات پر مبنی یہ مواد وقتی تسکین تو فراہم کرتا ہے لیکن گہرے مطالعے اور فکر و تدبر کی صلاحیت کو دبا دیتا ہے۔ اخبار بینی نوجوانوں کو صبر کے ساتھ پڑھنے، زبان و بیان پر عبور حاصل کرنے، اور الفاظ کے ذخیرے میں اضافے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ زبان کی درست املا، محاورات کا صحیح استعمال اور تحریری اسلوب کو سیکھنے کے لیے اخبار سے بہتر کوئی روزمرہ کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے