شنگھائی ٹاور اور ریور کروز کا سفر
تحریر: حسن بٹ
آج میں نے شنگھائی کے دو سب سے مشہور اور خوبصورت مقامات کا دورہ کیا ایک شنگھائی ٹاور جو آسمان کو چھوتی ہوئی عمارت ہے اور دوسرا ہوانگ پو ریور کروز جو شنگھائی کی روح کو دکھاتا ہے یہ دونوں جگہیں الگ الگ ہیں لیکن دونوں مل کر شنگھائی کی اصل شان کو بیان کرتی ہیں ایک طرف انسان کی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بلندی ہے اور دوسری طرف اس شہر کی تاریخ، تہذیب اور محبت بھری روشنیاں ہیں۔ جب میں لوجیازوئی کی طرف نکلا تو دور سے ہی شنگھائی ٹاور نظر آ گیا یہ عمارت دور سے ایسی لگتی ہے جیسے کوئی بڑا سا شیشے کا ڈریگن آسمان کی طرف جا رہا ہو۔ جتنا قریب جاتا گیا اتنا ہی اس کی عظمت کا اندازہ ہوتا گیا لوگ اس کے نیچے کھڑے تصویریں لے رہے تھے بچے خوش تھے اور ہر شخص اس کی بلندی کو دیکھ کر حیران تھا۔شنگھائی ٹاور صرف ایک عمارت نہیں ہے یہ چین کی ترقی کی نشانی ہے اس کا کام 2008 میں شروع ہوا اور 2015 میں مکمل ہوا اس کی اونچائی 632 میٹر ہے اور اس میں 128 منزلیں ہیں۔ یہ چین کی سب سے اونچی اور دنیا کی دوسری سب سے اونچی عمارت ہے اس کا ڈیزائن دنیا کے مشہور آرکیٹیکٹ گینسلر نے بنایا تھا اس کا ڈیزائن مڑا ہوا ہے یعنی یہ نیچے سے اوپر تک 120 ڈگری گھومتی ہے یہ ڈیزائن صرف خوبصورتی کے لئے نہیں بنایا گیا اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے ہوا کا دباؤ 24 فیصد تک کم ہو جاتا ہے جس سے عمارت کو طوفان میں بھی خطرہ نہیں ہوتا۔ اس کے باہر شیشے کی دو دیواریں ہیں جن کے درمیان ہوا گزرتی ہے اور عمارت کو ٹھنڈا رکھتی ہے اس لئے اس کو گرین بلڈنگ بھی کہا جاتا ہے۔اس عمارت کے اندر 9 حصے ہیں جن کو ورٹیکل سٹی کہا جاتا ہے ہر حصے میں دفاتر، ریسٹورنٹ اور دکانیں ہیں۔ جب میں اندر داخل ہوا تو سب سے پہلے اس کی خوبصورت لابی نے دل جیت لیا روشنی، صفائی اور سکون ایسا تھا کہ لگ رہا تھا جیسے کسی اور دنیا میں آ گیا ہوں۔ پھر میں نے 118ویں منزل پر گیا لفٹ میں ایک عجیب سا جوش تھا یہ لفٹ دنیا کی سب سے تیز لفٹ میں سے ایک ہے جو 18 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے۔ صرف 55 سیکنڈ میں ہم 118ویں منزل پر تھے۔ کانوں میں ہلکا سا دباؤ محسوس ہوا لیکن ڈر نہیں لگا جب لفٹ کا دروازہ کھلا تو سامنے جو منظر تھا وہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔اوپر سے پورا شنگھائی ایک تصویر کی طرح لگ رہا تھا۔ نیچے ہوانگ پو دریا سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا گزر رہا تھا۔ اورینٹل پرل ٹاور، جن ماؤ ٹاور اور شنگھائی ورلڈ فنانشل سینٹر بالکل چھوٹے لگ رہے تھے دور دور تک عمارتیں ہی عمارتیں نظر آ رہی تھیں۔ ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی اور شیشے سے باہر دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ میں بادلوں کے اوپر کھڑا ہوں۔میں نے وہاں بہت سی تصویریں لیں لوگ خوش تھے کوئی اپنے بچوں کو دکھا رہا تھا کوئی اپنی فیملی کے ساتھ سیلفی لے رہا تھا۔ وہاں ایک شیشے کا فرش بھی تھا جہاں کھڑے ہو کر نیچے دیکھنا دل کو دھڑکا دیتا تھا لیکن یہ ڈر بھی ایک مزہ تھا۔شنگھائی ٹاور کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ انسان اگر محنت اور لگن سے کام کرے تو آسمان کو بھی چھو سکتا ہے چین نے 30 سال میں اس شہر کو ایک چھوٹے سے مچھلی پکڑنے والے گاؤں سے دنیا کے سب سے بڑے فنانشل سینٹر میں بدل دیا ہے اور شنگھائی ٹاور اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔شام ہوتے ہی میں نے دوسرا سفر شروع کیا ہوانگ پو ریور کروز ہوانگ پو دریا شنگھائی کی ماں کی طرح ہے۔ اس دریا نے ہی شنگھائی کو بنایا ہے پہلے یہ دریا صرف مچھلی پکڑنے اور سامان لے جانے کے لئے استعمال ہوتا تھا، لیکن آج یہ شنگھائی کی شان ہے۔یہ دریا شنگھائی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ایک طرف پوکسی جو پرانا شنگھائی ہے اور دوسری طرف پوڈونگ جو نیا شنگھائی ہے پوکسی کی طرف دی بنڈ ہے جہاں 100 سال پرانی یورپی طرز کی عمارتیں ہیں اور پوڈونگ کی طرف نئی اور اونچی عمارتیں ہیں رات کو جب دونوں طرف کی لائٹس جلتی ہیں تو یہ دریا ایک شیشے کی طرح چمکنے لگتا ہے۔کروز دی بنڈ سے شروع ہوتا ہے ٹکٹ تقریباً 100 سے 150 یوآن تک ہوتا ہے اگر آپ وی آئی پی ڈیک لینا چاہیں تو تھوڑا مہنگا ہوتا ہے میں نے شام والی کروز لی تاکہ دن اور رات دونوں کا منظر دیکھ سکوں۔جب کروز چلی تو ٹھنڈی ہوا نے چہرے کو چھوا اور دل کو سکون ملا آہستہ آہستہ دی بنڈ کی پرانی عمارتیں پیچھے رہ گئیں اور سامنے لوجیازوئی کی روشن عمارتیں آ گئیں۔ شنگھائی ٹاور،اورینٹل پرل ٹاور اور تمام عمارتوں پر رنگ برنگی لائٹس جل رہی تھیں۔ پانی میں ان کا عکس دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ دریا میں بھی ایک اور شہر بسا ہوا ہےکروز پر گائیڈ چینی اور انگریزی میں ہر عمارت کی تاریخ بتا رہا تھا۔کروز تقریباً 1 گھنٹہ چلتی ہے اس دوران میں نے تصویریں لیں اور صرف اس منظر کو آنکھیں بند کر کے محسوس کیا۔ کچھ لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ تھے کچھ دوستوں کے ساتھ اور سب کے چہروں پر خوشی تھی رات کو جب کروز واپس آئی تو شنگھائی اور بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔شنگھائی ٹاور نے مجھے بلندی کا احساس دلایا اور ریور کروز نے مجھے گہرائی کا۔ٹاور سے میں نے شنگھائی کو اوپر سے دیکھا اور کروز سے میں نے اس کو دل سے محسوس کیاایک نے مجھے بتایا کہ انسان کتنی ترقی کر سکتا ہے اور دوسرے نے بتایا کہ تاریخ کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔اگر کوئی شنگھائی آئے اور یہ دونوں جگہیں نہ دیکھے تو اس کا سفر ادھورا ہے۔میرا مشورہ ہے کہ دن میں شنگھائی ٹاور دیکھیں اور رات کو ریور کروز کریں۔ اس سے آپ کو شنگھائی کے دو الگ روپ دیکھنے کو ملیں گے۔آج کا دن میرے لئے صرف ایک وزٹ نہیں تھا یہ ایک سیکھ تھی میں نے سیکھا کہ ترقی اور تاریخ دونوں ساتھ چل سکتی ہیں۔ شنگھائی نے اپنی پرانی عمارتوں کو گرایا نہیں، ان کو سنبھال کر رکھا اور ان کے سامنے نئی دنیا بنا دی۔ یہی اس شہر کی اصل کامیابی ہے۔جو لوگ شنگھائی آنے کا سوچ رہے ہیں ان سے میں کہوں گا کہ ضرور آئیں، شنگھائی ٹاور پر کھڑے ہو کر دنیا کو دیکھیں اور ہوانگ پو دریا پر کروز کرکے اس شہر کی محبت کومحسوس کریں یہ یادیں ہمیشہ دل میں رہیں گی۔


