خضدارکلرکس ہائوسنگ سکیم خضدار پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد 2007 سے جاری فلاحی منصوبہ ہے600 ملازمین کی جمع پونجی سے وابستہ ہے ڈپٹی کمشنراور ایم پی اے خضدارپربے بنیاد الزامات مسترد، ایپکاخضدار

خضدار(بیورورپورٹ) آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) خضدارکے صدر منظور نوشاد، سنیئیرنائب ثناءاللہ جام، جنرل سیکٹریری محمد اسلم زہری، سابق صدر صابرحسین قلندرانی، محمد جان ودیگرنے کلرکس ہاو¿سنگ سکیم خضدار کےمتعلق خضدار پریس کلب رجسٹرڈ میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے گزشتہ روز لگائے گئے تمام الزامات کو حقائق اور سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں مسترد کر دیا انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں کسی کی کردار کشی کے لیے نہیں بلکہ حقائق عوام کے سامنے رکھنے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ کلرکس ہاو¿سنگ سکیم کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے بلکہ 2007 سے اس پر باقاعدہ کام جاری ہے زمین کی نشاندہی، منصوبہ بندی پلاٹنگ قرعہ اندازی اور الاٹمنٹ کے تمام مراحل قانون کے مطابق مکمل کیے گئے ہیں۔ تقریباً 600 ملازمین اور ان کے خاندان اس سے وابستہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس میں لگائی ہےزمین کی ملکیت کے دعوے پر انہوں نے کہا کہ ہماری زمین سرکاری ریونیو ریکارڈ انتقالات اور الاٹمنٹ کی بنیاد پر مختص ہےکسی دوسرے موضع کے ریکارڈ کی بنیاد پر موضع تیغ کی زمین پر حق جتانا قانونی طور پر درست نہیں ہے اگر کسی کے پاس مستند دستاویزات ہیں تو وہ متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کرےڈپٹی کمشنر خضدار پر دکانیں لینے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام سراسر بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے ڈپٹی کمشنر ضلع کا انتظامی سربراہ ہوتا ہےوہ اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر چند دکانوں کے لیے اپنے منصب کو داو¿ پر نہیں لگائے گا 2007 سے آج تک خضدار میں تعینات تمام ڈپٹی کمشنرز نے اس فلاحی منصوبے میں تعاون کیا ہے ہم ان سب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایم پی اے میر یونس عزیز زہری پر زمین پر قبضہ کرکے مارکیٹ بنانے کے الزام کی بھی تردید کی گئی ہے اورکہا گیا کہ نہ میر یونس عزیز زہری نے ہم سے زمین مانگی اور نہ ہم نے انہیں ایک فٹ زمین الاٹ کی ہے انہوں نے انکشاف کیا کہ 2018 2019 2021 2022 اور 2026 میں بھی ہماری تعمیر کردہ دیواروں اور تعمیرات کو مسمار کیاگیاجس پر ہم نے ہمیشہ قانونی فورم سے رجوع کیا 60 دکانوں کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہاگیا کہ یہ دکانیں کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں دنیا کی ہر ہاو¿سنگ سکیم میں کمرشل ایریا ہوتا ہے یہ 60 دکانیں تنظیم اور سکیم کی مشترکہ ملکیت ہیں جنہیں کرایہ پر دے کر اس کی آمدنی سے ہاو¿سنگ اسکیم کے جملہ ترقیاتی کام کیے جائیں گےآخر میں انہوں نے حکومت بلوچستان کمشنر قلات ڈپٹی کمشنر خضدار اور محکمہ ریونیو سے مطالبہ کیا کہ سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں شفاف تحقیقات کی جائیں ترقیاتی کام میں غیر قانونی مداخلت روکی جائے اور 600 غریب ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے