صحافی بنا مکینک، ’کوئٹہ میں صحافت سے گھر نہیں چلتا‘
عامر باجوئی
محمد عرفان اسلام آباد سے پبلش ہونے والے روزنامہ ڈسٹرکٹ کے کوئٹہ میں بیوروچیف تھے اخبار نے کوئٹہ میں اپنا بیورو آفس بند کر دیا تو عرفان روزنامہ صحافت کوئٹہ میں بطور ایڈیٹر کام کرنے لگے کچھ عرصہ بعد انہیں یہاں سے بھی فارغ کردیا وہ اب خبریں لکھنے کے بجائے گاڑیاں مرمت کرتے ہیں۔
عرفان کہتے ہیں حالات اس قدر خراب ہوئے کہ صحافت چھوڑ کر گاڑیوں کا مکینک بننا پڑا اب شکر ہے گزر بسر ممکن ہوا ہے لیکن صحافت کا جنون برقرار ہے بلوچستان میں اگر میڈیا کے حالات بہتر ہوتے ہیں تو میری کوشش ہوگی کہ اپنے اصل پیشے کی طرف واپس جاؤں۔”
بلوچستان میں میڈیا روز بروز زبوں حالی کا شکار ہوتا جارہا ہے جہاں دنیا بھرمیں میڈیا سے وابستہ افراد ترقی کررہے ہیں تو یہاں بلوچستان میں جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں یا ملازمت کو الوداع کہہ رہے ہیں۔
کوئٹہ صوبے کا واحد شہر ہے جہاں نیشنل الیکٹرانک میڈیا کے بیوروآفسز اور دفاتر موجود ہیں تاہم اب ان بیورو آفسز میں سے دس سے زائد بند ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے کئی صحافی بے روزگار ہوگئے ہیں صحافیوں سمیت دوسو کے قریب دوسرے ملازمین کے گھروں کے چولھے بھی ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔
کوئٹہ میں موجود ڈان ٹی وی، کپیٹل چینل، روز نیوز، بول نیوز، 24 ٹی وی، جی این این، اے بی این، پبلک ٹی وی، کے بیورو آفس بند ہوچکے ہیں اس کے علاوہ آج ٹی وی بندش کا نوٹس جاری کردیا 92 ٹی وی نے اپنے بیورو آفس کو دو کمروں میں شفٹ کردیا ہے جبکہ اب تک ٹی وی بھی تقریبا بند ہوچکا ہے سوائے جیو نیوز، سماء ٹی وی اور اے آر وائی نیوز باقی تمام بیورو آفسز بند یا متاثر ہیں ان تین چینلوں کی بجٹ میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔
اخبارات کا حال بھی صوبے میں یہی ہے چند سال قبل تک کوئٹہ سے 500 کے قریب اخبارات پبلش ہوتے تھے تاہم اب ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشن شپ آفس میں 120 سے زائد اخبار نہیں پہنچتے۔
بلوچستان یونین آف جرنسلٹ کے صدرمنظور احمد کہتے ہیں بلوچستان کو میڈیا میں ترجیح نہیں دیا جارہا ہے کیوں کہ میڈیا مالکان کا مقصد یہاں موجود نہیں ہے اگر صحافت مقصد ہوتو بلوچستان میں میڈیا کی اہمیت زیادہ ہے اور یہاں ہر ڈویژن میں بیورو آفس کی ضرورت ہے گوادر جیسے اہمیت کے حامل شہر بھی نظر انداز ہیں۔
مدثر محمود ان نوجوانوں میں شامل ہیں جنہوں نے والد کے شعبے کا انتخاب کرکے بڑے شوق کے ساتھ میڈیا اسٹڈی میں ڈگری حاصل کی کوئٹہ میں بطور رپورٹر چار سال تک صحافت سے وابستہ رہے تاہم میڈیا کی زبوں حالی سے تنگ آکر اس شعبہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
مدثر کا بتانا ہے کہ ”صحافت کا انتخاب میرا شوق تھا چونکہ میرے والد سینئر صحافی تھے اور ان کی سوچ کو لیکر میں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی چند سال اس فیلڈ سے وابستہ رہا پھر ایک ایسا وقت آیا کہ حالات بہتر ہونے کے بجائے یہاں دفاتر بند ہونا شروع ہوگئے کئی لوگ بے روزگار ہوگئے مجھے بھی مجبورا ملازمت کو ساتھ یہ پیشہ تک تبدیل کرنا پڑگیا، اب میں کبھی واپس میڈیا کی طرف نہیں آؤنگا چاہے کتنا ہی اچھا موقع دستیاب کیوں نہ ہو”۔
بلوچستان میں چند سال قبل صرف ضلعی رپورٹر بے روزگار تھےاب اس کے اثرات کوئٹہ تک پہنچ چکے ہیں کوئٹہ بیورو آفسز سے کئی اضلاع میں اہم تقاریب کو کوریج دیا جاتا تھا اور یہی بیورو آفسز خبروں کے لیے پورے صوبے میں خدمات سرانجام دیتے تھے تھے لیکن اب کوئٹہ میں بھی یہ محدود ہوگئے ہیں۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹ اور کوئٹہ پریس کلب کے صحافیوں نے کئی بار بیورو آفسز کی بندش کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروائے ہیں حکومت اور سیاسی پارٹیز کو آگاہ کرتے رہے ہیں بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کئے ہیں اور حکومت جانب سے کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سابقہ بیورچیف و سنیئر فری لانس صحافی ظفر بلوچ کے مطابق ” صوبے میں ہر روز صحافی بے روزگار ہورہے ہیں یہاں میڈیا کے لیے کوئی کاروبار نہیں ہے چینلزکو اشتہار اور بزنس نہیں ملتا اور چینل مالکان بھی یہی کہتے ہیں کہ بلوچستان سے ہمیں ایک اشتہار نہیں ملتا”۔
”پیمرا رولز کے مطابق تمام صوبوں میں بیورو آفسز تمام صوبوں میں ہونے چاہئے اگر بلوچستان میں نہیں ہیں تو وہ چینلز نیشنل چینلزنہیں کہلاتے ہیں اس پر پیمرا کو نوٹس لینا چاہئے۔”
بقول ظفر بلوچ ”بلوچستان میں صحافی بے روزگار ہونے کہ وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں انٹرنیٹ نہیں ہے سینسر شپ زیادہ ہے ٹارگٹ کلنگ کا بھی خطرہ ہے اور جدت کے بعد اب اے آئی کا دور ہے جینلز کو جو نیوز درکار ہیں اس جدت کے ساتھ صحافی کو اپنا معیار بہتر کرنا چاہئے ویسے بلوچستان میں صحافی رکھنا اب چینلز کی ضرورت نہیں۔”
”یونینز اور تنظیمیں صرف مذمت تک محدود ہیں اس کی واضح مثال یہ ہے کہ تربت پریس کلب میں ایک وفد کا دورہ ہوتا ہے مگر اس دوران صحافیوں کو پریس کلب میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا اس لیے کہ یہاں صحافی اب کمزور پڑ گئے ہیں ا۔ حکومت کی جانب کسی بھی سطح اس کا حل تلاش نہیں کیا جارہا ”۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”بلوچستان میں صحافیوں کی اب ضرورت باقی نہیں رہی ہے چونکہ اسلام آباد کے صحافیوں کو چند گھنٹے میں صوبے کے کسی علاقے میں پہنچا کر مرضی کی رپورٹنگ کروائی جاتی ہے۔”
بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کے وہ اخبارات پبلش ہوتے نظر آتے ہیں جو ڈیجیٹل میڈیا پر ایکٹو ہیں اور ڈیجیٹل میڈیا کی مدد سے اپنے اخبارات پبلش کرتے ہیں ۔ یہ نوبت اس لیے آئی کہ یہاں پسند اور نا پسند کی بنیاد پر میڈیا اداروں کو اشتہارات اور مالی مدد دی جاتی ہے ان خیالات کا اظہار کوئٹہ کے نامور اخبار کے بانی نے نام نہ بتانے کی شرط پر کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ”کوئٹہ سے جو سینکڑوں اخبارات پبلش ہوتے تھے اب سو کے قریب ہوکر رہ گئے ہیں مگر یہاں بلوچستان کی آبادی کے لیے صرف پانچ سے چھ اخبارات کافی ہیں جو حقیقت میں پڑھے جاتے ہیں اور باقی اخبارات ان بااثر افراد کے ہیں جو صرف اشتہارات کی حد تک پبلش ہوتے ہیں۔”
کوئٹہ پریس کلب کے جنرل سیکریٹری و نجی چینل کے بیوروچیف ایوب ترین نے کوئٹہ بیوروآفسز بند ہونے کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا
ان کے مطابق ”ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مالی وجوہات کے باعث بیورو آفسز بند کیے جا رہے ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں یہ ترجیح کی بات ہے اور اگر مالی معاملہ ہے تو باقی صوبوں میں بیورو آفس کروڑوں روپے ماہانہ بجٹ کے باوجود قائم ہیں جبکہ یہاں لاکھوں روپے بجٹ کے بیوروآفسز بند کردیئے گئے ہیں۔”
روزنامہ آزادی اخبار کے ذمہ دار و سنیئر ایڈیٹر طارق بلوچ کا کہنا ہے کہ ”بلوچستان میں بزنس ہے نہیں اور حکومت بلوچستان سارے ٹی وی چینلز اور بیوروآفس کو سپورٹ نہیں کرسکتی ہے پرنٹ میڈیا کی زبوں حالی کی وجہ مہنگائی ہے اشتہارات کی پالیسی بھی تبدیل ہوگئی ہے تو اخبارات کا آمدن کافی کم ہوا ہے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اخبارات فروخت بھی نہیں ہوتے ہیں”۔
حکومتی پالیسی جاننے کے لیے ہم ترجمان حکومت بلوچستان اور معاون وزیرداخلہ سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی مگر موجودہ حالات کی وجہ سے انکی جانب سےکوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔ بلوچستان میں میڈیا پالیسی سے متعلق صحافیوں کے لیے کوئی خاطر خواہ قوانین، پالیسی نظر نہیں آتے ہیں تاہم کسی صحافی کی بیماری اور فوت ہونے کی صورت میں ایک بار مختصر سا فنڈ جاری کیا جاتا ہے۔
سنیئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کا بتانا ہے کہ ”مالکان سمجھتے ہیں کہ بلوچستان سے ہمیں اشتہار نہیں ملتا لیکن باقی صوبوں کے کے اشتہارات والے پروڈکٹس یہاں بھی فروخت تو ہوتے ہیں تو انہیں کی خبروں کو بھی ترجیح دینا چاہئے مگر یہ مالی مسئلہ کوئی خاص جواز نہیں ہے۔”
”اخبارات کا یہی حال ہے ملک کے مقبول اخبارات کےبیوروآفس بند ہوئے ہیں کئی نامور اخبارات کے رپورٹرز تک یہاں نہیں ہے نامور اخبارات کے دفاتر میں رپورٹرز ہی ایڈیٹرز ہیں جو خبریں لکھنے کے ساتھ اخبار بناتے ہیں۔’
کوئٹہ میں محمد عرفان اور مدثر محمود جیسے کئی ایسے صحافی ہیں جو یہ فیلڈ چھوڑ کر کئی اور کام کرنے لگے ہیں اورکسی بھی صورت اس فیلڈ دوبارہ کام کرنے کے جستجو نہیں رکھتے ہیں بلکہ میڈیا سائنسز کے ان کے ڈگری بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں دلا سکے ایسے حالات میں حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ صحافیوں کے درپیش مسائل کو حل کرنے میں کردار ادا کرے اگرنوجوان نسل اس جدت کے باوجود میڈیا میں اپنا مستقبل میں روشن نہیں دیکھ پا رہا ہے تو میڈیا کو مزید کسی جانب دھکیلنے کے لیے بجائے بحال کرنے کیا کوشش کی جائے۔


