قتل سے انصاف تک، بلوچستان میں صحافیوں کے تحفظ، دعوے اور زمینی حقائق
مطیع اللہ مطیع
شعیب رئیسانی گزشتہ ایک دہائی سے کوئٹہ میں صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ پیشہ ورانہ زندگی میں مشکلات اور خطرات کا سامنا کرنے والے شعیب کے لیے 24 اپریل 2021 کی رات ایک ایسا صدمہ لے کر آئی جس نے ان کی زندگی بدل دی۔ اس رات انہیں اطلاع ملی کہ ان کے چھوٹے بھائی عبدالواحد رئیسانی کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا ہے۔
عبدالواحد رئیسانی ایک نوجوان صحافی تھے اور روزنامہ آزادی کوئٹہ میں سب ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ 24 اپریل 2021 کو وہ گھر سے دفتر جا رہے تھے کہ کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ پر واقع بینک کالونی میں نامعلوم مسلح افراد نے انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ اس وقت ان کی عمر تقریبا 23 برس تھی۔
واقعے کے بعد شعیب رئیسانی کی مدعیت میں سریاب تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ صحافتی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد پولیس نے ایک خاتون اور اس کے بھائی کو گرفتار کیا اور قتل میں تین افراد کے ملوث ہونے کا دعوی کیا۔
صحافیوں کے امور پر کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں کم از کم 40 صحافی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں 30 صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے، جبکہ دیگر بم دھماکوں اور مسلح حملوں میں مارے گئے۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، نومبر 2024 سے ستمبر 2025 کے درمیان ملک بھر میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف 142 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اسی عرصے کے تقابل میں حملوں اور دھمکیوں میں تقریبا 60 فیصد اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی۔
دسمبر 2025 میں جاری ہونے والی فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ بلوچستان کے اطلاعاتی ماحول میں موجود مختلف دبائو اور خطرات کو اجاگر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مقامی میڈیا مالی مشکلات، محدود وسائل، ڈیجیٹل پسماندگی اور مختلف طاقتور حلقوں کے دبائو کے درمیان کام کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں عوامی مفاد کے کئی اہم مسائل مناسب کوریج سے محروم رہ جاتے ہیں اور صحافی بعض موضوعات پر رپورٹنگ سے گریز کرنے لگتے ہیں۔
عبدالواحدرئیسانی کے قتل کے مقدمے کی عدالتی کارروائی مختلف مراحل سے گزری۔ ابتدا میں کیس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سریاب کی عدالت میں زیر سماعت رہا، تاہم ملزمان کی درخواست پر بلوچستان ہائی کورٹ نے مقدمہ سریاب سے ضلع کچہری کوئٹہ منتقل کر دیا۔ بعد ازاں مقدمے کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (9) کوئٹہ کی عدالت میں ہوئی، جہاں تفتیشی افسر اور دیگر گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔
مقدمے کے دوران ایک ملزمہ ضمانت پر رہا ہوئی اور بعد میں مفرور قرار پائی، جبکہ اس کے بھائی کو عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔ اگست 2023 میں مفرور ملزمہ کو احاطہ عدالت سے گرفتار کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ بعد ازاں مقدمہ سیشن کورٹ منتقل ہوا، جہاں استغاثہ کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جانے کے باعث ملزمان کی بریت کا فیصلہ سنایا گیا۔عدالتی فیصلے کے بعد مقتول کے اہل خانہ اور صحافتی برادری نے مایوسی کا اظہار کیا۔
شعیب رئیسانی کے مطابق قتل کے پانچ سال بعد بھی وہ اس سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ ان کے بھائی کو قتل کرنے والے تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
شعیب رئیسانی کاکہناتھاکہ اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بلوچستان اسمبلی کے فلور پر ملزمان کی گرفتاری کو حکومت کی اہم کامیابی قرار دیا تھا، جبکہ اس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ نے بھی پریس کانفرنس کے ذریعے گرفتاریوں سے متعلق آگاہ کیا تھا۔
تاہم، اہل خانہ کے مطابق، پولیس گرفتار کیے گئے ملزمان کے خلاف عدالت میں ایسا مقدمہ ثابت نہ کر سکی جس کے نتیجے میں انہیں سزا ہوتی، جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آ سکی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صحافتی تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور ارکان اسمبلی کے دبائو کو کم کرنے کے لیے گرفتاریوں کو کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن بعد میں مقدمے کو موثر انداز میں آگے نہیں بڑھایا گیا۔ ان کے بقول، تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آئے۔
مقدمہ اسفندیار رئیسانی کی مدعیت میں درج کی گئی جس میں ڈکیتی کی دفعہ 397 شامل کی گئی تھی ۔
صحافت، جہاں خطرات صرف ایک طرف سے نہیں آتے
عبدالواحد رئیسانی کا قتل بلوچستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی وسیع تر تصویر کا ایک حصہ ہے۔ یہاں صحافیوں کو صرف رپورٹنگ کے دوران جسمانی خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ انہیں ادارتی دبا، دھمکیوں، معاشی عدم تحفظ اور بعض معاملات میں خود ساختہ سنسرشپ جیسےمسائل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔
بلوچستانیونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین کے مطابق، صوبے میں میڈیا ورکرز خوف کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں انہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جسمانی تحفظ کے مسائل کے ساتھ بے روزگاری اور ملازمت کا عدم تحفظ بھی صحافیوں کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔
شاہ حسین ترین کے مطابق، اب تک نو ٹی وی چینلز کوئٹہ میں اپنے بیورو بند کر چکے ہیں، جبکہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے حکومتی سطح پر خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آ رہے۔
وہ کہتے ہیں کہ صحافیوں کے تحفظ سے متعلق موجودہ قوانین پر مثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ان کے بقول حکومت بھی پیکا قانون کو صحافیوں کے خلاف استعمال کرتی ہے۔
شاہ حسین ترین کے مطابق، گزشتہ 10 سے 15 برسوں کے دوران بلوچستان میں 32 صحافی اور میڈیا ورکرز ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ کہتے ہیں کہ صحافتی تنظیمیں اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ چکی ہیں اور ارکان اسمبلی نے بھییہ مسائل ایوان میں اٹھائے، تاہم اعلانات کے بعد عملی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔
ان کے مطابق، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قانون سازی پر کام کر رہی ہے اور امید ہے کہ اس سلسلے میں جلد پیش رفت ہوگی۔
بلوچستان: خواتین صحافیوں کیلئے اضافی رکاوٹیں
بلوچستان میں صحافت کے مسائل تمام صحافیوں کو متاثر کرتے ہیں، تاہم خواتین صحافیوں کو فیلڈ رپورٹنگ، ادارہ جاتی تحفظ اور آن لائن ہراسانی جیسے اضافی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
کوئٹہ میں گزشتہ آٹھ برس سے صحافت سے وابستہ سبین ملک کے مطابق، بلوچستان کے حالات میں صحافت کو مثالی پیشہ قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ ادارتی پالیسیاں بھی صحافتی امور اور رپورٹنگ کے مواقع پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ خواتین صحافیوں کے لیے اداروں کی جانب سے تحفظ کا فقدان، فیلڈ رپورٹنگ کے محدود مواقع اور سائبر ہراسانی اہم مسائل ہیں۔
سبین ملک کے تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صحافیوں کے تحفظ پر بحث کرتے وقت خواتین صحافیوں کے مخصوص مسائل کو الگ سے سمجھنے اور ان کے حل کے لیے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت کا موقف: آزاد اور ذمہ دار میڈیا کی حمایت
وزیراعلی بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند کے مطابق، بلوچستان کے صحافیوں نے مشکل حالات کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان صحافی برادری کے مسائل کے حل اور آزاد، ذمہ دار اور مثبت صحافتی ماحول کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
شاہد رند کے مطابق، آزاد اور ذمہ دار میڈیا معاشرے میں شعور اجاگر کرنے، عوامی مسائل سامنے لانے اور اداروں کو جوابدہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، ان کے بقول، صحافت کی آزادی کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور اخلاقی تقاضوں کی پاسداری بھی ضروری ہے۔
حکومت کی جانب سے صحافیوں کے مسائل کے حل اور آزاد صحافتی ماحول کے فروغ کی یقین دہانی اپنی جگہ، لیکن صحافتی تنظیموں اور صحافیوں کے اٹھائے گئے سوالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ تحفظ، قانونی کارروائی، ملازمت کے استحکام اور آزادی اظہار کے حوالے سے عملی اقدامات کیتفصیلات بھی سامنے لائی جائیں۔
قانون کیا کہتا ہے؟
سپریم کورٹ کے وکیل محمد قاسم مندوخیل کے مطابق اگر کوئی صحافی خوف، دھمکیاں عدم تحفظ کے باعث اپنی رپورٹ تبدیل کرنے یا اسے روکنے پر مجبور ہو تو اسے محض صحافی کی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ نظام کی ناکامی بھی ہو سکتی ہے۔
قاسم مندوخیل کہتے ہیں کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار اور آزادی صحافت سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 9 جان و آزادی کے تحفظ اور آرٹیکل 4 قانون کے مطابق سلوک اور قانونی تحفظ کی ضمانت سے متعلق ہے۔
ان کے مطابق، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کو غیر قانونی دبائو، دھمکیوں اور جبر سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کرے اور آزادی صحافت کو محدود کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
قانونی تحفظ کی ضمانتیں اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم ان کا موثر ہونا اس بات سے مشروط ہے کہ خطرات کی بروقت نشاندہی ہو، شکایات پر کارروائی کی جائے، قتل اور حملوں کے مقدمات کی شفاف تفتیش ہو اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
عبدالواحد رئیسانی کے قتل کو پانچ سال گزر چکے ہیں۔ ان کے اہل خانہ کے لیےیہ معاملہ صرف ایک مقدمے کا نہیں بلکہ ان سوالات کا بھی ہے جو گرفتاریوں کے دعووں، عدالتی کارروائی اور تیسرے ملزم کی عدم گرفتاری کے حوالے سے باقی ہیں۔


